بورڈ میں بھی اب تبدیلی آنی چاہیے
اگر نجم سیٹھی بھی چلے گئے تو خدانخواستہ لیگ ختم تھوڑی ہو جائے گی۔
گزشتہ دنوں سابق آئی سی سی صدر احسان مانی کا نام سامنے آیا تھا۔ فوٹو: فائل
HYDERABAD:
ملک میں جمعے کا دن خاصا ہنگامہ خیزگذرا ، حسب توقع وزیر اعظم نواز شریف پاناما کیس کی زد میں آ کر نااہل قرار پائے، اتفاق سے جب اسلام آباد میں اس کیس کا فیصلہ سنایا جا رہا تھا اسی وقت لاہور میں پی سی بی گورننگ بورڈ کا اجلاس بھی جاری تھا، جمعرات کو جب یہ اعلان ہوا کہ فیصلہ اگلے روز آئے گا تو بورڈ کے بعض بڑے سخت پریشان ہو گئے۔
ان کے ساتھ موجود شخصیات نے بتایا کہ کچھ لوگوں کے چہروں سے تو ہوائیاں اڑ رہی تھیں،اگلے روز میٹنگ میں حسب توقع ''ربڑ اسٹیمپ'' گورننگ بورڈ نے بڑوں کی ہاں میں ہاں ملائی اور تمام فیصلے منظور ہو گئے،صرف صدر کے سی سی اے پروفیسر اعجاز فاروقی نے ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں ٹیموں کا انتخاب ڈرافٹ سسٹم سے کرنے پر آواز اٹھائی، مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی، ہر برس ڈومیسٹک سیٹ اپ میں نت نئے تجربات کرنے والے شکیل شیخ جب کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہوئے تو مجبوراً انھیں واک آؤٹ کرنا پڑا، بعد میں طے یہ پایا کہ12کے بجائے 10کھلاڑی ڈرافٹ سے منتخب جبکہ دیگر 10ریجنز کے ہوںگے۔
افسوس اس وقت کسی اور نے اس فیصلے پر احتجاج نہ کیا، چیئرمین شہریارخان بھی جاتے جاتے کسی سے مخالفت مول لینے کے موڈ میں نہ تھے، یوں اب کھلاڑی اپنے ریجنز سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کو بھی ترسیںگے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ریجنز پر اقربا پروری اور سیاست کا الزام لگا کر یہ تبدیلی کی گئی مگر اس حوالے سے سب سے زیادہ انگلیاں تو خوداسلام آباد اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے شکیل شیخ پر ہی اٹھتی ہیں، پی سی بی جس طرح پیسہ اڑا رہا ہے اس سے جلد دیوالیہ ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
بھارت سے ایک فیصد بھی توقع نہیں کہ وہ زرتلافی دے گا نہ ہی آئی سی سی میں اتنی ہمت ہے کہ اسے مجبور کر سکے،پھر بھی اس پر بجٹ میں ایک ارب روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی،اسی طرح ایک ارب روپے سے زائد سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی کی تزئین وآرائش ہو رہی ہے جبکہ وہاں انٹرنیشنل میچز ہونے کا مستقبل قریب میں کوئی امکان نہیں، یقیناً اسٹیڈیم کا حال بہت خراب ہے، میں خود کئی بار اس کی نشاندہی کر چکا مگر ایک ارب بہت بڑی رقم ہوتی ہے، بنیادی تزئین و آرائش اس سے کافی کم رقم میں ہونا ممکن تھی، نجانے اتنے پیسے پھونکنے کا راز کیا ہے۔
