سیاسی صورتحال سیاستدانوں کا امتحان
نئے وزیراعظم کے انتخاب کا جمہوری مرحلہ بہ حسن خوبی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا
نئے وزیراعظم کے انتخاب کا جمہوری مرحلہ بہ حسن خوبی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا ۔ فوٹو : فائل
کہتے ہیں جمہوریت وہ نظام حکومت ہے جس میں سیاست دان امکانات کا ہر کھیل کھیل سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے ملکی صورتحال اب سیاسی کھیل سے زیادہ اہم قومی چیلنج اور جمہوریت کی بنیادی قدروں سے عہدہ برآہونے کے ایک دریا کو عبور کرنے سے عبارت ہے،اگرچہ حالات مثبت اشارے دے رہے ہیں، کوئی بحرانی کیفیت نہیں، سیاسی اور آئینی خلا کے پر کیے جانے کے امکانات صائب نظر آتے ہیں، سیاستدان نواز شریف کی نااہلی کے عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے بعد پیدا شدہ چیلنجوں سے نمٹنے میں مصروف ہیں ، اب دیکھنا یہ ہے کہ جمہوری تسلسل میں کامیابی کے لیے سیاسی جماعتیں تدبر اور سیاسی فہم و ادارک کے پیش آمدہ مرحلوں سے کیسے سرخرو ہوکر نکلتے ہیں، سیاسی افق ابھی امید افزا ہے۔
اس لیے سیاسی مدبرین کا کہنا ہے کہ نئے وزیراعظم کے انتخاب کا جمہوری مرحلہ بہ حسن خوبی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا، نئے عبوری وزیراعظم کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کرنے کی پیر کو آخری تاریخ تھی ، اسپیکر سردار ایاز صادق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی اور تمام امیدواروں کے کاغذات منظور کیے گئے، صدر مملکت ممنون حسین نے قومی اسمبلی کا اجلاس آج (منگل) کو طلب کرلیا ہے، شیڈول کے مطابق آج ہی قائد ایوان کا انتخاب عمل میں آئیگا،حکومت اور اپوزیشین نے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، سیاسی جوڑتوڑ عروج پر ہے، وزارت عظمیٰ کے لیے ن لیگ کے امیدوار شاہد خاقان عباسی نے سیاسی حمایت کے لیے اہم ملاقاتیں کی ہیں، پیپلز پارٹی پنجاب نے تاحال این اے 120کے ضمنی انتخاب کے لیے کسی امیدوار کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے ، ذرایع کے مطابق جمعیت علمائے اسلام نے این اے 120میں امیدوار لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اسی جمہوری اسپرٹ کی ملک کو ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری جنگ شریف خاندان کے خلاف نہیں بلکہ کرپشن کے خلاف تھی،انھوں نے کہا کہ وہ سب کرپٹ سیاست دانوں کے پیچھے پڑ جائیں گے، اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں تحریک انصاف کے یوم تشکر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ میں اپنے سامنے ایک زندہ قوم دیکھ رہا ہوں جو پاکستان کے مسائل کو سمجھتے ہیں۔
ادھر مسلم لیگ ن کے نامزد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی رات گئے اچانک کشمیر ہاؤس پہنچ گئے ، وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر سے ملاقات میں وزیراعظم آزاد کشمیر کے الحاق پاکستان سے متعلق دیے گئے متنازعہ بیان کی تفصیل مانگی جس کا میڈیا میں چرچا ہورہا ہے، راجہ فاروق حیدر نے وضاحت کی کہ ان کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، ان کا مقصد ایسا بیان دینا ہرگز نہیں تھا۔ ادھر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی جانب سے جاری بیان میں بھی شکایت کی گئی کہ ان سے لفظ بغاوت غلط طور پر منسوب کیا گیا جب کہ سابق صدر آصف زرداری نے ایک بیان میں انھوں نے کہا آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ یہ بیان کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی کئی دہائیوں پر محیط جدوجہد کی تضحیک ہے۔
تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان بیانات میں مورد الزام میڈیا کو ٹھہرایا گیا، یہ بات قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی پاناما کیس کی سماعت کے دوران غلط رپورٹنگ اور حقائق کے برعکس خبروں کی مسلسل اشاعت پر سخت برہمی کا اظہارکیا اور اس کا سختی سے نوٹس بھی لیا۔ حقیقت یہ ہے ملک جن صبر آزما چیلنجز سے دوچار ہے اس میں سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی اور میڈیا کو بھی اپنے ذمے دارانہ کردار کی ادائیگی پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔
