بھارت سے زرِ تلافی کا حصول بورڈ پیسہ پانی کی طرح بہانے کیلیے تیار
مذاکرات اور آئی سی سی عہدیداروں کی موجودگی میں بات چیت ناکام ہونے پرتنازع کمیٹی میں کیس دائرکر دیا،شہریار
بنگلادیش نے دورہ نہ کیا تو پاکستانی ٹیم بھی نہیں جائے گی، معافی مانگنے تک افغانستان کے ساتھ کرکٹ روابط بحال نہیں کیے جائیں گے۔ فوٹو؛ فائل
پی سی بی بھارت سے زرتلافی وصول کرنے کی مہم پر پیسہ پانی کی طرح بہانے پر تیار ہے، اس حوالے سے سالانہ بجٹ میں ایک ارب روپے سے زائد رقم مختص کر دی گئی۔
پی سی بی گورننگ بورڈ کا اجلاس گزشتہ روز نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہوا، بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے کہا کہ بھارت کے ساتھ باہمی کرکٹ شروع نہ ہونے پر افسوس ہے، بی سی سی آئی نے ہر بار یہی کہاکہ ہم کھیلنا چاہتے ہیں لیکن حکومت اجازت نہیں دے رہی، قانونی چارہ جوئی کا ایک طریقہ کار ہے، ہم نے پہلے نوٹس بھجوایا، پھر مذاکرات کا تقاضا پورا کیا، اگلا مرحلہ آئی سی سی کے عہدیداروں کی موجودگی میں بات چیت کا تھا، تینوں کوششوں میں ناکامی کے بعد اب آئی سی سی تنازع کمیٹی میں کیس کر دیا ہے۔
شہریار خان نے کہا کہ بھارت سے ہرجانہ وصول کرنے کیلیے ابتدائی اقدامات بھی گورننگ بورڈ کی مشاورت سے اٹھائے تھے،اس بار بھی ارکان کو اعتماد میں لیا، میرا دور ختم ہورہا ہے لیکن سیریز نہ کھیلنے پر بھارت کیخلاف کارروائی جاری رہے گی۔
ادھر ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی نے بتایا کہ بھارت کیخلاف قانونی چارہ جوئی کیلیے بجٹ میں ایک ارب سے زائد رقم مختص کی گئی ہے، وکلا وغیرہ کی خدمات کیلیے بھاری اخراجات کی ضرورت ہوگی۔
شہریار خان نے دیگر موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کو کئی مرتبہ پاکستان آ کر کھیلنے کی دعوت دے چکے ہیں، پاکستانی ٹیم2بار پڑوسی ملک کا دورہ کرچکی،بی سی بی سے کہا تھا کہ مختصرسیریز کیلیے دورہ کریں۔ دوسری صورت میں ہماری ٹیم نہیں آئے گی،انھوں نے مثبت جواب نہیں دیا، افغانستان نے باہمی کرکٹ روابط بڑھانے کیلیے بات چیت کے اگلے روز ہی کابل میں دہشت گردی کے بعد متنازع بیان دیدیا۔
گورننگ بورڈ نے کہا ہے کہ افغانستان کی جانب سے معافی مانگنے تک کرکٹ تعلقات بحال نہ کیے جائیں، شہریارخان نے بتایاکہ ورلڈ الیون پاکستان آنا چاہتی تھی، جائلز کلارک کے ساتھ بات چیت ہوئی تو انھوں نے کہا کہ اس کیلیے ضروری ہے کہ پنجاب حکومت سیکیورٹی کلیئرنس دے، اس ضمن میں پیش رفت ہوئی تو ٹیم 12 ستمبر کو پاکستان آئے گی۔
چیئرمین نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی کی جیت میں کپتان سرفراز احمد نے اہم کردار ادا کیا،اس کا ملکی کرکٹ پر مثبت اثر ہوا، یہ بھی ثابت ہوا کہ ہماری ڈومیسٹک کرکٹ اتنی بھی کمزور نہیں جتنی بتائی جاتی ہے، کوچز بھی اچھے ہیں، گرین شرٹس دنیا کی کسی بھی ٹیم کو ہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے، فخرزمان، حسن علی اور شاداب خان اسی سسٹم سے آگے آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے کوچز بھی اچھے ہیں۔
ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے گرانٹ فلاور کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ٹیل اینڈرز کے ساتھ بہترین کام کیا،اب محمد عامر اور حسن علی بھی رنز بناتے اور ٹیم کا ٹوٹل بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔
چیئرمین بورڈ نے کہا کہ بائیو مکینیکل لیب آئندہ ماہ شروع ہو جائے گی جس کے بعد پاکستان یہ سہولت رکھنے والا ساتواں ملک بنے گا،اگست میں اینٹی کرپشن ٹریبیونل میں اسپاٹ فکسنگ کیس کے فیصلے بھی ہو جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں قومی ویمنز ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی، ماضی میں یہی ٹیم سری لنکااور جنوبی افریقہ کو ہرا چکی ہے، پی سی بی نئی پلیئرز کو لانے کا خواہشمند رہا لیکن لڑکیاں کم ہی کرکٹ کی طرف آتی ہیں،اس لیے نیا ٹیلنٹ میسر نہیں آرہا، بہرحال گراس روٹ سطح پر کام کرتے ہوئے مسائل حل کرنے کی کوشش کرینگے۔