ابھی میں نے شہریارخان اور نجم سیٹھی کی پریس کانفرنس کی آڈیو سنی، میڈیا نے نجم سیٹھی سے تابڑ توڑ سوال کیے مگر وہ اسی پر بضد رہے کہ وزیر اعظم کے جانے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، حالانکہ فرق ضرور پڑتا ہے، سب جانتے ہیںکہ نواز شریف ان کے کتنے قریب تھے، وہ پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ بن چکے، پھر پی سی بی میں چیئرمین بنا کر لایا گیا، قانونی مسائل کے سبب اس عہدے پر برقرار نہ رہ سکے تو طاقتور ایگزیکٹیو کمیٹی کا چیف بنا کر شہریارخان کو کھل کر کام نہ کرنے دیا، اب گورننگ بورڈ میں تین سالہ مدت مکمل ہونے پر وزیر اعظم سے دوبارہ اپنا تقرر کرا لیا اور چیئرمین بننے کیلیے پر تول رہے ہیں، سابق وزیر اعظم پر کرپشن کے کئی الزامات ہیں۔
جتنی عجلت میں ان سے نئے گورننگ بورڈ ارکان کا نوٹیفکیشن جاری کرایا گیا وہ بھی معنیٰ خیز تھا، اب سیٹھی صاحب کے باس نہیں رہے تو ان کے بھی بڑی پوسٹ پر رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا، ملک میں تبدیلی آ چکی کرکٹ بورڈ میں بھی آنے دیں، آپ پی ایس ایل کی کامیابی کا اکثر ذکر کرتے ہیں مگر یہ بھی تو یاد رکھیں کہ اسپاٹ فکسنگ کیس سے کتنی بدنامی ہوئی، اچھا خاصا ایف آئی اے کیس کی تحقیقات کرنے والی تھی اسے بھی رکوا دیا،پہلے بھی مثال دی تھی کہ للت مودی نے آئی پی ایل شروع کی اب وہ نہیں ہیں مگر ایونٹ کامیابی سے جاری ہے۔
اگر نجم سیٹھی بھی چلے گئے تو خدانخواستہ لیگ ختم تھوڑی ہو جائے گی، ہو سکتا ہے کہ نئے لوگ اسے اور کامیاب بنا دیں، بورڈ کے اخراجات بے تحاشا بڑھ چکے ہیں، کل ہی میرے دوست یحییٰ حسینی بتا رہے تھے کہ سالانہ 2 ارب خرچ ہوتے ہیں، ان میں سے آدھی رقم تو900 سے زائد ملازمین کی تنخواہوں پر صرف ہو جاتی ہے۔
آمدنی کچھ ہے نہیں اور آفیشلز کے تفریحی غیرملکی دوروں پر بھی کروڑوں روپے پھونکے جاتے ہیں، پھر ہم آئی سی سی سے امید رکھتے ہیں کہ وہ کوئی مدد کرے، ایسا کیسے ممکن ہے؟ اب وقت آ چکا کہ پی سی بی سے سفارشی ملازمین کی چھٹی کردی جائے، نیا چیئرمین کسی وزیر اعظم کا دوست نہ ہو بلکہ میرٹ پر آئے، اس کا کرکٹ سے تعلق ہونا چاہیے۔
گزشتہ دنوں سابق آئی سی سی صدر احسان مانی کا نام سامنے آیا تھا، میں یہ نہیں کہتا کہ بورڈ کی سربراہی انھیں سونپ دیں مگر ان جیسی کسی تجربہ کار شخصیت کو سامنے لانا چاہیے، ظہیر عباس، ماجد خان و دیگر بھی اس پوسٹ کو سنبھال سکتے ہیں، اس وقت تو افسوس کی بات یہ ہے کہ گورننگ بورڈ میں کوئی بھی کرکٹر موجود نہیں، جو لوگ زندگی بھر سبز کیپ سر پر نہ سجا سکے وہ ملکی کرکٹ کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔
ان سے زیادہ افسوس ان سابق کرکٹرز پر ہوتا ہے جو مصلحتاً خاموش رہتے ہیں، نوکری یا کوئی اور مراعات لینے کے بعد ان کے سارے اصول سو جاتے تھے، اسی لیے حکام کو من مانی کا موقع ملتا ہے،ماضی کے تجربات تو یہ بتاتے ہیں کہ فی الحال کرکٹ بورڈ میں شاید کوئی بڑی تبدیلی نہ آ سکے، البتہ ملک کی عدالتیں آزاد ہیں، حالیہ فیصلہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
نجم سیٹھی کی تقرری کے حوالے سے بھی کیس عدالت میں ہے، شاید وہاں سے کوئی اچھی خبر سامنے آ جائے، ملک میں ابھی تبدیلی کی لہر اٹھی ہے اس کا فائدہ ہونا چاہیے، پچھلے تین سال میں کرکٹ کا جتنا بُرا حال ہوا اسے نہ بھولیں، صرف چیمپئنز ٹرافی کی فتح کے پیچھے تمام خامیاں نہیں چھپائی جا سکتیں،امید پر دنیا قائم ہے، شاید ملک کی طرح بورڈ میں بھی کوئی تبدیلی آ جائے اور ہماری کرکٹ دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔
