4 سال کے دوران مرکنٹائل ایکسچینج کے ٹریڈنگ والیومز میں 1133 ارب سے زائد کا اضافہ
سرگرم ٹریڈنگ بروکرز کی تعداد 22سے بڑھ کر 77تک پہنچ گئی، 2012کے دوران 40لاکھ 67ہزار 840لاٹس کی ٹریڈنگ کی گئی
پاکستان مرکنٹائل ایکس چینج لمیٹڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر امجد خان نے بتایا کہ پاکستان مرکنٹائل ایکس چینج میں فی الوقت سونا، چاندی، خام تیل، کائبور، پام آئل، چینی، چاول اور گندم کے فیوچرز کانٹریکٹ کی ٹریڈنگ کی جارہی ہے۔ فوٹو: فائل
CHITTAGONG:
گزشتہ 4 سال کے دوران پاکستان مرکنٹائل ایکس چینج لمیٹڈ کے ٹریڈنگ والیومز میں 11کھرب 33ارب58کروڑ 87لاکھ روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔
سرگرم ٹریڈنگ بروکرز کی تعداد 22سے بڑھ کر 77تک پہنچ چکی ہے۔ سال 2012کے دوران 40لاکھ 67ہزار 840لاٹس کی ٹریڈنگ کی گئی جبکہ ٹریڈنگ ویلیو 2009کی 27ارب 19کروڑ 6لاکھ روپے سے بڑھ کر 2012میں 11کھرب 60ارب 77کروڑ 92لاکھ روپے سے تجاوز کرچکی ہے۔ پاکستان مرکنٹائل ایکس چینج لمیٹڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر امجد خان نے ایکسپریس سے ملاقات میں بتایا کہ پاکستان مرکنٹائل ایکس چینج میں فی الوقت سونا، چاندی، خام تیل، کائبور، پام آئل، چینی، چاول اور گندم کے فیوچرز کانٹریکٹ کی ٹریڈنگ کی جارہی ہے۔ رواں سال کے دوران شریعہ کمپلائنس فیوچرز کانٹریکٹ اور فاریکس فیوچرز کانٹریکٹس متعارف کرائے جائیں گے۔
مرکنٹائل ایکس چینج کے ذریعے پاکستان میں اسٹاک مارکیٹ اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے کے بعد سرمایہ کاری کیلیے ایک اہم پلیٹ فارم میسر ہوا ہے اب چھوٹا (ریٹیل) انویسٹر بھی اپنے گھر یا دفتر میں بیٹھ کر سونے جیسی کماڈیٹی میں محفوظ طریقے سے سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔ مرکنٹائل ایکس چینج کے چیف بزنس آفیسر صاحبزادہ منصور علی نے بتایا کہ مرکنٹائل ایکس چینج کے ذریعے مقامی مارکیٹ میں اہم کماڈیٹیز گندم، چاول اور چینی کے سپلائی چین مکینزم کو بہتر اور زیادہ کارگر بنایا جاسکتا ہے جس سے نہ صرف منڈی میں ذخیرہ اندوزی اور سٹہ ختم کرتے ہوئے عام صارف کو بھی قیمتوں میں استحکام کی شکل میں فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایکس چینج کے ممبرز کی تعداد 320 کے قریب ہے جس میں سے 120ایکٹیو ممبرز اور 77 سرگرم ٹریڈرز ہیں۔ مرکنٹائل ایکس چینج کی 90فیصد ٹریڈنگ تین بنیادی کماڈٹیز میں کی جارہی ہے جن میں گولڈ، سلور اور خام تیل کے فیوچرز کنٹریکٹس شامل ہیں تمام کانٹریکٹس ڈیلیور ایبل ہیں اس لیے گندم، چینی اور چاول سے متعلق مقامی کنفکیشنری انڈسٹری بھی ایکس چینج سے استفادہ کرسکتی ہے، اسی طرح سونے کے فیوچرز کی ٹریڈنگ کے ذریعے سونے کی شکل میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے جس کی ڈیلیوری بھی دبئی کے سونے کے معیار کی حامل گولڈ بارز کی شکل میں ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں سونے کی ٹریڈنگ روایتی انداز میں سناروں کے ذریعے کی جاتی رہی ہے، جس میں سونے کا معیار اور قیمت ہمیشہ ہی خدشات سے پر رہے ہی تاہم مرکنٹائل ایکس چینج نے یہ مشکل بھی دور کردی ہے۔
مرکنٹائل ایکس چینج میں سونے کی لاٹ ایک اونس سے لے کر 100اونس تک کی شکل میں ٹریڈ کی جاتی ہے، اس کے ساتھ دس گرام اور ایک تولہ سونے کے ڈیلیور ایبل فزیکل کنٹریکٹس بھی موجود ہیں، سونے کی بڑی لاٹس 100گرام سے ایک کلو گرام، چاندی کی 100اور 500اونس، گندم کی 10ٹن، چینی کی 10ٹن، پام آئل کی 25ٹن، چاول کی 25ٹن کی لاٹ کی ٹریڈنگ کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن کی جانب سے چار ماہ قبل میوچل فنڈز کو کماڈیٹی بیسڈ فنڈز متعارف کرانے کی اجازت مل گئی ہے اور بہت سے میوچل فنڈز گولڈ بیس فنڈ متعارف کرنے کی ایڈوانس اسٹیج پر پہنچ چکے ہیں اس طرح کے فنڈز کے آنے سے مرکنٹائل ایکس چینج کے والیومز میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔
گزشتہ 4 سال کے دوران پاکستان مرکنٹائل ایکس چینج لمیٹڈ کے ٹریڈنگ والیومز میں 11کھرب 33ارب58کروڑ 87لاکھ روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔
سرگرم ٹریڈنگ بروکرز کی تعداد 22سے بڑھ کر 77تک پہنچ چکی ہے۔ سال 2012کے دوران 40لاکھ 67ہزار 840لاٹس کی ٹریڈنگ کی گئی جبکہ ٹریڈنگ ویلیو 2009کی 27ارب 19کروڑ 6لاکھ روپے سے بڑھ کر 2012میں 11کھرب 60ارب 77کروڑ 92لاکھ روپے سے تجاوز کرچکی ہے۔ پاکستان مرکنٹائل ایکس چینج لمیٹڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر امجد خان نے ایکسپریس سے ملاقات میں بتایا کہ پاکستان مرکنٹائل ایکس چینج میں فی الوقت سونا، چاندی، خام تیل، کائبور، پام آئل، چینی، چاول اور گندم کے فیوچرز کانٹریکٹ کی ٹریڈنگ کی جارہی ہے۔ رواں سال کے دوران شریعہ کمپلائنس فیوچرز کانٹریکٹ اور فاریکس فیوچرز کانٹریکٹس متعارف کرائے جائیں گے۔
مرکنٹائل ایکس چینج کے ذریعے پاکستان میں اسٹاک مارکیٹ اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے کے بعد سرمایہ کاری کیلیے ایک اہم پلیٹ فارم میسر ہوا ہے اب چھوٹا (ریٹیل) انویسٹر بھی اپنے گھر یا دفتر میں بیٹھ کر سونے جیسی کماڈیٹی میں محفوظ طریقے سے سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔ مرکنٹائل ایکس چینج کے چیف بزنس آفیسر صاحبزادہ منصور علی نے بتایا کہ مرکنٹائل ایکس چینج کے ذریعے مقامی مارکیٹ میں اہم کماڈیٹیز گندم، چاول اور چینی کے سپلائی چین مکینزم کو بہتر اور زیادہ کارگر بنایا جاسکتا ہے جس سے نہ صرف منڈی میں ذخیرہ اندوزی اور سٹہ ختم کرتے ہوئے عام صارف کو بھی قیمتوں میں استحکام کی شکل میں فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایکس چینج کے ممبرز کی تعداد 320 کے قریب ہے جس میں سے 120ایکٹیو ممبرز اور 77 سرگرم ٹریڈرز ہیں۔ مرکنٹائل ایکس چینج کی 90فیصد ٹریڈنگ تین بنیادی کماڈٹیز میں کی جارہی ہے جن میں گولڈ، سلور اور خام تیل کے فیوچرز کنٹریکٹس شامل ہیں تمام کانٹریکٹس ڈیلیور ایبل ہیں اس لیے گندم، چینی اور چاول سے متعلق مقامی کنفکیشنری انڈسٹری بھی ایکس چینج سے استفادہ کرسکتی ہے، اسی طرح سونے کے فیوچرز کی ٹریڈنگ کے ذریعے سونے کی شکل میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے جس کی ڈیلیوری بھی دبئی کے سونے کے معیار کی حامل گولڈ بارز کی شکل میں ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں سونے کی ٹریڈنگ روایتی انداز میں سناروں کے ذریعے کی جاتی رہی ہے، جس میں سونے کا معیار اور قیمت ہمیشہ ہی خدشات سے پر رہے ہی تاہم مرکنٹائل ایکس چینج نے یہ مشکل بھی دور کردی ہے۔
مرکنٹائل ایکس چینج میں سونے کی لاٹ ایک اونس سے لے کر 100اونس تک کی شکل میں ٹریڈ کی جاتی ہے، اس کے ساتھ دس گرام اور ایک تولہ سونے کے ڈیلیور ایبل فزیکل کنٹریکٹس بھی موجود ہیں، سونے کی بڑی لاٹس 100گرام سے ایک کلو گرام، چاندی کی 100اور 500اونس، گندم کی 10ٹن، چینی کی 10ٹن، پام آئل کی 25ٹن، چاول کی 25ٹن کی لاٹ کی ٹریڈنگ کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن کی جانب سے چار ماہ قبل میوچل فنڈز کو کماڈیٹی بیسڈ فنڈز متعارف کرانے کی اجازت مل گئی ہے اور بہت سے میوچل فنڈز گولڈ بیس فنڈ متعارف کرنے کی ایڈوانس اسٹیج پر پہنچ چکے ہیں اس طرح کے فنڈز کے آنے سے مرکنٹائل ایکس چینج کے والیومز میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