ادھر وزیراعلیٰ شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد پنجاب میں حمزہ شہباز شریف کے سیاسی کردار بڑھ جانے کی پیشگوئی کی جارہی ہے، بہرحال ضرورت ملک کو جمہوری ٹریک پر رکھنے کی ہوشمندانہ اور دور اندیشانہ کوششوںمیںجمہوری اشتراک عمل کی ہے، سیاسی کشمکش کو تلخی میں بدلنے کی روش مناسب حکمت عملی نہیں ہے، اور نہ ہی ملک اس کا متحمل ہوسکتا ہے، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جمہوری اور سیاسی چیلنج اس امر کا متقاضی ہے کہ کسی قسم کا آئینی،قانونی اور جمہوری خلا نظام سیاست میں باقی نہ رہے ،معاملات جلد اور نہایت خوش اسلوبی سے نمٹائے جانے چاہئیں، کوئی جگ ہنسائی نہ ہو، حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے لیے شفاف انتظامی ڈھانچے کی تشکیل ناگزیر ہے۔
جس سے گریزپائی قومی سالمیت ، جمہوریت کی بقا اور ملکی معیشت کے استحکام کی کوششوں کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کرسکتی ہے،اس لیے سیاست میں تلخی کا عنصر شدت پذیر نہ ہو بلکہ سیاسی مفاہمت ، خیر سگالی اور خوشدلی کے ساتھ قومی معاملات اور مسائل کا کثیر جہتی حل تلاش کرنے کی منزل جلد ملنی چاہیے۔ جمہوری عمل کو سیاسی صورتحال کی بہتری کے لیے ہر چیز پر سبقت صاصل ہونی چاہیے ، قانونی معاملات جو عدلیہ میں زیر سماعت ہیں یا وہ ہائی پروفائل کیسز جو ابھی سیاست دانوں ، قانون دانوں اور سماجی حلقوں کی طرف سے ملکی اور ریاستی امور نئی حکومت کی تشکیل ، جمہوری تقاضوں اور آئینی حوالوں انتخابی اصلاحات کے کام کی فوری تکمیل ہے۔
خیال رہے 2013ء کے عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف سب سے پہلے اور زیادہ آواز بلند کرنے والی تحریک انصاف کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں ناکامی کا سامنا، سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ اور ووٹرز کی بائیومیٹرک تصدیق سمیت اہم مطالبات نظراندازکر دیے گئے، تقریباً نصف سے زائد اجلاسوں میں شرکت کرنے والی تحریک انصاف نے متفقہ قوانین بل پر دستخط کے موقع پر بھی بائیکاٹ کر دیا، قومی اسمبلی کا آیندہ اجلاس انتخابی اصلاحات بل کی منظوری کے حوالے سے بھی اہم ہے، سیاست دان نئی حلقہ بندیوں پر نظر ڈالیں، اب قومی اسمبلی کے آیندہ اجلاس میں انتخابی قوانین بل پاس کرائے جانے کا امکان ہے، جب کہ ایک سابق وفاقی وزیر کا بہ حسرت و یاس یہ کہنا تھا کہ ان کی حکومت کی ناتدبیری تھی جو آرٹیکل62 اور 63نہیں نکال سکی، معلوم نہیں تھا یہ 58ٹوبی بن جائے گی۔ اسی لیے سیاسی مدبرین نے کہا کہ سیاست امکانات کا کھیل تو ہے لیکن ہر سیاست دان کو لمحہ موجود سے لے کر آیندہ کی رونما ہونے والی ممکنہ سیاسی صورتحال کا عمودی و افقی طور پر درست ادراک کرلینا چاہیے۔
اس لیے سیاسی مدبرین کا کہنا ہے کہ نئے وزیراعظم کے انتخاب کا جمہوری مرحلہ بہ حسن خوبی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا، نئے عبوری وزیراعظم کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کرنے کی پیر کو آخری تاریخ تھی ، اسپیکر سردار ایاز صادق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی اور تمام امیدواروں کے کاغذات منظور کیے گئے، صدر مملکت ممنون حسین نے قومی اسمبلی کا اجلاس آج (منگل) کو طلب کرلیا ہے، شیڈول کے مطابق آج ہی قائد ایوان کا انتخاب عمل میں آئیگا،حکومت اور اپوزیشین نے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، سیاسی جوڑتوڑ عروج پر ہے، وزارت عظمیٰ کے لیے ن لیگ کے امیدوار شاہد خاقان عباسی نے سیاسی حمایت کے لیے اہم ملاقاتیں کی ہیں، پیپلز پارٹی پنجاب نے تاحال این اے 120کے ضمنی انتخاب کے لیے کسی امیدوار کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے ، ذرایع کے مطابق جمعیت علمائے اسلام نے این اے 120میں امیدوار لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اسی جمہوری اسپرٹ کی ملک کو ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری جنگ شریف خاندان کے خلاف نہیں بلکہ کرپشن کے خلاف تھی،انھوں نے کہا کہ وہ سب کرپٹ سیاست دانوں کے پیچھے پڑ جائیں گے، اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں تحریک انصاف کے یوم تشکر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ میں اپنے سامنے ایک زندہ قوم دیکھ رہا ہوں جو پاکستان کے مسائل کو سمجھتے ہیں۔