ملک میں جمعے کا دن خاصا ہنگامہ خیزگذرا ، حسب توقع وزیر اعظم نواز شریف پاناما کیس کی زد میں آ کر نااہل قرار پائے، اتفاق سے جب اسلام آباد میں اس کیس کا فیصلہ سنایا جا رہا تھا اسی وقت لاہور میں پی سی بی گورننگ بورڈ کا اجلاس بھی جاری تھا، جمعرات کو جب یہ اعلان ہوا کہ فیصلہ اگلے روز آئے گا تو بورڈ کے بعض بڑے سخت پریشان ہو گئے۔
ان کے ساتھ موجود شخصیات نے بتایا کہ کچھ لوگوں کے چہروں سے تو ہوائیاں اڑ رہی تھیں،اگلے روز میٹنگ میں حسب توقع ''ربڑ اسٹیمپ'' گورننگ بورڈ نے بڑوں کی ہاں میں ہاں ملائی اور تمام فیصلے منظور ہو گئے،صرف صدر کے سی سی اے پروفیسر اعجاز فاروقی نے ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں ٹیموں کا انتخاب ڈرافٹ سسٹم سے کرنے پر آواز اٹھائی، مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی، ہر برس ڈومیسٹک سیٹ اپ میں نت نئے تجربات کرنے والے شکیل شیخ جب کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہوئے تو مجبوراً انھیں واک آؤٹ کرنا پڑا، بعد میں طے یہ پایا کہ12کے بجائے 10کھلاڑی ڈرافٹ سے منتخب جبکہ دیگر 10ریجنز کے ہوںگے۔
افسوس اس وقت کسی اور نے اس فیصلے پر احتجاج نہ کیا، چیئرمین شہریارخان بھی جاتے جاتے کسی سے مخالفت مول لینے کے موڈ میں نہ تھے، یوں اب کھلاڑی اپنے ریجنز سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کو بھی ترسیںگے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ریجنز پر اقربا پروری اور سیاست کا الزام لگا کر یہ تبدیلی کی گئی مگر اس حوالے سے سب سے زیادہ انگلیاں تو خوداسلام آباد اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے شکیل شیخ پر ہی اٹھتی ہیں، پی سی بی جس طرح پیسہ اڑا رہا ہے اس سے جلد دیوالیہ ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
بھارت سے ایک فیصد بھی توقع نہیں کہ وہ زرتلافی دے گا نہ ہی آئی سی سی میں اتنی ہمت ہے کہ اسے مجبور کر سکے،پھر بھی اس پر بجٹ میں ایک ارب روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی،اسی طرح ایک ارب روپے سے زائد سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی کی تزئین وآرائش ہو رہی ہے جبکہ وہاں انٹرنیشنل میچز ہونے کا مستقبل قریب میں کوئی امکان نہیں، یقیناً اسٹیڈیم کا حال بہت خراب ہے، میں خود کئی بار اس کی نشاندہی کر چکا مگر ایک ارب بہت بڑی رقم ہوتی ہے، بنیادی تزئین و آرائش اس سے کافی کم رقم میں ہونا ممکن تھی، نجانے اتنے پیسے پھونکنے کا راز کیا ہے۔
ابھی میں نے شہریارخان اور نجم سیٹھی کی پریس کانفرنس کی آڈیو سنی، میڈیا نے نجم سیٹھی سے تابڑ توڑ سوال کیے مگر وہ اسی پر بضد رہے کہ وزیر اعظم کے جانے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، حالانکہ فرق ضرور پڑتا ہے، سب جانتے ہیںکہ نواز شریف ان کے کتنے قریب تھے، وہ پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ بن چکے، پھر پی سی بی میں چیئرمین بنا کر لایا گیا، قانونی مسائل کے سبب اس عہدے پر برقرار نہ رہ سکے تو طاقتور ایگزیکٹیو کمیٹی کا چیف بنا کر شہریارخان کو کھل کر کام نہ کرنے دیا، اب گورننگ بورڈ میں تین سالہ مدت مکمل ہونے پر وزیر اعظم سے دوبارہ اپنا تقرر کرا لیا اور چیئرمین بننے کیلیے پر تول رہے ہیں، سابق وزیر اعظم پر کرپشن کے کئی الزامات ہیں۔
