جمہوری تسلسل برقرار رہنے کی ضرورت

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا ہے

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا ہے . فوٹو : فائل

سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کی جانب سے نواز شریف نااہلی کیس کا متفقہ فیصلہ سنانے کے بعد ملک سیاسی پیش رفت کے اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جہاں سیاسی جماعتوں کی اجتماعی بصیرت اب مشعل راہ بننی چاہیے،کیونکہ فیصلے کے بعد قانونی معرکہ آرائی کے مراحل سامنے آئیں گے۔

نئے عبوری وزیراعظم کے لیے شاہد خاقان عباسی کا نام سامنے آ گیا ہے۔نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کو ہوگا جب کہ اسی روز نیب نے اہم اجلاس طلب کیا ہے، بلاشبہ اس سے پہلے بھی وطن عزیز عدالتی، آئینی اور سیاسی واقعات و حالات کے کوہ گراں کو عبور کرتا رہا ہے، تاہم یہ پہلی بار ہوا کہ وزیراعظم کو کسی غیرملکی تحقیقاتی پیپرز کے انکشافات پر عدالتی حکم سے معزول ہونا پڑا۔ لیکن اس کے باوجود عدالتی فیصلے کا خوشگوار تناظر اس کی تمام سیاسی حلقوں بشمول وزیراعظم اور حکمران خاندان کی طرف سے قبولیت ہے، متاثرہ حکمران شریف خاندان نے فیصلہ تحفظات کے ساتھ خوشدلی سے مانا جب کہ ایمرجنسی کی ملک گیر صورتحال پیدا نہیں ہوئی، اسے بھی جمہوریت کی پیش رفت سے تعبیر کرنا چاہیے اور امید کی جانی چاہیے کہ اپوزیشن یوم تشکر منانے کے دوران بھی سیاسی ماحول میں سیاسی رواداری اور تحمل وبرداشت کا مناسب پیغام دے گی۔

عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ صدر مملکت جمہوری تسلسل کے اقدامات کریں تاکہ کسی قسم کا آئینی خلا پیدا ہو اور نہ عبوری بحران کی قیاس آرائیوں کا سلسلہ دراز ہو، تمام معاملات آئینی طریقے سے طے پا جائیں ، جمہوری تسلسل کو ہر قیمت پر برقرا ر رکھنے کی ریاستی ذمے داری کو پورا کرنے پر مکمل توجہ دینی چاہیے، اسی آئینی پراسیس، پرامن جمہوری طریقہ اور مسلمہ پارلیمانی روایات کے تحت عبوری اور پھر مستقل وزیراعظم کا چناؤ اسمبلی سے اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عمل میں لایا جانا صائب جمہوری پیش قدمی ہوگی۔

چیف جسٹس نے نیب کی کارروائی کی مانیٹرنگ کے لیے سپریم کورٹ کا جج نامزد کرنے کی بھی ہدایت کی ہے، شریف خاندان کے خلاف 3اور اسحاق ڈار کے خلاف ایک ریفرنس دائر کیے جانے کا حکم جاری کیا جاچکا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ شریف خاندان کے قانونی مشیر پیدا شدہ صورتحال اور آرٹیکل 62 کے حوالے سے اپنی طرف سے پٹیشنز داخل کرنے کے لیے عدالت کا رخ کب کرتے ہیں اور کس قسم کی قانونی پیش رفت ہوتی ہے، جب کہ آئندہ کی قانونی جنگ کے سیاق وسباق میں دائر ریفرنسزاور امکانی عدالتی کارروائی پر سیاسی رہنماؤں اور قانون دانوں میں فیصلے کے مختلف قانونی پہلوؤں پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔

ادھر سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو وزیراعظم کا امیدوارنامزدکردیا جس کی باضابطہ منظوری مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں دی جائے گی، 45 دن کے لیے عبوری نگران وزیراعظم کے طور پر کچھ اراکین اسمبلی کے نام زیر غور ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جب کہ نوازشریف کی نا اہلی کے بعد عمران خان نے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بنی گالہ میں طلب کیا گیا جس میں وزیراعظم کے لیے ن لیگ کے مقابلے میں اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار لانے پر غور کیا جائے گا۔


اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے کا ٹاسک شاہ محمود قریشی کو دیا جائے گا جب کہ انتخابی اصلاحات کے مطالبے پر سخت مؤقف اپنانے پر بھی مشاورت کی جائے گی۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ عدلیہ نے ثابت کردیا طاقتور کا بھی احتساب ہوسکتا ہے، یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈیڑھ سال پہلے جہاں پاناما پیپرز نے ارتعاش پیدا کیا، وہیں اس کے اثرات بھی پاکستان سمیت کئی ممالک میں دیکھے گئے، دنیا کی کئی اہم شخصیات کے نام پاناما پیپرز کا حصہ رہے اور انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ نے استعفے دیے، کچھ برطرف کیے گئے، فیفا تک کی تنظیم متاثر ہوئی، رپورٹ میں کئی عالمی سربراہان مملکت، معروف کھلاڑیوں اور سیاستدانوں سمیت اہم شخصیات کی آف شور کمپنیز سامنے آئیں، پاناما کیس کا ملکی اور عالمی فال آؤٹ بھی عوامی حلقوں میں زیر بحث ہے۔

پاناما لیکس معاملہ میں آئین کے آرٹیکل62(1)(f)کے تحت وزیر اعظم کی نااہلی کی مدت سے متعلق قانونی ماہرین کی رائے تقسیم ہے ،کچھ اس نااہلی کو تاحیات نااہلی قرار دے رہے ہیں جب کہ کچھ کے نزدیک تاحیات نااہلی کسی صورت نہیں ہوسکتی ۔ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ فیصلے کے بعد اب کرپشن کے خاتمے کے لیے احتساب کا عمل بلاتفریق جاری رہنا چاہیے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا پاناما کیس میں فیصلہ ملک سے کرپشن کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو گا، یہ جوڈیشل مارشل لاء نہیں ہے، سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ 62اور 63 کے حوالے سے فیصلے کو قبول کریں۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا ہے، اقامہ وزیر اعظم کی نااہلی کا سبب بنا، اس فیصلے کے خلاف اپیل کا کوئی قانون نہیں ہے، عملدرآمد بینچ کے تینوں ججز نے وزیراعظم کو نااہل قرار دیا، وکلا رہنماؤں نے پانامہ کیس کے فیصلہ کو تاریخی قرار دیا اور کہا عدلیہ نے ثابت کیا کہ کوئی بھی فرد آئین وقانون سے بالاتر نہیں۔

ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم کی نااہلی سے معیشت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں، اسٹاک ایکسچینج میں صحتمند اشاریئے ملے، صنعتکاروں ، تاجروں اور فاریکس ایسوسی ایشن کے ذرائع نے امید ظاہر کی کہ جس طرح اسٹاک مارکیٹ نے پاناما کیس فیصلے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے اسی طرح فاریکس مارکیٹ میں بھی آنے والے دنوں میں استحکام پیدا ہوگا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ احتساب کے جاری رہتے ہوئے بلاتفریق جوابدہی ہو ، عدلیہ کی توقیر مزید بڑھے، اور ایسے فیصلے ہوں جن پر جگ ہنسائی نہ ہو اور ملکی سیاسی نظام اور ادارہ جاتی استحکام کو یقینی بنانے میں تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز مل جل کر ملک کو آگے لے جائیں۔

 
Load Next Story