نیب کو سیاسی ہتھیار بنا کر استعمال نہ کیا جائے فصیح بخاری
ٹینڈر زکی جانچ پڑتال ضروری ہے،تمام ادارے نیب کے دائرہ اختیار میں دیے جائیں، سیمینار سے خطاب
بعض سیاست دان دولت بنانا چاہتے ہیں، نچلی سطح پر بدعنوانی پرقابو پانے کیلیے قوانین کا نفاذ ضروری ہے ،مستقبل کی کرپشن کو روکنا ہوگا۔ فوٹو اے ایف پی/فائل
قومی احتساب بیورو کے چیئرمین ایڈمرل (ر) فصیح بخاری نے کہا ہے کہ پاکستانی معاشرہ اخلاقی پستی کی طرف جارہا ہے۔
ہمیں ماضی کی بدعنوانی کی تحقیقات کے ساتھ مستقبل کی بدعنوانیوں کو بھی روکنا ہے ، نیب کو سیاسی ہتھیار بنا کر استعمال کرنے سے گریز کیا جائے،بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے قوانین پر عمل درآمد ضروری ہے۔ وہ ہفتے کو کراچی کے مقامی ہوٹل میں قومی احتساب بیورو اور ٹرانسپیرانسی انٹرنیشنل کے زیر اہتمام ' عوامی اداروں میں بدعنوانی کی روک تھام ' کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کررہے تھے ۔ سیمینار سے وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک ،عادل گیلانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔چیئرمین نیب نے کہا کہ معاشرے میں بدعنوانی کے خلاف سب کو متحد ہو کر کام کرنا پڑے گا ۔
انھوں نے کہاکہ افسوس ناک بات ہے کہ بعض سیاست دان دولت بنانا چاہتے ہیں، اورجو ادارے بد عنوانی کے خلاف لڑرہے ہیں، اْن کو سیاسی ہتھیارکے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اختیار ات کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنا خطرناک ہے۔چیئر مین نیب نے کہا کہ بدعنوانی کی روک تھام کیلیے ضرروی ہے کہ تمام ادارے نیب کے دائرہ اختیار میں ہوں تاکہ کرپشن کی صحیح معنوں میں روک تھام ہوسکے۔ نچلی سطح پر بدعنوانی پرقابو پانے کیلیے قوانین کا نفاذ اورعمل ضروری ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ 70 فیصد اراکین اسمبلی ٹیکس ادا نہیں کرتے جبکہ ٹینڈر زکھلنے کی بھی جانچ پڑتال ضروری ہے۔
ہمیں ماضی کی بدعنوانی کی تحقیقات کے ساتھ مستقبل کی بدعنوانیوں کو بھی روکنا ہے ، نیب کو سیاسی ہتھیار بنا کر استعمال کرنے سے گریز کیا جائے،بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے قوانین پر عمل درآمد ضروری ہے۔ وہ ہفتے کو کراچی کے مقامی ہوٹل میں قومی احتساب بیورو اور ٹرانسپیرانسی انٹرنیشنل کے زیر اہتمام ' عوامی اداروں میں بدعنوانی کی روک تھام ' کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کررہے تھے ۔ سیمینار سے وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک ،عادل گیلانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔چیئرمین نیب نے کہا کہ معاشرے میں بدعنوانی کے خلاف سب کو متحد ہو کر کام کرنا پڑے گا ۔
انھوں نے کہاکہ افسوس ناک بات ہے کہ بعض سیاست دان دولت بنانا چاہتے ہیں، اورجو ادارے بد عنوانی کے خلاف لڑرہے ہیں، اْن کو سیاسی ہتھیارکے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اختیار ات کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنا خطرناک ہے۔چیئر مین نیب نے کہا کہ بدعنوانی کی روک تھام کیلیے ضرروی ہے کہ تمام ادارے نیب کے دائرہ اختیار میں ہوں تاکہ کرپشن کی صحیح معنوں میں روک تھام ہوسکے۔ نچلی سطح پر بدعنوانی پرقابو پانے کیلیے قوانین کا نفاذ اورعمل ضروری ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ 70 فیصد اراکین اسمبلی ٹیکس ادا نہیں کرتے جبکہ ٹینڈر زکھلنے کی بھی جانچ پڑتال ضروری ہے۔