ہوئے تم دوست جس کے…

جب امریکا کو پاکستان کو استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ مہربان ہو جاتا ہے

جب امریکا کو پاکستان کو استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ مہربان ہو جاتا ہے ۔ فوٹو : فائل

امریکی سینیٹ میں پاکستان پر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا دباؤ بڑھانے کے لیے دہری حکمت عملی کی تجویز پیش کر دی گئی ہے، جب کہ امریکی اراکین سینیٹ نے پاکستان کا نام نان نیٹو اتحاد کی فہرست سے خارج کرنے کے لیے سینیٹ میں قرارداد پیش کرنے پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔ واضح اور دوٹوک الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ پاکستان کے گرد ٹرمپ انتظامیہ گھیرا تنگ کر رہی ہے۔ دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ قرار دیے جانے والے ملک کو اب معتوب کیا جا رہا ہے، اس کی قربانیوں کو پس پشت ڈال کر کچھ ایسی فضا تخلیق کی جا رہی ہے کہ محرم کو مجرم بنا کر پیش کیا جائے۔ حقیقت میں امریکا اور پاکستان کے تعلقات کی کہانی بڑی پرانی ہے، جو ہمیشہ قربت و دوری، نفرت و محبت اور سفارتی سطح پر اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔

جب امریکا کو پاکستان کو استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ مہربان ہو جاتا ہے کسی بھی آمر پر جس کی مثال جنرل ضیاالحق تھے جن کے ذریعے مجاہدین کی تخلیق کروا کر افغانستان میں مسلح جتھے روانہ کیے گئے اور بالاخر روس کو بھی شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا۔ آمر سے کام نکل گیا تو اپنے سفیر کی قربانی دے کر اس کا خاتمہ کر دیا اور پھر جمہوریت اور جمہوری عمل کی حمایت بھی کر دی۔ دوبارہ افغانستان میں ضرورت پڑی تو آمر پرویز مشرف سے کام لیا، پاکستان کو افغانستان کی دلدل میں پھنسا کر امریکا نے پھر منہ پھیر لیا۔ اور اب توپوں کا رخ پاکستان کی طرف ہے۔ باغیوں کی حمایت کا الزام لگا کر امریکی سینیٹ میں نیشنل ڈیفنس آتھو رائزیشن ایکٹ 2018ء میں مجوزہ ترمیم کی تجویز سینیٹر جان مکین نے پیش کی جو طاقتور سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ ہیں اور ان کی پیش کردہ قانونی تجاویز کانگریس سے منظوری حاصل کرتی ہیں۔


اس ترمیم میں پاکستان کے حوالے سے شامل حصے میں امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسی مجموعی سول عسکری حکمت عملی کا استعمال کیا جائے جو واشنگٹن کے سٹرٹیجک عزائم کو پورا کرنے میں مدد دے۔ اس بات کا جواب تو یہ ہے کہ آپ کے عزائم تو بڑے خطرناک اور دوست کش قسم کے ہیں۔ کیونکہ اس سے قبل چودہ جولائی کو امریکی ایوان نمایندگان نے قانون سازی میں تین ترامیم منظور کی تھیں، جن کا تعلق پاکستان کو فراہم کی جانے والی دفاعی فنڈنگ کی شرائط سے تھا۔

ان تین ترامیم میںپاکستان کو آگاہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ امریکی امداد کی وصولی جاری رکھنا چاہتا ہے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اطمینان بخش پیش رفت کا مظاہرہ کرے۔ کیا پاکستان نے ستر ہزار سے زائد قربانیاں دے کر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اطمینان بخش ''پیش رفت '' نہیں کی ہے؟ خطے میں صورتحال تبدیل ہو رہی ہے، روس اور چین عالمی طاقتیں بن کر ابھر رہے ہیں پاکستان کے پاس آپشنز کھلے ہیں۔ امریکا کو بھی ''ہتھ ہولا'' رکھنا چاہیے جب کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے اندرونی استحکام اور عالمی سطح پر اپنے موقف کے لیے ٹھوس لائحہ عمل مرتب کرے اور امریکی دوستی نبھانے کے عمل پر نظرثانی کرے۔
Load Next Story