پاکستان کرکٹ کے ’’گاڈ فادر‘‘
ایل سی سی اے کے سربراہ نئے نئے گورننگ بورڈ میں آئے ہیں لہذا کوئی محاذ آرائی نہیں چاہتے۔
بڑے بڑے چیئرمین آئے اور گئے مگر یہ مختلف حیثیتوں میں اپنی جگہ ڈٹے رہے۔ فوٹو: فائل
لاہور:
پاکستان کرکٹ کے ''گاڈ فادر'' کون ہیں، اس حوالے سے سوچیں تو مختلف نام ذہن میں آتے ہیں، میڈیا، سابق کرکٹرز یا دیگر لوگ لاکھ شور مچائیں یہاں بھی بڑے بڑے فیصلے ہو جاتے ہیں اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، کسی پسندیدہ شخص کو اگر ملازمت دینی ہے چاہے وہ پہلے برطرف ہو چکا ہو مگر پھر نئی پوسٹ تخلیق کرکے اسے واپس لے آیا جاتا ہے۔
ہارون رشید اس کی روشن مثال ہیں، کبھی کہا جاتا ہے پی ایس ایل کمپنی بنے گی پھر کہا جاتا ہے نہیں بنے گی،کسی کو انعام دلانا ہو یا کچھ اورسب کچھ ہو جاتا ہے کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، جیسے حال ہی میں ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈرافٹ سسٹم لایا گیا،اس میں بھی کسی کی بات نہ سنی گئی،پہلے یہ تجویز آئی کہ8کھلاڑی ریجنز اور دیگر ڈرافٹنگ سے منتخب ہوں گے۔
پھرجب کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن نے شور مچایا تو بات 10-10 پر آ گئی، اس پر بھی تنقید کا سلسلہ جاری ہے، سابق کرکٹرز کے بعد خود پی سی بی کے ڈائریکٹر اکیڈمیز مدثر نذر نے بھی اس فیصلے پر دبے الفاظ میں اظہار ناپسندیدگی کیا، حیران کن بات یہ ہے کہ ملکی کرکٹ کا اتنا اہم فیصلہ کرنے سے قبل انھیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، اگر وہ انگلینڈ میں تھے اور فون کالز پر پی سی بی کے خزانے سے قیمتی چند سو روپے ضائع ہو جاتے تو واٹس ایپ، اسکائپ وغیرہ کے ذریعے رابطہ کر لیتے مگر ایسا نہ ہوا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس گورننگ بورڈ سے مجوزہ تبدیلیوں کو منظور کرایا گیا اس میں سے3 تو شہریارخان، نجم سیٹھی اور شکیل شیخ ہو گئے، دیگر 4 ڈپارٹمنٹس کے نمائندے تھے جو ویسے ہی ریجنل کرکٹ کو پسند نہیں کرتے، باقی بچے تین ان میں سے ایک راولپنڈی کا نمائندہ تو خواب میں بھی شکیل شیخ کی مخالفت کا نہیں سوچ سکتا تھا، رہ گئے باقی 2 تو پشاور کے گل زادہ مصلحتاً خاموش رہے مگر کراچی کے اعجاز فاروقی سے برداشت نہ ہوا، وہ پہلے ہی چیئرمین کو خط لکھ کر احتجاج کرچکے تھے۔
میٹنگ میں بھی ان کا شکیل شیخ سے خوب بحث مباحثہ ہوا لہذا وہ واک آؤٹ کرکے چلے گئے، ویسے بھی نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا، تبدیلیوں پر گورننگ بورڈ کی ربڑ اسٹیمپ لگ گئی اور اب اگلے سیزن سے اطلاق ہو جائے گا، اب کہا جا رہا ہے کہ کراچی کے سوا کسی نے اعتراض نہیں کیا تو بھائی وہ کہاں اعتراض کرتے، اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے قبل تمام ریجنز کو اعتمادمیں لینا چاہیے تھا، بدقسمتی سے بعض لوگ اسے پی سی بی اورکراچی کی لڑائی قرار دے رہے ہیں حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے، اس کا نقصان لاہور کو بھی اتنا ہی ہو گا جتنا کراچی کو ہو رہا ہے، مگر ابھی کوئی یہ سمجھ نہیں رہا، ایل سی سی اے کے سربراہ نئے نئے گورننگ بورڈ میں آئے ہیں لہذا کوئی محاذ آرائی نہیں چاہتے حالانکہ انھیں چپ نہیں رہنا چاہیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ الٹا اعجازفاروقی کیخلاف مہم شروع ہوگئی کہ انھیں صدر کے سی سی اے کی پوسٹ پر دوبارہ نہ آنے دیا جائے، بعض لوگ خطرناک حد تک لوکل کرکٹ پالیٹکس میں بھی ملوث ہیں،اصل مسئلہ حل کرنے کے بجائے آواز اٹھانے