جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لیے

جے آئی ٹی بنانے سے لے کر حسین نواز کی تصویر لیک ہونے اور ظفر حجازی کے معاملے تک میں کوئی نادیدہ قوت ملوث تھی۔

tauceeph@gmail.com

KARACHI:
رچرڈ نکسن امریکا کے 37 ویں صدر تھے۔ واٹر گیٹ اسکینڈل میں ملوث ہونے کے ثبوت ملنے کے بعد امریکی کانگریس سے مواخذے سے قبل مستعفیٰ ہوگئے۔ وزیراعظم نواز شریف پاناما لیکس کے افشا ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے سامنے رضاکارانہ طور پر پیش ہوئے۔ سپریم کورٹ نے انھیں پبلک عہدے کے لیے نااہل قرار دیا اور وہ مستعفیٰ ہوئے۔ نکسن جنوری 1969 کو امریکا کے 37 ویں صدر منتخب ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکا ویتنام کی جنگ میں مکمل طور پر ملوث ہوچکا تھا۔

13 جون 1971 کو نیویارک ٹائمز میں پینٹاگون پیپرز سے اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا۔ پینٹاگون پیپرز میں ویتنام کی جنگ کے بارے میں امریکا کی وزارت دفاع کی مکمل تاریخ موجود تھی۔ امریکی فوج نے ویتنام میں عام لوگوں کو ہلاک کرنے کی بہیمانہ مثالیں قائم کی تھیں۔ پینٹاگون پیپرز میں یہ تمام تاریخ درج تھی۔ واشنگٹن پوسٹ نے بھی پینٹاگون پیپرز کو قسط وار شایع کرنا شروع کیا تھا۔

پھر واشنگٹن پوسٹ نے 17 جون 1972کو یہ خبر شایع کی کہ پولیس نے 5 افراد کو گرفتار کیا جن کا دعویٰ تھا کہ وہ سی آئی اے کے لیے کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ واٹر گیٹ کی عمارت میں جاسوسی کے آلات لگانے کی کوشش کررہے تھے کہ گرفتار کرلیے گئے۔ یکم اگست 1972 کو اخبارات کے خبروں کے صفحات پر یہ خبریں شایع ہوئیں کہ ملزمان ڈیموکریٹک پارٹی کے دفتر جو واٹر گیٹ ہوٹل میں قائم تھا، میں رونما ہونے والی کارروائی کے لیے جاسوسی کے آلات لگانے کی کوشش کررہے تھے۔

واشنگٹن پوسٹ نے یہ خبریں شایع کیں کہ واٹر گیٹ کے بینک اکاؤنٹ کے بارے میں کسی خفیہ آپریشن کے ذریعے معلومات حاصل کی گئیں۔ یہ خبریں بھی شایع ہوئیں کہ صدر نکسن نے اپنے مخالف امیدوا رکی سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کے لیے ان کے دفتر میں جاسوسی کے آلات لگانے کا ارادہ کیا تھا۔ 30 جنوری 1973 کو واشنگٹن پوسٹ میں یہ خبریں شایع ہوئیںکہ صدر نکسن کے قریبی معاون جی گورڈن لیڈی اور ڈبلیو میکارڈ کو واٹر گیٹ کی عمارت میں جاسوسی کے آلات نصب کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ واٹر گیٹ اسکینڈل کی اشاعت پر نکسن کے قریبی معاونین ایچ آر ہولڈمین اور جان انرچ مین کو گرفتار کیا گیا۔

بعد ازاں واٹر گیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کا آغاز ہوا۔ یہ تحقیقات قومی ٹیلی وژن پر براہِ راست دکھائی دینے لگی۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے قائم ہونے والی سینیٹ کی کمیٹی نے ٹیلی وژن پر تحقیقات براہِ راست دکھانے کا فیصلہ کیا۔ وائٹ ہاؤس اور وزارت داخلہ کے کئی افسروں کو سینیٹ میں طلب کیا گیا اور ان کے بیانات قلم بند کیے گئے۔ اس دوران نکسن کے پریس سیکریٹری اس گنجلک صورتحال کا مقابلہ نہ کرسکے اور اچانک انتقال کرگئے۔ سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے ثبوت پیش ہوئے تو رچرڈ نکسن نے صدارت سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا۔


