پاناما کیس کا تاریخ ساز فیصلہ
بلاشبہ عدالتی فیصلے کا اعلان سب نے صبر سے سنااور سب نے ہی عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا
بلاشبہ عدالتی فیصلے کا اعلان سب نے صبر سے سنااور سب نے ہی عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ۔ فوٹو: فائل
ملکی تاریخ کے اہم ترین پاناما کیس کا حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے جمعہ کو ساڑھے گیارہ بجے صبح سنا دیا، جس کے تحت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ نے متقفقہ طور پر وزیراعظم نوازشریف کو تاحیات نااہل قرار دیا، عدالتی فیصلہ میں کہا گیا کہ نواز شریف فوری طور پر وزرات عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دیں، عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو 6 ہفتہ میں جے آئی ٹی رپورٹ پر نواز شریف کے خلاف ریفرنس دائر کیا، اسی عدالتی بینچ نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز، حسین نواز، صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی ریفرنس داخل کیا جائے۔
بلاشبہ عدالتی فیصلے کا اعلان سب نے صبر سے سنااور سب نے ہی عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔بعد میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بھنگڑے ڈالے اور مٹھائیاں تقسیم کیں، ملکی و عالمی سطح پر جمہوریت پسندوں نے اسے پاکستان کی سیاست میں قانون کی حکمرانی کی طرف ایک صائب اور فیصلہ کن پیش قدمی قرار دیا۔ ملک کے مختلف طبقات نے اسے آزاد عدلیہ کی جانب سے عظیم اور تاریخ ساز فیصلے سے تعبیر کیا جب کہ جمہوری ثمرات سے محروم، مہنگائی اور کرپشن سے بیزار اور عاجز عوامی حلقوں نے فیصلہ کے تناظر میں اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ اب ملک بہتر اور شفاف حکمرانی کی طرف سفر کے قابل ہوگا، کیونکہ عدلیہ اب ایک آہنی اور قانونی دیوار بن کر عدم شفافیت اور بدعنوانی کے درمیان حائل ہوگی، اپوزیشن جماعتوں نے اسے کرپشن، حکمرانی کی عدم شفافیت، اداروں کی شکست و ریخت اور اربوں کی جائیدادیں اور دولت کی ریل پیل کی روک تھام میں بڑی پیشرفت کہا ہے۔
یاد رہے جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل 3رکنی عملدرآمد بنچ کے روبرو جے آئی ٹی نے 10 جولائی کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی، عدالت نے 5سماعتوں کے دوران رپورٹ پر فریقین کے اعتراضات سنے اور 21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ پاناما پیپرز کا معاملہ گزشتہ سال اپریل میں سامنے آیا، جس نے ملکی سیاست میں بھونچال برپا کردیا، حزب اختلاف نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا لیکن انھوں نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تحقیقاتی کمیشن کے ضوابط کار کی تشکیل کے لیے بھی طویل نشستیں ہوئیں لیکن کوئی حل نہ نکل سکا، اس موقع پر تحریک انصاف سڑکوں پر نکل آئی اور 2 نومبر کو اسلام آباد کے لاک ڈاؤن کی کال دی، اس دوران عمران خان، سراج الحق اور شیخ رشید کی جانب سے سپریم کورٹ میں وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسین نواز، حسن نواز، مریم نواز، کیپٹن صفدر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی نااہلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت درخواستیں دائر کردی گئیں، جنھیں ابتدا میں رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگاکر واپس کردیا تاہم بعد ازاں سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے اعتراضات ختم کرتے ہوئے اپنی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل فل بنچ کے روبرو سماعت کے لیے مقررکردیا، 20 اکتوبر 2016ء کو پہلی سماعت کی گئی اور تمام فریقوں کو نوٹس جاری کردیے گئے۔
