چیر مین کے کمرے پر نئی تختی 9 اگست کو لگنے کا امکان
چیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ شہریارخان کے 3سالہ عہدے کی میعاد 8 اگست کو مکمل ہو رہی ہے
چیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ شہریارخان کے 3سالہ عہدے کی میعاد 8 اگست کو مکمل ہو رہی ہے ۔ فوٹو: فائل
چیرمین پی سی بی کے کمرے پر نئی تختی 9 اگست کو لگنے کا امکان ہے۔
نجم سیٹھی کا انتخاب تقریباً یقینی ہو چکا، گزشتہ روز نئے گورننگ بورڈ ارکان کے نام ارسال کرنے کیلیے ڈپارٹمنٹس کو خطوط بھیج دیے گئے، شہریارخان8 تاریخ کو ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائینگے، اس کے بعد الیکشن کمشنر افضال حیدر قائم مقام چیرمین بنیں گے، انہیں ایک ماہ میں انتخابات کرانے ہیں مگر ذرائع کے مطابق وہ اگلے روز ہی خصوصی اجلاس طلب کر کے ایسا کرینگے، گورننگ بورڈ میں نجم سیٹھی اور عارف اعجاز کی تقرری کیخلاف 10اگست کو ایک کیس کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ابتدائی سماعت بھی ہونی ہے، بعض حلقے اس عجلت کی وجہ اسی کو قرار دے رہے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ فاٹا ریجن میں ایڈہاک لگی ہوئی ہے،اگر وہاں الیکشن یا ڈپارٹمنٹل گورننگ بورڈ ارکان کے نام آنے میں تاخیر ہوئی تو پھر چیرمین کا انتخاب مؤخر بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
چیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ شہریارخان کے 3سالہ عہدے کی میعاد 8 اگست کو مکمل ہو رہی ہے، ان کی جگہ سنبھالنے کیلیے ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی مضبوط امیدوار ہیں، انہیں چند روز قبل سابق وزیر اعظم اور پی سی بی کے سرپرست اعلیٰ نواز شریف نے دوبارہ گورننگ بورڈ میں نامزد کیا تھا، ان کے ساتھ اس بار عارف اعجاز کو شامل کیا گیا، گزشتہ بار شہریارخان کا نام آیا تھا، حال ہی میں جسٹس (ر) افضال حیدرکو الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا جنہوں نے پی سی بی کے دفاتر میں اپنی ذمہ داریاں بھی سنبھال لی ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ جسٹس (ر) افضال حیدر نے گورننگ بورڈ کے نئے ممبر ڈپارٹمنٹس کو خطوط ارسال کر کے نمائندوں کے نام مانگے ہیں، اس بار یو بی ایل اور واپڈا کو برقرار رکھا گیا جب کہ سوئی سدرن اور حبیب بینک کو بھی نمائندگی ملی ہے، توقع ہے کہ یو بی ایل سے منصور مسعود خان اور واپڈا سے لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین ہی گورننگ بورڈ میں رہیں گے، کوئٹہ سے مراد اسماعیل،لاہور سے خواجہ ندیم اور سیالکوٹ سے ندیم بٹ شامل ہوں گے، دلچسپ بات یہ ہے کہ فاٹا پر ایڈہاک لگی ہوئی ہے، وہاں الیکشن کے بعد سربراہ کا تقرر ہوگا جسے گورننگ بورڈ میں جگہ ملے گی، مگر بورڈ کو یہ سب کچھ بہت جلدی کرنا ہے کیونکہ 9 اگست کو چیئرمین کے انتخاب کی تیاری کر لی گئی،8 تاریخ کو شہریارخان کے عہدے کی معیاد مکمل ہونے پرافضال حیدر قائم مقام چیئرمین بن جائینگے، آئین کے تحت انھیں ایک ماہ میں انتخابات کرانا ہونگے مگر وہ اگلے روز ہی ایسا کردینگے،اس ضمن میں گورننگ بورڈ کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائیگا، اس بات کا امکان کم ہے کہ کوئی نجم سیٹھی کے مقابل الیکشن میں حصہ لے لیکن اگرایک سے زائد امیدوار سامنے آیا تو ووٹنگ ہوگی، ایک ہی نامزدگی کی صورت میں بلامقابلہ کامیابی کا اعلان کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گورننگ بورڈ میں نجم سیٹھی اور عارف اعجاز کی تقرری کیخلاف 10اگست کو ایک کیس کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ابتدائی سماعت بھی ہونی ہے، چیرمین کے الیکشن میں عجلت کو بعض حلقے اس سے بھی جوڑ رہے ہیں، البتہ اگر فاٹا میں الیکشن یا ڈپارٹمنٹل گورننگ بورڈ ارکان کے نام آنے میں تاخیر ہوئی تو پھر چیرمین کا انتخاب موخر بھی کرنا پڑ سکتا ہے، ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ چیرمین منتخب ہونے کے بعد بھی نجم سیٹھی قانونی جنگ میں پھنس سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ 2014 میں ذکا اشرف سے عدالتی کیس کے بعد نجم سیٹھی کو چیرمین کی پوسٹ چھوڑنا پڑی تھی، اس وقت شہریارخان کو بلامقابلہ بورڈ کا سربراہ منتخب کیا گیا، تب بطور الیکشن کمشنر جسٹس سائر علی کا تقرر ہوا جنھوں نے چند روز کیلیے قائم مقام چیئرمین کا عہدہ بھی سنبھالا تھا۔
