افضل گورو کی زندگی علم فن اور مزاحمت سے عبارت تھی
افضل غالب کا دیوانہ تھا، بیٹے کا نام بھی غالب رکھا، اہلیہ، بچپن میں گانے کا شوقین تھا، والدہ
افضل غالب کا دیوانہ تھا، بیٹے کا نام بھی غالب رکھا، اہلیہ، بچپن میں گانے کا شوقین تھا، والدہ۔ فوٹو : فائل
افضل گورو کی زندگی علم، فن اور مزاحمت سے عبارت تھی۔ 43 سالہ افضل گورو شمالی قصبہ سوپور کے ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
انھوں نے مقامی اسکول سے 1986 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ سوپور کے مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ میں سے ہائر سکینڈری کا امتحان پاس کیا۔ میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور اپنے والد کا خواب پورا کرنے میں مصروف ہو گئے۔ جب کشمیر میں 1990 کے آس پاس مسلح شورش شروع ہوئی تو افضل ایم بی بی ایس کے تھرڈ ایئر میں تھے۔ افضل کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اسی دوران سری نگر کے نواحی علاقے چھانہ پورہ میں انڈین فورسز نے کریک ڈاؤن کے دوران متعدد خواتین کے ساتھ مبینہزیادتی کا واقعہ ہوا تو اس واقعے نے انھیں شدید دھچکا پہنچایا، چنانچہ انھوں نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کر لی۔
مظفرآباد میں ہتھیاروں کی تربیت کے بعد واپس لوٹے تو تنطیم کے عسکری حکمت عملی کے سربراہ بن گئے۔ بعد ازاں وہ سب کچھ چھوڑ کر دلی چلے گئے اور یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور ایم اے اکنامکس کیا، ان کی شادی بارہ مولہ کی تبسّم کے ساتھ ہوئی۔ افضل گورو کی والدہ بیگم حبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ سکول کے دنوں میں صرف گانا بجانا افضل گورو کا شوق تھا۔ افضل گورو کی بیگم تبسم کا کہنا ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ انقلابی ذہنیت کے لوگ شاعری میں اقبال کو چاہتے ہیں لیکن افضل تو غالب کا دیوانہ تھا۔
میں ملاقات کیلیے جاتی تو غالب کا کوئی نہ کوئی شعر سناتے، ہمارا بیٹا ہوا تو انھوں نے اس کا نام غالب رکھا۔ افضل گورو کے بیٹے غالب افضل کا کہنا ہے کہ میں کل ٹی وی پر بھی بولا کہ میرے بابا کو چھوڑ دو، وہ واپس آئیں گے تو پھر میں کبھی دلی نہیں جانے دوں گا۔ بڑے بھائی ہلال احمد نے بتایا کہ افضل بچپن میں بڑا شرمیلا تھا، بھارتی فورسز کے لڑکیوں سے اجتماعی ریپ نے اسے ہلاکر رکھ دیا۔ دوست محمد رفیق نے بتایا کہ افضل گورو اپنی سخاوت کیلئے علاقے میں کافی مشہور تھا، بھارتی فوج کے شدید تشدد نے اسے عسکریت پسندی کی طرف دھکیلا۔
انھوں نے مقامی اسکول سے 1986 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ سوپور کے مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ میں سے ہائر سکینڈری کا امتحان پاس کیا۔ میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور اپنے والد کا خواب پورا کرنے میں مصروف ہو گئے۔ جب کشمیر میں 1990 کے آس پاس مسلح شورش شروع ہوئی تو افضل ایم بی بی ایس کے تھرڈ ایئر میں تھے۔ افضل کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اسی دوران سری نگر کے نواحی علاقے چھانہ پورہ میں انڈین فورسز نے کریک ڈاؤن کے دوران متعدد خواتین کے ساتھ مبینہزیادتی کا واقعہ ہوا تو اس واقعے نے انھیں شدید دھچکا پہنچایا، چنانچہ انھوں نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کر لی۔
مظفرآباد میں ہتھیاروں کی تربیت کے بعد واپس لوٹے تو تنطیم کے عسکری حکمت عملی کے سربراہ بن گئے۔ بعد ازاں وہ سب کچھ چھوڑ کر دلی چلے گئے اور یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور ایم اے اکنامکس کیا، ان کی شادی بارہ مولہ کی تبسّم کے ساتھ ہوئی۔ افضل گورو کی والدہ بیگم حبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ سکول کے دنوں میں صرف گانا بجانا افضل گورو کا شوق تھا۔ افضل گورو کی بیگم تبسم کا کہنا ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ انقلابی ذہنیت کے لوگ شاعری میں اقبال کو چاہتے ہیں لیکن افضل تو غالب کا دیوانہ تھا۔
میں ملاقات کیلیے جاتی تو غالب کا کوئی نہ کوئی شعر سناتے، ہمارا بیٹا ہوا تو انھوں نے اس کا نام غالب رکھا۔ افضل گورو کے بیٹے غالب افضل کا کہنا ہے کہ میں کل ٹی وی پر بھی بولا کہ میرے بابا کو چھوڑ دو، وہ واپس آئیں گے تو پھر میں کبھی دلی نہیں جانے دوں گا۔ بڑے بھائی ہلال احمد نے بتایا کہ افضل بچپن میں بڑا شرمیلا تھا، بھارتی فورسز کے لڑکیوں سے اجتماعی ریپ نے اسے ہلاکر رکھ دیا۔ دوست محمد رفیق نے بتایا کہ افضل گورو اپنی سخاوت کیلئے علاقے میں کافی مشہور تھا، بھارتی فوج کے شدید تشدد نے اسے عسکریت پسندی کی طرف دھکیلا۔