صحافیوں میں اقدار اور سچ لکھنے کا حوصلہ ہونا چاہیے مقررین
میڈیا ہائوسز بہتر ہورہے ہیں،کمال صدیقی،ورکشاپ کا انعقاد خوش آئند ہے،جی ایم جمالی
انٹر میڈیا اور آئی ایل او کی ورکشاپ سے عمران شیروانی، ضیغم خان، رابعہ رزاق کااظہارخیال. فوٹو: فائل
میڈیا کے نمائندوں میں صحافتی اقدار کو سمجھتے ہوئے مکمل سچ لکھنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔
معاشرے میں تبدیلی کیلیے سماجی مسائل کا ادراک، تحقیق وجستجو اور تعصبات سے بلند ہوکر غیرجانبدارانہ رپورٹنگ ناگزیر ہے، ان خیالات کا اظہار مقررین نے مقامی ہوٹل میں صنف اور محنت کے مسائل کی رپورٹنگ پرمنعقدہ تین روزہ ورکشاپ کے اختتامی اسیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ورکشاپ کا انعقاد انٹر میڈیا پاکستان نے عالمی ادارہ محنت کے اشتراک سے کیا گیا ، سینئر صحافی عمران شیروانی نے کہا کہ معاشرے میں تبدیلی لانے کیلیے ضروری ہے کہ صحافی حضرات پہلے اپنے اندر تبدیلی لائیں، انھیں اپنے پیشے کی اہمیت، نزاکت، ذمے داری کا احساس اور چیلنجز قبول کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔
رپورٹرز کیلیے ضروری ہے کہ اسٹوری مکمل کرنے کیلیے وہ 5Wsاور 1,Hکے جوابات کو یقینی بنائیں، اچھی صحافت کیلیے لازمی ہے کہ حقائق اور آرا میں فرق کا ادراک ہو، تنقیدی سوچ میں مہارت ، اور صحافتی اخلاقیات باالخصوص صنفی رپورٹنگ کے حوالے سے واقفیت ہو، نمائندہ انٹر میڈیا ضیغم خان نے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، متعدد صحافی اب تک شہید ہوچکے ہیں، یہ سرکاری اداروں کا کام ہے کہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرے تاہم میڈیا کے نمائندوں کو اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بہتری کیلیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
ایڈیٹر ایکپسریس ٹریبیون کمال صدیقی نے کہا کہ بڑے میڈیا ہائوسز قوانین و ضوابط کے حوالے سے بہتری کی جانب جارہے اور بالآخر اس کے حوصلہ افزا نتائج چھوٹے میڈیا ہائوسز پر بھی رونما ہونگے، انھوں نے کہا کہ ہمارے گروپ میں خواتین صحافیوں کو مثالی ماحول فراہم کیا گیا ہے اور انھیں کام کرنے کے بہترین مواقع دیے گئے ہیں، تمام اداروں میں خواتین ورکرز کو بہتر ماحول فراہم کرنے کیلیے خصوصی اقدامات اٹھانے چاہئیں،کراچی یونین آف جرنلسٹ کے صدر جی ایم جمالی نے کہاکہ صحافیوں کی تربیت کیلیے اس طرح کی ورکشاپ کا انعقاد خوش آئند ہے۔
معاشرے میں خرابیوں کو جڑ سے اکھاڑنے کیلیے صحافیوں کو اپنے پیشے سے مخلص اور ذمے داریوں سے آگاہ ہونا بہت ضروری ہے،نمائندہ عالمی ادارہ محنت رابعہ رزاق نے کہا کہ صحافیوں کیلیے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد بہت ضروری ہے اور اس ضمن میں آئی ایل او کا تعاون ہمیشہ فراہم کیا جاتا رہے گا، پاکستان فیڈریشن یونین آف جرنلسٹ کے سیکریٹری جنرل امین یوسف نے کہا کہ انٹرمیڈیا کے ساتھ پی ایف یو جے کا تعاون تین سال سے جاری ہے جس کے تحت ملک کے چھوٹے بڑے کئی اضلاع میں صحافیوں کی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ہے، اس قسم کی تربیتی ورکشاپ سے صحافیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، ورکشاپ کے اختتام پر مہمان خصوصی کراچی یونین آف جرنلسٹ کے صدر جی ایم جمالی نے تربیت حاصل کرنے والے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے۔