28 اکتوبر کو سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس امیرہانی مسلم، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ تشکیل دے کر مزید سماعت یکم نومبر کو مقرر کر دی گئی، لارجر بنچ نے 9 سماعتیں کیں لیکن 9 دسمبر 2016ء کو سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ کے باعث کیس کی سماعت نئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے یکم جنوری 2017ء کو حلف لینے تک ملتوی کردی گئی۔ اسی سماعت پر تحریک انصاف عدالتی کمیشن بنانے کے مطالبہ سے منحرف ہوگئی۔
موجودہ چیف جسٹس نے حلف اٹھاتے ہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں نیا 5 رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا جس نے 4 جنوری 2017ء کو کیس کی پہلی سماعت کی، مسلسل 26 سماعتیں کرنے کے بعد 23 فروری کو فیصلہ محفوظ کرلیا، کیس کا عبوری فیصلہ 57 روز بعد 20 اپریل کو جاری کیا گیا، جس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے وزیراعظم کو نااہل کرنے کا فیصلہ سنایا، جب کہ 3 ججز نے مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا، 5 مئی کو تشکیل پانے والی جے آئی ٹی نے 8 مئی سے کام کا آغاز کرنے کے بعد 63 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کیں، اس دوران 3 عبوری رپورٹس بھی پیش کی گئیں، جب کہ حسین نواز کی طرف سے جے آئی ٹی میں ویڈیو ریکارڈنگ اور تصویر لیک ہونے کا معاملہ اور نہال ہاشمی کی متنازعہ تقریر پر ازخود نوٹس کیس کی سماعتیں بھی عملدرآمد بنچ کے سامنے ہوئیں، یوں 50سماعتوںکے بعد یہ معاملہ ملکی عدالتی تاریخ میں چشم کشا اور منطقی انجام کو پہنچا۔
دریں اثنا فیصلہ کے قانونی پہلوؤں پر مختلف آرا بھی سامنے آئی ہیں، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی ظفر نے پاناما کیس کے متوقع فیصلہ کے حوالے سے کہا کہ ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں سپریم کورٹ نے براہ راست بھی نااہل قرار دیا ہے، ماہر قانون کامران مرتضٰی نے کہا ہے کہ پاناما کیس میں جو کچھ ہوا ہے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی، جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہا ہے کہ تین ججوں کے پاس آپشن تھے، دو ججوں نے پہلے جو فیصلہ دیا تھا اس میں انھوں نے باقاعدہ ہدایت دی تھی کہ وزیراعظم کے رکن اسمبلی نہ رہنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے۔ سینئر قانون دان بابر ستار نے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا فیصلہ آیا جس میں تین ججوں نے مختلف دستاویزات دیکھی ہوں گی اور دو ججوں نے مختلف۔ تاہم عدالتی فیصلہ کو خاموش اکثریت کی جانب سے بڑی پذیرائی ملی۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا کہ مجھ پر فوج کے ساتھ سازباز کرکے اقتدار حاصل کرنے کے الزامات غلط ہیں، میں نے نہ پہلے ایسا کیا ہے اور نہ آیندہ کبھی فوج کے ساتھ سازباز کرکے اقتدار کے حصول کی خواہش ہے، انتخابی سیاست میں سیاسی خاندانوں کو ساتھ ملانا ضروری ہے، ایک ہزار حلقوں میں انتخاب لڑنا ہے اور ان سب حلقوں کے لیے نئے لوگ لانا ممکن نہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت برقرار رکھنے میں سب سے زیادہ دلچسپی مجھے ہی ہے، انھوں نے سوال کیا کہ جمہوریت کا مجھ سے زیادہ بڑا سٹیک ہولڈر پاکستان میں اور کون ہے؟
عدالتی فیصلہ کا ایک مستحسن پہلو حکمران مسلم لیگ ن کی قیادت کا فوری اور محتاط ردعمل تھا جو ہوشمندانہ تھا اور جسے جمہوری حلقوں میں ضرور سراہا جائے گا، جب کہ کسی قسم کی مہم جوئی، تصادم پر آمادگی، فیصلہ سے اضطراب یا بحران پیدا نہ کرنے کا عندیہ دے کر مسلم لیگی رہنماؤں نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے، یہ تدبر تادیر قائم رہنا چاہیے۔