پی سی بی گورننگ بورڈ کا اجلاس گزشتہ روز نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہوا، بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے کہا کہ بھارت کے ساتھ باہمی کرکٹ شروع نہ ہونے پر افسوس ہے، بی سی سی آئی نے ہر بار یہی کہاکہ ہم کھیلنا چاہتے ہیں لیکن حکومت اجازت نہیں دے رہی، قانونی چارہ جوئی کا ایک طریقہ کار ہے، ہم نے پہلے نوٹس بھجوایا، پھر مذاکرات کا تقاضا پورا کیا، اگلا مرحلہ آئی سی سی کے عہدیداروں کی موجودگی میں بات چیت کا تھا، تینوں کوششوں میں ناکامی کے بعد اب آئی سی سی تنازع کمیٹی میں کیس کر دیا ہے۔
شہریار خان نے کہا کہ بھارت سے ہرجانہ وصول کرنے کیلیے ابتدائی اقدامات بھی گورننگ بورڈ کی مشاورت سے اٹھائے تھے،اس بار بھی ارکان کو اعتماد میں لیا، میرا دور ختم ہورہا ہے لیکن سیریز نہ کھیلنے پر بھارت کیخلاف کارروائی جاری رہے گی۔
ادھر ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی نے بتایا کہ بھارت کیخلاف قانونی چارہ جوئی کیلیے بجٹ میں ایک ارب سے زائد رقم مختص کی گئی ہے، وکلا وغیرہ کی خدمات کیلیے بھاری اخراجات کی ضرورت ہوگی۔
شہریار خان نے دیگر موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کو کئی مرتبہ پاکستان آ کر کھیلنے کی دعوت دے چکے ہیں، پاکستانی ٹیم2بار پڑوسی ملک کا دورہ کرچکی،بی سی بی سے کہا تھا کہ مختصرسیریز کیلیے دورہ کریں۔ دوسری صورت میں ہماری ٹیم نہیں آئے گی،انھوں نے مثبت جواب نہیں دیا، افغانستان نے باہمی کرکٹ روابط بڑھانے کیلیے بات چیت کے اگلے روز ہی کابل میں دہشت گردی کے بعد متنازع بیان دیدیا۔
گورننگ بورڈ نے کہا ہے کہ افغانستان کی جانب سے معافی مانگنے تک کرکٹ تعلقات بحال نہ کیے جائیں، شہریارخان نے بتایاکہ ورلڈ الیون پاکستان آنا چاہتی تھی، جائلز کلارک کے ساتھ بات چیت ہوئی تو انھوں نے کہا کہ اس کیلیے ضروری ہے کہ پنجاب حکومت سیکیورٹی کلیئرنس دے، اس ضمن میں پیش رفت ہوئی تو ٹیم 12 ستمبر کو پاکستان آئے گی۔
چیئرمین نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی کی جیت میں کپتان سرفراز احمد نے اہم کردار ادا کیا،اس کا ملکی کرکٹ پر مثبت اثر ہوا، یہ بھی ثابت ہوا کہ ہماری ڈومیسٹک کرکٹ اتنی بھی کمزور نہیں جتنی بتائی جاتی ہے، کوچز بھی اچھے ہیں، گرین شرٹس دنیا کی کسی بھی ٹیم کو ہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے، فخرزمان، حسن علی اور شاداب خان اسی سسٹم سے آگے آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے کوچز بھی اچھے ہیں۔
ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے گرانٹ فلاور کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ٹیل اینڈرز کے ساتھ بہترین کام کیا،اب محمد عامر اور حسن علی بھی رنز بناتے اور ٹیم کا ٹوٹل بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔
چیئرمین بورڈ نے کہا کہ بائیو مکینیکل لیب آئندہ ماہ شروع ہو جائے گی جس کے بعد پاکستان یہ سہولت رکھنے والا ساتواں ملک بنے گا،اگست میں اینٹی کرپشن ٹریبیونل میں اسپاٹ فکسنگ کیس کے فیصلے بھی ہو جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں قومی ویمنز ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی، ماضی میں یہی ٹیم سری لنکااور جنوبی افریقہ کو ہرا چکی ہے، پی سی بی نئی پلیئرز کو لانے کا خواہشمند رہا لیکن لڑکیاں کم ہی کرکٹ کی طرف آتی ہیں،اس لیے نیا ٹیلنٹ میسر نہیں آرہا، بہرحال گراس روٹ سطح پر کام کرتے ہوئے مسائل حل کرنے کی کوشش کرینگے۔