کوٹری سب رجسٹرار آفس میں لاکھوں روپے کے فراڈ کا انکشاف

پراپرٹی ٹرانسفر فیس کی مد میں وصول ہونیوالی رقم ہڑپ کرلی گئی،ذرائع

حکومت سندھ بورڈ آف ریونیو نے سیاسی بنیادوں پر اندرون سندھ کی 23 تحصیلوںمیں رجسٹریشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سب رجسٹرار کی بھرتیاں کی گئی ہیں۔ فوٹو: فائل

کوٹری سب رجسٹرار آفس میں لاکھوں روپے کے مبینہ فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم نومبر 2012 سے15 جنوری 2013 کے دوران کی گئی رجسٹریوں میں لوگوں سے وصول کی گئی ٹی ایم اے کی پراپرٹی ٹرانسفر فیس اور ارجنٹ رجسٹری فیس جو لاکھوں روپے بنتی ہے سرکاری خزانہ میں جمع نہیں کرائی گئی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت سندھ بورڈ آف ریونیو نے سیاسی بنیادوں پر اندرون سندھ کی 23 تحصیلوںمیں رجسٹریشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سب رجسٹرار کی بھرتیاں کی گئی ہیں، ان میں کوٹری کا سب رجسٹرار بھی شامل ہے جسے شاید محکمہ نے یہ بھی نہیں بتایا کہ رجسٹری کے دوران وصول کی جانے والی فیس سرکاری خزانے میں جمع کرائی جاتی ہے اپنی جیب میں نہیں رکھی جاتی۔




تاہم اندرون سندھ کے مذکورہ شہروں میں تعینات کیے گئے 25 سب رجسٹراروں کے خلاف اپنے ہی محکمے کے 3 کلرکوں آفتاب علی شاہ، نیاز لغاری اور مشتاق احمد نے مبینہ غیر قانونی تقرریوں کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ تقرریاں رجسٹریشن ایکٹ کے منافی ہیں اور محکمے نے بغیر کسی تربیت اور امتحان پاس کرائے بغیر براہ راست سب رجسٹرار کے عہدوں پر تعینات کر دیا ہے جس کے نتیجے میں محکمے کے ایسے ملازمین جنھوں نے ان عہدوں کے لیے محکمہ جاتی امتحان بھی پاس کر لیا ہے ان کی حق تلفی ہوئی ہے جس کے فوری بعد انسپکٹر جنرل رجسٹریشن سندھ نے تمام سب رجسٹراروں سے ان کے عہدوں کا چارج واپس لے لیا ہے جن میں کوٹری کا سب رجسٹرار عبدالجبار بھی شامل ہے۔ زرائع کا مزید کہنا ہے کہ اندورون سندھ تعینات کئے گئے غیر تربیت یافتہ سب رجسٹراروں کے ریکارڈ کی چھان بین کرائی جائے تو مزید سنسنی خیز انکشافات منظر عام پر آئیں گے۔
Load Next Story