پاناما کیس مسلم لیگی قیادت کا سب سے بڑا امتحان ثابت ہوا ہے، ذرایع کا کہنا تھا کہ پاناما کیس میں وزیراعظم نوازشریف اور خاندان کے دیگر افراد کی آف شور کمپنیاں سامنے آنے کے بعد شروع ہونے والی قانونی اور سیاسی لڑائی جب اپنے نکتہ عروج پر پہنچ گئی تو اچانک یہ خبر آئی کہ عدالت عظمیٰ کا پانچ رکنی لارجر بنچ اس اہم مقدمہ کا فیصلہ سنائے گا۔ اس سے پہلے خیال تھاکہ فیصلہ تین رکنی عملدرآمد بنچ سنائے گا، چنانچہ یہ اطلاع شریف فیملی کی قانونی ٹیم کے لیے ایک دھچکا ثابت ہوئی، قانونی ٹیم کے ایک سینئر رکن نے پانچ رکنی لارجر بنچ کی جانب سے فیصلہ سنانے پر تعجب کا اظہار بھی کیا، تاہم تحریک انصاف کی قانونی ٹیم پہلے ہی دعویٰ کررہی تھی کہ فیصلہ لارجر بنچ ہی سنائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اصولی طور پر پہلے ہی قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں چوہدری نثار کی پریس کانفرنس اور پاناما کیس کے فیصلے کے حوالے سے مشاورت کی گئی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعظم کی نااہلی کے باوجود جمہوری عمل جاری رہے گا، حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ مسلم لیگ (ن) اپنا نیا وزیراعظم منتخب کرے گی۔
بہرکیف اب جب کہ پاناما کیس کا جمودشکن فیصلہ آچکا ہے، جو پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ میں قانون کی بالادستی کا یادگار دن ہے مگر ساتھ ہی یہ ن لیگ اور تمام مقتدر سیاسی جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے، عدالتی فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم ہونا جمہوریت کی جیت ہوگی۔ تب ہی اس کے اثرات و مضمرات پر پاکستان کے آیندہ سیاسی کلچر کی نئی صورت گری ممکن ہو گی، اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا، تمام ریاستی اداروں کو جمہوریت کے استحکام، شفاف اور کرپشن سے پاک نظام کو یقینی بنانے کے لیے ایک نئے میثاق کی ضرورت ہے۔
ملک کو ہمہ جہتی خطرات اور ڈھکے چھپے دشمنوں کا سامنا ہے جس کا مقابلہ حکومت اور سیاستدان مل کر ہی کرسکتے ہیں۔ اسی میں ملک وقوم کا مفاد ہے۔بہر حال پاناما کیس کے حوالے سے جو فیصلہ آیا ہے' اس کے مستقبل کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے' پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کا یہ کہنا ہے کہ بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف احتساب کا عمل جاری رہنا چاہیے اور معاشرے کے تمام طبقات کا بلا امتیاز احتساب کیا جانا چاہیے' پاکستان کی بقا اور ترقی کے لیے ایسا کیا جانا انتہائی ضروری ہے' سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دے کر ثابت کر دیا ہے کہ ملک کی عدلیہ آزاد ہے اور بڑے سے بڑا فیصلہ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بلاشبہ عدالتی فیصلے کا اعلان سب نے صبر سے سنااور سب نے ہی عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔بعد میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بھنگڑے ڈالے اور مٹھائیاں تقسیم کیں، ملکی و عالمی سطح پر جمہوریت پسندوں نے اسے پاکستان کی سیاست میں قانون کی حکمرانی کی طرف ایک صائب اور فیصلہ کن پیش قدمی قرار دیا۔ ملک کے مختلف طبقات نے اسے آزاد عدلیہ کی جانب سے عظیم اور تاریخ ساز فیصلے سے تعبیر کیا جب کہ جمہوری ثمرات سے محروم، مہنگائی اور کرپشن سے بیزار اور عاجز عوامی حلقوں نے فیصلہ کے تناظر میں اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ اب ملک بہتر اور شفاف حکمرانی کی طرف سفر کے قابل ہوگا، کیونکہ عدلیہ اب ایک آہنی اور قانونی دیوار بن کر عدم شفافیت اور بدعنوانی کے درمیان حائل ہوگی، اپوزیشن جماعتوں نے اسے کرپشن، حکمرانی کی عدم شفافیت، اداروں کی شکست و ریخت اور اربوں کی جائیدادیں اور دولت کی ریل پیل کی روک تھام میں بڑی پیشرفت کہا ہے۔