نجم سیٹھی کا انتخاب تقریباً یقینی ہو چکا، گزشتہ روز نئے گورننگ بورڈ ارکان کے نام ارسال کرنے کیلیے ڈپارٹمنٹس کو خطوط بھیج دیے گئے، شہریارخان8 تاریخ کو ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائینگے، اس کے بعد الیکشن کمشنر افضال حیدر قائم مقام چیرمین بنیں گے، انہیں ایک ماہ میں انتخابات کرانے ہیں مگر ذرائع کے مطابق وہ اگلے روز ہی خصوصی اجلاس طلب کر کے ایسا کرینگے، گورننگ بورڈ میں نجم سیٹھی اور عارف اعجاز کی تقرری کیخلاف 10اگست کو ایک کیس کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ابتدائی سماعت بھی ہونی ہے، بعض حلقے اس عجلت کی وجہ اسی کو قرار دے رہے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ فاٹا ریجن میں ایڈہاک لگی ہوئی ہے،اگر وہاں الیکشن یا ڈپارٹمنٹل گورننگ بورڈ ارکان کے نام آنے میں تاخیر ہوئی تو پھر چیرمین کا انتخاب مؤخر بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
چیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ شہریارخان کے 3سالہ عہدے کی میعاد 8 اگست کو مکمل ہو رہی ہے، ان کی جگہ سنبھالنے کیلیے ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی مضبوط امیدوار ہیں، انہیں چند روز قبل سابق وزیر اعظم اور پی سی بی کے سرپرست اعلیٰ نواز شریف نے دوبارہ گورننگ بورڈ میں نامزد کیا تھا، ان کے ساتھ اس بار عارف اعجاز کو شامل کیا گیا، گزشتہ بار شہریارخان کا نام آیا تھا، حال ہی میں جسٹس (ر) افضال حیدرکو الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا جنہوں نے پی سی بی کے دفاتر میں اپنی ذمہ داریاں بھی سنبھال لی ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ جسٹس (ر) افضال حیدر نے گورننگ بورڈ کے نئے ممبر ڈپارٹمنٹس کو خطوط ارسال کر کے نمائندوں کے نام مانگے ہیں، اس بار یو بی ایل اور واپڈا کو برقرار رکھا گیا جب کہ سوئی سدرن اور حبیب بینک کو بھی نمائندگی ملی ہے، توقع ہے کہ یو بی ایل سے منصور مسعود خان اور واپڈا سے لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین ہی گورننگ بورڈ میں رہیں گے، کوئٹہ سے مراد اسماعیل،لاہور سے خواجہ ندیم اور سیالکوٹ سے ندیم بٹ شامل ہوں گے، دلچسپ بات یہ ہے کہ فاٹا پر ایڈہاک لگی ہوئی ہے، وہاں الیکشن کے بعد سربراہ کا تقرر ہوگا جسے گورننگ بورڈ میں جگہ ملے گی، مگر بورڈ کو یہ سب کچھ بہت جلدی کرنا ہے کیونکہ 9 اگست کو چیئرمین کے انتخاب کی تیاری کر لی گئی،8 تاریخ کو شہریارخان کے عہدے کی معیاد مکمل ہونے پرافضال حیدر قائم مقام چیئرمین بن جائینگے، آئین کے تحت انھیں ایک ماہ میں انتخابات کرانا ہونگے مگر وہ اگلے روز ہی ایسا کردینگے،اس ضمن میں گورننگ بورڈ کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائیگا، اس بات کا امکان کم ہے کہ کوئی نجم سیٹھی کے مقابل الیکشن میں حصہ لے لیکن اگرایک سے زائد امیدوار سامنے آیا تو ووٹنگ ہوگی، ایک ہی نامزدگی کی صورت میں بلامقابلہ کامیابی کا اعلان کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گورننگ بورڈ میں نجم سیٹھی اور عارف اعجاز کی تقرری کیخلاف 10اگست کو ایک کیس کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ابتدائی سماعت بھی ہونی ہے، چیرمین کے الیکشن میں عجلت کو بعض حلقے اس سے بھی جوڑ رہے ہیں، البتہ اگر فاٹا میں الیکشن یا ڈپارٹمنٹل گورننگ بورڈ ارکان کے نام آنے میں تاخیر ہوئی تو پھر چیرمین کا انتخاب موخر بھی کرنا پڑ سکتا ہے، ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ چیرمین منتخب ہونے کے بعد بھی نجم سیٹھی قانونی جنگ میں پھنس سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ 2014 میں ذکا اشرف سے عدالتی کیس کے بعد نجم سیٹھی کو چیرمین کی پوسٹ چھوڑنا پڑی تھی، اس وقت شہریارخان کو بلامقابلہ بورڈ کا سربراہ منتخب کیا گیا، تب بطور الیکشن کمشنر جسٹس سائر علی کا تقرر ہوا جنھوں نے چند روز کیلیے قائم مقام چیئرمین کا عہدہ بھی سنبھالا تھا۔