تاجروں کا افغانستان کے راستے وسط ایشیا کو برآمدات بند کرنیکا فیصلہ
افغانستان نے سینٹرل ایشیا جانیوالی پاکستانی کنسائمنٹس سے کسٹم ڈیوٹی کی وصولی شروع کردی
افغان حکام کی جانب سے روکے گئے 150سے زائد ٹرک افغان حکام کو فی ٹرک 70ہزار روپے فکس ڈیوٹی ادا کرکے سینٹرل ایشیا روانہ کیے گئے ہیں۔ فوٹو: فائل
افغانستان نے سینٹرل ایشیا جانے والے پاکستانی کنسائمنٹس سے کسٹم ڈیوٹی کی وصولی شروع کردی ہے۔
جس سے سینٹرل ایشیا کے لیے افغان حکومت کو نقد گارنٹی رکھواکر جانے والی پاکستانی برآمدی کنسائمنٹس کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے اور ایکسپورٹرز نے یہ شرط ختم نہ ہونے کے صورت میں افغانستان کے راستے سینٹرل ایشیا کو برآمدات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر انجینئر دارو خان کے مطابق افغان حکومت نے پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے بانڈڈ کسٹم کی شرط کے جواب میں سینٹرل ایشیا جانے والی پاکستانی کنسائمنٹس کے لیے انشورنس گارنٹی کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انجینئر دارو خان نے افغانستان کے نائب وزیر تجارت مزمل شنواری سے رابطہ کرکے سینٹرل ایشیا کیلیے پاکستانی برآمدات کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے جلد از جلد حل کی اپیل کی جس کے جواب میں افغانستان کے نائب وزیر تجارت نے بتایا کہ پاکستانی کنسائمنٹس کے لیے انشورنس گارنٹی کا نظام چند روز میں متعارف کرادیا جائے گا، جس کے تحت افغانستان کے راستے سینٹرل ایشیا جانیو الی کنسائمنٹس کی انشورنس گارنٹی بینکوں کے ذریعے جمع کرانا ہوگی۔ افغانستان کے ذریعے سینٹرل ایشیا کو برآمدات کرنیوالے پاکستانی تاجروں نے افغان حکام کی جانب سے اس پابندی کو تجارت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
انجینئر دارو خان کے مطابق اس سے قبل بھی پاکستانی ایکسپورٹرز سینٹرل ایشیا کے لیے کنسائمنٹس کی 110فیصد کسٹم ڈیوٹی نقد شکل میں افغان حکام کے پاس جمع کرواتے تھے جس میں سے بمشکل 90فیصد ڈیوٹی ایگزٹ ٹریڈ کی کراس بارڈر سرٹیفکیٹ جمع کرانے پر واپس کی جاتی تھی افغان حکام کی جانب سے روکے گئے 150سے زائد ٹرک افغان حکام کو فی ٹرک 70ہزار روپے فکس ڈیوٹی ادا کرکے سینٹرل ایشیا روانہ کیے گئے ہیں اور مزید کنسائمنٹس کی روانگی موخر کردی گئی ہے۔
افغان حکام نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغان ٹریڈ کے لیے اختیار کردہ پالیسیوں کے جواب میں ویسی ہی پالیسی سینٹرل ایشیا کے لیے پاکستانی ٹریڈ کے لیے عائد کردی جائیں گی اس لیے افغان ٹریڈ کے لیے پاکستانی حکام کی جانب سے بانڈڈ کیئرر سسٹم کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ انجینئر دارو خان نے بتایا کہ اس وقت سینٹرل ایشیا کو پاکستان سے کینو کی برآمدات اپنے عروج پر ہیں اور کینو کا سیزن ختم ہونے کے قریب ہے اس دوران سینٹرل ایشیا کے لیے کنسائمنٹ پر 70ہزار روپے کی فکس ڈیوٹی یا انشورنس گارنٹی کے طریقہ کار کے اطلاق سے کینو سمیت آلو پیاز دیگر خردنی اشیا، سیمنٹ کی برآمدات متاثر ہورہی ہیں اور افغانستان کے راستے سینٹرل ایشیا کو برآمدات معطل ہونے کا خدشہ ہے۔
جس سے سینٹرل ایشیا کے لیے افغان حکومت کو نقد گارنٹی رکھواکر جانے والی پاکستانی برآمدی کنسائمنٹس کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے اور ایکسپورٹرز نے یہ شرط ختم نہ ہونے کے صورت میں افغانستان کے راستے سینٹرل ایشیا کو برآمدات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر انجینئر دارو خان کے مطابق افغان حکومت نے پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے بانڈڈ کسٹم کی شرط کے جواب میں سینٹرل ایشیا جانے والی پاکستانی کنسائمنٹس کے لیے انشورنس گارنٹی کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انجینئر دارو خان نے افغانستان کے نائب وزیر تجارت مزمل شنواری سے رابطہ کرکے سینٹرل ایشیا کیلیے پاکستانی برآمدات کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے جلد از جلد حل کی اپیل کی جس کے جواب میں افغانستان کے نائب وزیر تجارت نے بتایا کہ پاکستانی کنسائمنٹس کے لیے انشورنس گارنٹی کا نظام چند روز میں متعارف کرادیا جائے گا، جس کے تحت افغانستان کے راستے سینٹرل ایشیا جانیو الی کنسائمنٹس کی انشورنس گارنٹی بینکوں کے ذریعے جمع کرانا ہوگی۔ افغانستان کے ذریعے سینٹرل ایشیا کو برآمدات کرنیوالے پاکستانی تاجروں نے افغان حکام کی جانب سے اس پابندی کو تجارت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
انجینئر دارو خان کے مطابق اس سے قبل بھی پاکستانی ایکسپورٹرز سینٹرل ایشیا کے لیے کنسائمنٹس کی 110فیصد کسٹم ڈیوٹی نقد شکل میں افغان حکام کے پاس جمع کرواتے تھے جس میں سے بمشکل 90فیصد ڈیوٹی ایگزٹ ٹریڈ کی کراس بارڈر سرٹیفکیٹ جمع کرانے پر واپس کی جاتی تھی افغان حکام کی جانب سے روکے گئے 150سے زائد ٹرک افغان حکام کو فی ٹرک 70ہزار روپے فکس ڈیوٹی ادا کرکے سینٹرل ایشیا روانہ کیے گئے ہیں اور مزید کنسائمنٹس کی روانگی موخر کردی گئی ہے۔
افغان حکام نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغان ٹریڈ کے لیے اختیار کردہ پالیسیوں کے جواب میں ویسی ہی پالیسی سینٹرل ایشیا کے لیے پاکستانی ٹریڈ کے لیے عائد کردی جائیں گی اس لیے افغان ٹریڈ کے لیے پاکستانی حکام کی جانب سے بانڈڈ کیئرر سسٹم کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ انجینئر دارو خان نے بتایا کہ اس وقت سینٹرل ایشیا کو پاکستان سے کینو کی برآمدات اپنے عروج پر ہیں اور کینو کا سیزن ختم ہونے کے قریب ہے اس دوران سینٹرل ایشیا کے لیے کنسائمنٹ پر 70ہزار روپے کی فکس ڈیوٹی یا انشورنس گارنٹی کے طریقہ کار کے اطلاق سے کینو سمیت آلو پیاز دیگر خردنی اشیا، سیمنٹ کی برآمدات متاثر ہورہی ہیں اور افغانستان کے راستے سینٹرل ایشیا کو برآمدات معطل ہونے کا خدشہ ہے۔