یاد رہے جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل 3رکنی عملدرآمد بنچ کے روبرو جے آئی ٹی نے 10 جولائی کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی، عدالت نے 5سماعتوں کے دوران رپورٹ پر فریقین کے اعتراضات سنے اور 21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ پاناما پیپرز کا معاملہ گزشتہ سال اپریل میں سامنے آیا، جس نے ملکی سیاست میں بھونچال برپا کردیا، حزب اختلاف نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا لیکن انھوں نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تحقیقاتی کمیشن کے ضوابط کار کی تشکیل کے لیے بھی طویل نشستیں ہوئیں لیکن کوئی حل نہ نکل سکا، اس موقع پر تحریک انصاف سڑکوں پر نکل آئی اور 2 نومبر کو اسلام آباد کے لاک ڈاؤن کی کال دی، اس دوران عمران خان، سراج الحق اور شیخ رشید کی جانب سے سپریم کورٹ میں وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسین نواز، حسن نواز، مریم نواز، کیپٹن صفدر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی نااہلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت درخواستیں دائر کردی گئیں، جنھیں ابتدا میں رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگاکر واپس کردیا تاہم بعد ازاں سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے اعتراضات ختم کرتے ہوئے اپنی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل فل بنچ کے روبرو سماعت کے لیے مقررکردیا، 20 اکتوبر 2016ء کو پہلی سماعت کی گئی اور تمام فریقوں کو نوٹس جاری کردیے گئے۔
28 اکتوبر کو سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس امیرہانی مسلم، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ تشکیل دے کر مزید سماعت یکم نومبر کو مقرر کر دی گئی، لارجر بنچ نے 9 سماعتیں کیں لیکن 9 دسمبر 2016ء کو سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ کے باعث کیس کی سماعت نئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے یکم جنوری 2017ء کو حلف لینے تک ملتوی کردی گئی۔ اسی سماعت پر تحریک انصاف عدالتی کمیشن بنانے کے مطالبہ سے منحرف ہوگئی۔
موجودہ چیف جسٹس نے حلف اٹھاتے ہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں نیا 5 رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا جس نے 4 جنوری 2017ء کو کیس کی پہلی سماعت کی، مسلسل 26 سماعتیں کرنے کے بعد 23 فروری کو فیصلہ محفوظ کرلیا، کیس کا عبوری فیصلہ 57 روز بعد 20 اپریل کو جاری کیا گیا، جس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے وزیراعظم کو نااہل کرنے کا فیصلہ سنایا، جب کہ 3 ججز نے مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا، 5 مئی کو تشکیل پانے والی جے آئی ٹی نے 8 مئی سے کام کا آغاز کرنے کے بعد 63 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کیں، اس دوران 3 عبوری رپورٹس بھی پیش کی گئیں، جب کہ حسین نواز کی طرف سے جے آئی ٹی میں ویڈیو ریکارڈنگ اور تصویر لیک ہونے کا معاملہ اور نہال ہاشمی کی متنازعہ تقریر پر ازخود نوٹس کیس کی سماعتیں بھی عملدرآمد بنچ کے سامنے ہوئیں، یوں 50سماعتوںکے بعد یہ معاملہ ملکی عدالتی تاریخ میں چشم کشا اور منطقی انجام کو پہنچا۔
دریں اثنا فیصلہ کے قانونی پہلوؤں پر مختلف آرا بھی سامنے آئی ہیں، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی ظفر نے پاناما کیس کے متوقع فیصلہ کے حوالے سے کہا کہ ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں سپریم کورٹ نے براہ راست بھی نااہل قرار دیا ہے، ماہر قانون کامران مرتضٰی نے کہا ہے کہ پاناما کیس میں جو کچھ ہوا ہے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی، جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہا ہے کہ تین ججوں کے پاس آپشن تھے، دو ججوں نے پہلے جو فیصلہ دیا تھا اس میں انھوں نے باقاعدہ ہدایت دی تھی کہ وزیراعظم کے رکن اسمبلی نہ رہنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے۔ سینئر قانون دان بابر ستار نے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا فیصلہ آیا جس میں تین ججوں نے مختلف دستاویزات دیکھی ہوں گی اور دو ججوں نے مختلف۔ تاہم عدالتی فیصلہ کو خاموش اکثریت کی جانب سے بڑی پذیرائی ملی۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا کہ مجھ پر فوج کے ساتھ سازباز کرکے اقتدار حاصل کرنے کے الزامات غلط ہیں، میں نے نہ پہلے ایسا کیا ہے اور نہ آیندہ کبھی فوج کے ساتھ سازباز کرکے اقتدار کے حصول کی خواہش ہے، انتخابی سیاست میں سیاسی خاندانوں کو ساتھ ملانا ضروری ہے، ایک ہزار حلقوں میں انتخاب لڑنا ہے اور ان سب حلقوں کے لیے نئے لوگ لانا ممکن نہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت برقرار رکھنے میں سب سے زیادہ دلچسپی مجھے ہی ہے، انھوں نے سوال کیا کہ جمہوریت کا مجھ سے زیادہ بڑا سٹیک ہولڈر پاکستان میں اور کون ہے؟
عدالتی فیصلہ کا ایک مستحسن پہلو حکمران مسلم لیگ ن کی قیادت کا فوری اور محتاط ردعمل تھا جو ہوشمندانہ تھا اور جسے جمہوری حلقوں میں ضرور سراہا جائے گا، جب کہ کسی قسم کی مہم جوئی، تصادم پر آمادگی، فیصلہ سے اضطراب یا بحران پیدا نہ کرنے کا عندیہ دے کر مسلم لیگی رہنماؤں نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے، یہ تدبر تادیر قائم رہنا چاہیے۔
پاناما کیس مسلم لیگی قیادت کا سب سے بڑا امتحان ثابت ہوا ہے، ذرایع کا کہنا تھا کہ پاناما کیس میں وزیراعظم نوازشریف اور خاندان کے دیگر افراد کی آف شور کمپنیاں سامنے آنے کے بعد شروع ہونے والی قانونی اور سیاسی لڑائی جب اپنے نکتہ عروج پر پہنچ گئی تو اچانک یہ خبر آئی کہ عدالت عظمیٰ کا پانچ رکنی لارجر بنچ اس اہم مقدمہ کا فیصلہ سنائے گا۔ اس سے پہلے خیال تھاکہ فیصلہ تین رکنی عملدرآمد بنچ سنائے گا، چنانچہ یہ اطلاع شریف فیملی کی قانونی ٹیم کے لیے ایک دھچکا ثابت ہوئی، قانونی ٹیم کے ایک سینئر رکن نے پانچ رکنی لارجر بنچ کی جانب سے فیصلہ سنانے پر تعجب کا اظہار بھی کیا، تاہم تحریک انصاف کی قانونی ٹیم پہلے ہی دعویٰ کررہی تھی کہ فیصلہ لارجر بنچ ہی سنائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اصولی طور پر پہلے ہی قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں چوہدری نثار کی پریس کانفرنس اور پاناما کیس کے فیصلے کے حوالے سے مشاورت کی گئی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعظم کی نااہلی کے باوجود جمہوری عمل جاری رہے گا، حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ مسلم لیگ (ن) اپنا نیا وزیراعظم منتخب کرے گی۔
بہرکیف اب جب کہ پاناما کیس کا جمودشکن فیصلہ آچکا ہے، جو پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ میں قانون کی بالادستی کا یادگار دن ہے مگر ساتھ ہی یہ ن لیگ اور تمام مقتدر سیاسی جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے، عدالتی فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم ہونا جمہوریت کی جیت ہوگی۔ تب ہی اس کے اثرات و مضمرات پر پاکستان کے آیندہ سیاسی کلچر کی نئی صورت گری ممکن ہو گی، اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا، تمام ریاستی اداروں کو جمہوریت کے استحکام، شفاف اور کرپشن سے پاک نظام کو یقینی بنانے کے لیے ایک نئے میثاق کی ضرورت ہے۔
ملک کو ہمہ جہتی خطرات اور ڈھکے چھپے دشمنوں کا سامنا ہے جس کا مقابلہ حکومت اور سیاستدان مل کر ہی کرسکتے ہیں۔ اسی میں ملک وقوم کا مفاد ہے۔بہر حال پاناما کیس کے حوالے سے جو فیصلہ آیا ہے' اس کے مستقبل کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے' پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کا یہ کہنا ہے کہ بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف احتساب کا عمل جاری رہنا چاہیے اور معاشرے کے تمام طبقات کا بلا امتیاز احتساب کیا جانا چاہیے' پاکستان کی بقا اور ترقی کے لیے ایسا کیا جانا انتہائی ضروری ہے' سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دے کر ثابت کر دیا ہے کہ ملک کی عدلیہ آزاد ہے اور بڑے سے بڑا فیصلہ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