جتنی عجلت میں ان سے نئے گورننگ بورڈ ارکان کا نوٹیفکیشن جاری کرایا گیا وہ بھی معنیٰ خیز تھا، اب سیٹھی صاحب کے باس نہیں رہے تو ان کے بھی بڑی پوسٹ پر رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا، ملک میں تبدیلی آ چکی کرکٹ بورڈ میں بھی آنے دیں، آپ پی ایس ایل کی کامیابی کا اکثر ذکر کرتے ہیں مگر یہ بھی تو یاد رکھیں کہ اسپاٹ فکسنگ کیس سے کتنی بدنامی ہوئی، اچھا خاصا ایف آئی اے کیس کی تحقیقات کرنے والی تھی اسے بھی رکوا دیا،پہلے بھی مثال دی تھی کہ للت مودی نے آئی پی ایل شروع کی اب وہ نہیں ہیں مگر ایونٹ کامیابی سے جاری ہے۔
اگر نجم سیٹھی بھی چلے گئے تو خدانخواستہ لیگ ختم تھوڑی ہو جائے گی، ہو سکتا ہے کہ نئے لوگ اسے اور کامیاب بنا دیں، بورڈ کے اخراجات بے تحاشا بڑھ چکے ہیں، کل ہی میرے دوست یحییٰ حسینی بتا رہے تھے کہ سالانہ 2 ارب خرچ ہوتے ہیں، ان میں سے آدھی رقم تو900 سے زائد ملازمین کی تنخواہوں پر صرف ہو جاتی ہے۔
آمدنی کچھ ہے نہیں اور آفیشلز کے تفریحی غیرملکی دوروں پر بھی کروڑوں روپے پھونکے جاتے ہیں، پھر ہم آئی سی سی سے امید رکھتے ہیں کہ وہ کوئی مدد کرے، ایسا کیسے ممکن ہے؟ اب وقت آ چکا کہ پی سی بی سے سفارشی ملازمین کی چھٹی کردی جائے، نیا چیئرمین کسی وزیر اعظم کا دوست نہ ہو بلکہ میرٹ پر آئے، اس کا کرکٹ سے تعلق ہونا چاہیے۔
گزشتہ دنوں سابق آئی سی سی صدر احسان مانی کا نام سامنے آیا تھا، میں یہ نہیں کہتا کہ بورڈ کی سربراہی انھیں سونپ دیں مگر ان جیسی کسی تجربہ کار شخصیت کو سامنے لانا چاہیے، ظہیر عباس، ماجد خان و دیگر بھی اس پوسٹ کو سنبھال سکتے ہیں، اس وقت تو افسوس کی بات یہ ہے کہ گورننگ بورڈ میں کوئی بھی کرکٹر موجود نہیں، جو لوگ زندگی بھر سبز کیپ سر پر نہ سجا سکے وہ ملکی کرکٹ کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔
ان سے زیادہ افسوس ان سابق کرکٹرز پر ہوتا ہے جو مصلحتاً خاموش رہتے ہیں، نوکری یا کوئی اور مراعات لینے کے بعد ان کے سارے اصول سو جاتے تھے، اسی لیے حکام کو من مانی کا موقع ملتا ہے،ماضی کے تجربات تو یہ بتاتے ہیں کہ فی الحال کرکٹ بورڈ میں شاید کوئی بڑی تبدیلی نہ آ سکے، البتہ ملک کی عدالتیں آزاد ہیں، حالیہ فیصلہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
نجم سیٹھی کی تقرری کے حوالے سے بھی کیس عدالت میں ہے، شاید وہاں سے کوئی اچھی خبر سامنے آ جائے، ملک میں ابھی تبدیلی کی لہر اٹھی ہے اس کا فائدہ ہونا چاہیے، پچھلے تین سال میں کرکٹ کا جتنا بُرا حال ہوا اسے نہ بھولیں، صرف چیمپئنز ٹرافی کی فتح کے پیچھے تمام خامیاں نہیں چھپائی جا سکتیں،امید پر دنیا قائم ہے، شاید ملک کی طرح بورڈ میں بھی کوئی تبدیلی آ جائے اور ہماری کرکٹ دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