پاناما لیکس جب دنیا بھر کے اخبارات کی زینت بنی تو جمہوری ممالک میں پاناما میں قائم غیر قانونی آف شور کمپنیوں کے بارے میں تحقیقات کا شور مچ گیا۔ سب سے پہلے آئس لینڈ کے وزیراعظم اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوئے۔ برطانوی وزیراعظم کے والد کا نام بھی غیر قانونی آف شور کمپنیوں کے اسکینڈل میں آیا، مگر وزیراعظم براؤن کا خود اس کاروبار سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس بار لندن میں معاملہ وزیراعظم کی مداخلت سے ختم ہوا۔ وزیراعظم نواز شریف نے پاناما لیکس کے افشا ہونے پر قوم سے خطاب کیا اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، مگر اس وقت کے چیف جسٹس نے یہ معاملہ پارلیمنٹ کو بھجوادیا۔ حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین اس اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے ٹرمز آف ریفرنس پر متفق نہ ہوئے۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اس اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجو ع کیا۔ عمران خان نے اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا تو سپریم کورٹ نے مداخلت کی۔ سپریم کورٹ نے 6 ماہ تک اس مقدمے کی سماعت کی۔ جوائنٹ انویسٹی گیشن کمیٹی کے قیام کے بعد وزیراعظم، ان کی بیٹی، بیٹوں، بھائی، قریبی عزیزوں اور دیگر متعلقہ افراد جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اب 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دے دیا۔ مگر نواز شریف کی برطرفی کی وجہ پاناما لیکس نہیں بنی بلکہ یو اے ای میں ملازمت کے لیے اقامہ کو بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔ بعض قانونی ماہرین اس فیصلے کو کمزور ترین فیصلہ قرار دیتے ہیں۔

نواز شریف کا کہنا ہے کہ ان کو کرپشن کی بنیاد پر سزا نہیں دی گئی اور ان کے خلاف سازش کی گئی ہے جس میں عالمی قوتیں بھی ملوث ہیں۔ عوام نے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے جولائی 1977 میں ایسے ہی تقریر سنی تھی۔

سیاسیات کے اساتذہ کہتے ہیں کہ امریکا میں 1972 میں واٹر گیٹ اسکینڈل ایک مختلف نوعیت کا معاملہ تھا۔ پہلی دفعہ امریکی صدر کو تحقیقاتی کمیٹی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور امریکی حکومت کے افسروں نے اپنے صدر کے خلاف شہادتیں دی تھیں مگر امریکا میں کانگریس، وائٹ ہاؤس اور وزارت قانون کے علاوہ کوئی اور ادارہ اس معاملے میں ملوث نہیں ہوا۔ امریکی فوج نے واٹر گیٹ اسکینڈل کی تحقیقات اور رچرڈ نکسن کے مستعفیٰ ہونے سے اس معاملے میں کئی مداخلت نہیں کی، یوں ایک خودمختار مضبوط سیاسی نظام اپنے صدر کے احتساب کے بعد مزید مضبوط ہوا۔

پاکستان میں ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان سے نواز شریف تک کوئی بھی اپنی میعاد پوری نہیں کرپایا۔ میاں نواز شریف تیسری دفعہ وزیراعظم بنے مگر 5 سال مکمل ہونے میں ابھی 9 ماہ باقی تھے تو وہ نااہل قرار پائے۔ پاناما اسکینڈل کے معاملے میں نادیدہ قوتوں کے کردار کا ذکر ہوتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جے آئی ٹی بنانے سے لے کر حسین نواز کی تصویر لیک ہونے اور ظفر حجازی کے معاملے تک میں کوئی نادیدہ قوت ملوث تھی۔ مسلم لیگ کو نئے وزیراعظم کی قیادت میں اس کی مدت پوری کرنے کا موقع ملے گا اور آئین کے تحت اگلے سال جون میں عام انتخابات منعقد ہوں اور ان انتخابات کے نتائج کو سب تسلیم کریں تو پاناما اسکینڈل جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ دوسری صورت میں ملک پھر ایک بحران کا شکار ہوگا۔
Load Next Story