معاشرے میں تبدیلی کیلیے سماجی مسائل کا ادراک، تحقیق وجستجو اور تعصبات سے بلند ہوکر غیرجانبدارانہ رپورٹنگ ناگزیر ہے، ان خیالات کا اظہار مقررین نے مقامی ہوٹل میں صنف اور محنت کے مسائل کی رپورٹنگ پرمنعقدہ تین روزہ ورکشاپ کے اختتامی اسیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ورکشاپ کا انعقاد انٹر میڈیا پاکستان نے عالمی ادارہ محنت کے اشتراک سے کیا گیا ، سینئر صحافی عمران شیروانی نے کہا کہ معاشرے میں تبدیلی لانے کیلیے ضروری ہے کہ صحافی حضرات پہلے اپنے اندر تبدیلی لائیں، انھیں اپنے پیشے کی اہمیت، نزاکت، ذمے داری کا احساس اور چیلنجز قبول کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔
رپورٹرز کیلیے ضروری ہے کہ اسٹوری مکمل کرنے کیلیے وہ 5Wsاور 1,Hکے جوابات کو یقینی بنائیں، اچھی صحافت کیلیے لازمی ہے کہ حقائق اور آرا میں فرق کا ادراک ہو، تنقیدی سوچ میں مہارت ، اور صحافتی اخلاقیات باالخصوص صنفی رپورٹنگ کے حوالے سے واقفیت ہو، نمائندہ انٹر میڈیا ضیغم خان نے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، متعدد صحافی اب تک شہید ہوچکے ہیں، یہ سرکاری اداروں کا کام ہے کہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرے تاہم میڈیا کے نمائندوں کو اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بہتری کیلیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
ایڈیٹر ایکپسریس ٹریبیون کمال صدیقی نے کہا کہ بڑے میڈیا ہائوسز قوانین و ضوابط کے حوالے سے بہتری کی جانب جارہے اور بالآخر اس کے حوصلہ افزا نتائج چھوٹے میڈیا ہائوسز پر بھی رونما ہونگے، انھوں نے کہا کہ ہمارے گروپ میں خواتین صحافیوں کو مثالی ماحول فراہم کیا گیا ہے اور انھیں کام کرنے کے بہترین مواقع دیے گئے ہیں، تمام اداروں میں خواتین ورکرز کو بہتر ماحول فراہم کرنے کیلیے خصوصی اقدامات اٹھانے چاہئیں،کراچی یونین آف جرنلسٹ کے صدر جی ایم جمالی نے کہاکہ صحافیوں کی تربیت کیلیے اس طرح کی ورکشاپ کا انعقاد خوش آئند ہے۔
معاشرے میں خرابیوں کو جڑ سے اکھاڑنے کیلیے صحافیوں کو اپنے پیشے سے مخلص اور ذمے داریوں سے آگاہ ہونا بہت ضروری ہے،نمائندہ عالمی ادارہ محنت رابعہ رزاق نے کہا کہ صحافیوں کیلیے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد بہت ضروری ہے اور اس ضمن میں آئی ایل او کا تعاون ہمیشہ فراہم کیا جاتا رہے گا، پاکستان فیڈریشن یونین آف جرنلسٹ کے سیکریٹری جنرل امین یوسف نے کہا کہ انٹرمیڈیا کے ساتھ پی ایف یو جے کا تعاون تین سال سے جاری ہے جس کے تحت ملک کے چھوٹے بڑے کئی اضلاع میں صحافیوں کی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ہے، اس قسم کی تربیتی ورکشاپ سے صحافیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، ورکشاپ کے اختتام پر مہمان خصوصی کراچی یونین آف جرنلسٹ کے صدر جی ایم جمالی نے تربیت حاصل کرنے والے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے۔