پاک چین فوجی تعاون

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاک فوج کو چین کے ساتھ دوستی پر فخر ہے

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاک فوج کو چین کے ساتھ دوستی پر فخر ہے . فوٹو : فائل

چین کے سفیر نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان تعاون پاک چین تعلقات کا بڑا ستون ہے۔ وہ پیپلز آرمی کے یوم تاسیس کی تقریب میں گفتگو کر رہے تھے، تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ چین اور پاکستان اپنی سالمیت اور خودمختاری کی حفاظت کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہیں گے۔

اس واشگاف حقیقت سے کس کو انکار ہو گا کہ پاک چین عسکری سپہ سالاروں کے مشترکہ جذبات و خیالات دو طرفہ علاقائی سیکیورٹی معاملات، عالمی امور پر اتفاق رائے، خطے کی بدلتی حرکیات سے متعلق استقامت پر مبنی ہم خیالی اورا سٹریٹجیکل ہم آہنگی کے جس مفاہمانہ تناظر کی تصویر کشی کرتے ہیں وہ آج کی بات نہیں بلکہ یہ پاک چین دوستی اور باہمی تعلقات کی نصف صدی کا قصہ ہے جو ایک طویل دورانیے پر محیط تاریخ کی ترجمانی کرتا ہے اور اس کے آئینہ میں پاک چین دوستی کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے عوام کی امنگوں کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے اور ان کے دل ساتھ ساتھ دھڑکتے ہیں۔

مگر بعض عالمی قوتوں کو یہی بات بری لگتی ہے اور بھارت سمیت دیگر پڑوسی ملک خائف رہنے لگے ہیں، ادھر امریکا کو چین کی بڑھتی ہوئی سیاسی اور اقتصادی قوت بننے پر تشویش لاحق ہے اور اسے روکنے کے جتن ہو رہے ہیں، عالمی قوتوں کے مابین پاک چین دوستی میں دراڑ ڈالنے کی ریشہ دوانیاں بھی عروج پر ہیں، خطے کو ایک نئے گریٹ گیم کا سامنا ہونے کے بھی اشارے مل رہے ہیں، امریکا، بھارت، افغانستان ٹرائنگل اپنے باہمی سیکیورٹی گٹھ جوڑ کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام چاہتا ہے جب کہ افغان صورتحال کے مخدوش تناظر اور عالمی امور میں چین کے اثر و رسوخ پر انکل سام کی تشویش بلاوجہ ہے۔ اس لیے پاک چین دوستی اور اس حوالے سے تعلقات کی حالیہ پیش رفتوں نے بڑی طاقتوں کو خود اپنے پیدا کردہ تزویراتی مخمصہ میں ڈال دیا ہے۔


جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاک فوج کو چین کے ساتھ دوستی پر فخر ہے، ان کا یہ عزم قومی جذبہ کا عکاس ہے کہ سی پیک کو ہر قیمت پر کامیاب بنائیں گے، انھوں نے کشمیر کے مسئلے پر چین کی حمایت اور شنگھائی تعاون تنظیم میں مکمل رکن کی حیثیت میں شامل ہونے پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کیا، ہماری عسکری قیادت کا صائب موقف ہے کہ پاکستان اور چین کو یکساں چیلنجز کا سامنا ہے، مشترکہ چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے متحد ہونا ہی ہو گا، پاکستان اور چین اہم اسٹرٹیجک شراکت دار ہیں، یقین ہے کہ پاک فوج اور پیپلز لبریشن آرمی کے درمیان پیشہ ورانہ تعاون مزید بڑھے گا۔

آرمی چیف نے چینی صدر شی جن پھنگ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ پیپلزلبریشن آرمی کے پیشہ ورانہ معیار کا کوئی ثانی نہیں، دفاعی تعاون اور مشترکہ منصوبے پاک چین دوستی کی علامت ہیں، انھوں نے کہا کہ چین اور پاکستان اپنی سالمیت اور خودمختاری کی حفاظت کے لیے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے، ہماری دوستی تمام سطحوں پر ملک سے ملک کے تعلقات میں منفرد اور بے مثال ہے، آرمی چیف کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں چین کے پرامن کردار کو سراہتا ہے۔

جنرل باجوہ نے انسداد دہشتگردی کے حوالے سے دونوں ملکوں کے تعاون، علاقائی اور بین الاقوامی خدشات کے دیگر پہلووں کا بھی ذکر کیا۔ اس ضمن میں تقریب میں بڑی تعداد میں سول اور فوجی حکام نے شرکت کی، تقریب کی میزبانی چینی فوج، بحریہ اور ایئر اتاشی میجر جنرل اور مسز چن وینگونگ نے کی جنھوں نے بڑھتے ہوئے پاک چین تعلقات خاص طور پر فوجی سطح پر تعلقات میں اضافے کی تعریف کی ا ور اس سدا بہار شراکت داری کو برقرار رکھنے کے اپنے ملک کے عزم کی توثیق کی، چینی سفیر نے اس موقعے پر سیکیورٹی کے حوالے سے آرمی کے تعاون کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک خطے میں ترقی اور خوشحالی لائے گا، سی پیک کے مثبت اثرات خطے کے سب ممالک پر ہوں گے۔

بلاشبہ سرد جنگ کے بعد پاک چین سیکیورٹی تعلقات میں معنی خیز پیش رفت ہوئی ہے جس سے خطے کی سلامتی کے نئے تقاضے اور چیلنجز درپیش ہیں، سی پیک کے حوالہ سے چین کی شراکت اور علاقائی سیاسی اور اقتصادی سرگرمیوں، روس اور پاکستان کے مابین تعلقات کی قابل فہم گرمجوشی اور بلوچستان میں ترقی و خوشحالی کے امکانات سے سی پیک کا جڑ جانا ان ناراض قوتوں کے لیے سوہان روح بنا ہوا ہے جو پاکستان کو داخلی عدم استحکام کا مرکز بنانے کی سازش میں ایک پیج پر ہیں، تاہم بلوچستان میں سی پیک کو ہر قسم کے غیر ملکی خدشات اور جارحیت سے بچانے کے لیے پاک چین عسکری قیادت کی سوچ میں ہم آہنگی اور علاقائی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے چین و پاکستان کے ماہرین کی سیکیورٹی میکنزم کی مضبوطی دشمن کے حوصلے پست کرنے کے لیے کافی ہے۔ دونوں ملکوں کی عسکری قیادت کے عزم اور غیر متزلزل دوستی اس بات کی ضمانت ہے کہ کوئی طاقت پاک چین دوستی اور سیکیورٹی یکجہتی کے ستون کو کبھی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ یہ دوستی لازوال اور خطے کے دائمی مفاد میں ہے۔
Load Next Story