ادھر مسلم لیگ ن کے نامزد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی رات گئے اچانک کشمیر ہاؤس پہنچ گئے ، وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر سے ملاقات میں وزیراعظم آزاد کشمیر کے الحاق پاکستان سے متعلق دیے گئے متنازعہ بیان کی تفصیل مانگی جس کا میڈیا میں چرچا ہورہا ہے، راجہ فاروق حیدر نے وضاحت کی کہ ان کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، ان کا مقصد ایسا بیان دینا ہرگز نہیں تھا۔ ادھر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی جانب سے جاری بیان میں بھی شکایت کی گئی کہ ان سے لفظ بغاوت غلط طور پر منسوب کیا گیا جب کہ سابق صدر آصف زرداری نے ایک بیان میں انھوں نے کہا آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ یہ بیان کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی کئی دہائیوں پر محیط جدوجہد کی تضحیک ہے۔
تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان بیانات میں مورد الزام میڈیا کو ٹھہرایا گیا، یہ بات قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی پاناما کیس کی سماعت کے دوران غلط رپورٹنگ اور حقائق کے برعکس خبروں کی مسلسل اشاعت پر سخت برہمی کا اظہارکیا اور اس کا سختی سے نوٹس بھی لیا۔ حقیقت یہ ہے ملک جن صبر آزما چیلنجز سے دوچار ہے اس میں سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی اور میڈیا کو بھی اپنے ذمے دارانہ کردار کی ادائیگی پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔
ادھر وزیراعلیٰ شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد پنجاب میں حمزہ شہباز شریف کے سیاسی کردار بڑھ جانے کی پیشگوئی کی جارہی ہے، بہرحال ضرورت ملک کو جمہوری ٹریک پر رکھنے کی ہوشمندانہ اور دور اندیشانہ کوششوںمیںجمہوری اشتراک عمل کی ہے، سیاسی کشمکش کو تلخی میں بدلنے کی روش مناسب حکمت عملی نہیں ہے، اور نہ ہی ملک اس کا متحمل ہوسکتا ہے، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جمہوری اور سیاسی چیلنج اس امر کا متقاضی ہے کہ کسی قسم کا آئینی،قانونی اور جمہوری خلا نظام سیاست میں باقی نہ رہے ،معاملات جلد اور نہایت خوش اسلوبی سے نمٹائے جانے چاہئیں، کوئی جگ ہنسائی نہ ہو، حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے لیے شفاف انتظامی ڈھانچے کی تشکیل ناگزیر ہے۔
جس سے گریزپائی قومی سالمیت ، جمہوریت کی بقا اور ملکی معیشت کے استحکام کی کوششوں کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کرسکتی ہے،اس لیے سیاست میں تلخی کا عنصر شدت پذیر نہ ہو بلکہ سیاسی مفاہمت ، خیر سگالی اور خوشدلی کے ساتھ قومی معاملات اور مسائل کا کثیر جہتی حل تلاش کرنے کی منزل جلد ملنی چاہیے۔ جمہوری عمل کو سیاسی صورتحال کی بہتری کے لیے ہر چیز پر سبقت صاصل ہونی چاہیے ، قانونی معاملات جو عدلیہ میں زیر سماعت ہیں یا وہ ہائی پروفائل کیسز جو ابھی سیاست دانوں ، قانون دانوں اور سماجی حلقوں کی طرف سے ملکی اور ریاستی امور نئی حکومت کی تشکیل ، جمہوری تقاضوں اور آئینی حوالوں انتخابی اصلاحات کے کام کی فوری تکمیل ہے۔
خیال رہے 2013ء کے عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف سب سے پہلے اور زیادہ آواز بلند کرنے والی تحریک انصاف کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں ناکامی کا سامنا، سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ اور ووٹرز کی بائیومیٹرک تصدیق سمیت اہم مطالبات نظراندازکر دیے گئے، تقریباً نصف سے زائد اجلاسوں میں شرکت کرنے والی تحریک انصاف نے متفقہ قوانین بل پر دستخط کے موقع پر بھی بائیکاٹ کر دیا، قومی اسمبلی کا آیندہ اجلاس انتخابی اصلاحات بل کی منظوری کے حوالے سے بھی اہم ہے، سیاست دان نئی حلقہ بندیوں پر نظر ڈالیں، اب قومی اسمبلی کے آیندہ اجلاس میں انتخابی قوانین بل پاس کرائے جانے کا امکان ہے، جب کہ ایک سابق وفاقی وزیر کا بہ حسرت و یاس یہ کہنا تھا کہ ان کی حکومت کی ناتدبیری تھی جو آرٹیکل62 اور 63نہیں نکال سکی، معلوم نہیں تھا یہ 58ٹوبی بن جائے گی۔ اسی لیے سیاسی مدبرین نے کہا کہ سیاست امکانات کا کھیل تو ہے لیکن ہر سیاست دان کو لمحہ موجود سے لے کر آیندہ کی رونما ہونے والی ممکنہ سیاسی صورتحال کا عمودی و افقی طور پر درست ادراک کرلینا چاہیے۔