والوں کا پتا صاف کر دیا جائے فی الحال تو ایسی ہی پالیسی نظر آ رہی ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلی کے فیصلے میں اہم کردار شکیل شیخ کا رہا، بڑے بڑے چیئرمین آئے اور گئے مگر یہ مختلف حیثیتوں میں اپنی جگہ ڈٹے رہے،اعجاز بٹ، ذکا اشرف ہوں شہریارخان یا نجم سیٹھی چاروں کے ساتھ شیخ صاحب ایسے ایڈجسٹ ہوئے جیسے بہت سے سیاستدان حکمران جماعتوں کے ساتھ ہو جاتے ہیں، بعض باتوں کی وجہ سے کوئی بورڈ چیف ان کی مخالفت مول لینے کو تیار نہیں ہوتا، وہ ایک تجربہ کار سیاسی نیوز رپورٹر اور اعلیٰ حلقوں میں خاصی شناسائی بھی رکھتے ہیں، راولپنڈی اور اسلام آباد میں کرکٹ کے حوالے سے کوئی پتہ بھی ان کی اجازت کے بغیر نہیں ہلتا، دیگر ریجنزمیں بھی ان کا بڑا اثرورسوخ ہے،گورننگ بورڈ کو بھی یہ اپنے بس میں کر لیتے ہیں۔
چیئرمین کو کسی بات پر ریجنز یا کسی اور کی حمایت درکار ہو تو شکیل شیخ اس کی مدد کیلیے نہ صرف سب سے آگے ہوتے بلکہ دیگر کو بھی قائل کر لیتے ہیں، دبنگ طبعیت کی وجہ سے بڑی سے بڑی بات کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے،آپ اس سے اندازہ لگا لیں کہ لاہور میں پی سی بی کا سالانہ اجلاس عام ہو رہا تھا وہاں اچانک وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور نجم سیٹھی کو پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دینے اور چیئرمین پی سی بی بنانے کی قرارداریں منظور کرا لیں حالانکہ ایسی باتیں وہاں کی ہی نہیں جا سکتی تھیں، جیسے پہلے بتایا ڈومیسٹک کرکٹ ان کا پسندیدہ موضوع ہے۔
ٹیموں کی تعداد کم کرانے میں بھی شیخ صاحب کا اہم کردار تھا کہ اس سے معیار بہتر ہو گا، وہ خود اسلام آباد ریجن سے منسلک ہیں مگر اب ریجنز کے پیچھے پڑ گئے کہ وہاں سیاست اور اقربا پروری بہت ہے، لہذا بطور ڈومیسٹک افیئرز کمیٹی چیف انھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی ڈرافٹ سسٹم لاگو کرا دیا، ہر انسان کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے اور اولاد سے بڑی کمزوری کوئی ہو ہی نہیں سکتی، شکیل شیخ کا بیٹا ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہا اور وہ اچھا کھلاڑی ہے۔
آسٹریلیا انڈر19 کیخلاف ہیٹ ٹرک بھی بنا چکا، مگروہ اس کی وجہ سے بعض معاملات میں مفاہمت پربھی مجبور ہو جاتے ہیں، جیسے سب جانتے ہیں کہ کرکٹ میں پیسہ کون لانا چاہتا ہے یقیناً نجم سیٹھی، انھیں بدقسمتی سے کرکٹ کا بالکل بھی علم نہیں اور وہ اب چیئرمین بھی بننے والے ہیں، انھوں نے ہی شکیل شیخ کے ساتھ مل کر ڈومیسٹک فرسٹ کلاس مقابلوں میں ڈرافٹ سسٹم لانے کا منصوبہ بنایا جس سے لاتعداد نوجوان باصلاحیت کرکٹرز کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع نہیں مل سکے گا، ایسا لگتا ہے کہ مستقبل میں تمام ریجنل ٹیموںکو کارپوریٹ اداروں کو فروخت کر دیا جائے گا، کراچی اور لاہور ایسوسی ایشنز ماضی کا قصہ یا بالکل بے اختیار بن جائیں گی۔
اس سے پیسہ تو آئے گا لیکن نیا ٹیلنٹ ملنا بہت کم ہو جائے گا، امیروں کے بچے کھیلیں گے غریب کلب میچز سے شوق پورا کر لیا کریں گے، اس فیصلے میں نجم سیٹھی بھی برابر کے شریک ہیں مگر فرنٹ لائن پر شکیل شیخ ہیں، وہ گورننگ بورڈ سے تو فارغ ہو گئے جب آخری میٹنگ میں ایک رکن نے انھیں کوئی اور عہدہ دینے کی بات کی تو سیٹھی صاحب نے کوئی واضح جواب نہ دیا، مستقبل میں اگرڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلیوں کا حالیہ فیصلہ غلط ثابت ہوا تو سب سے زیادہ بُرا بھلا شکیل شیخ کو ہی کہا جائے گا، کہیں وہ کسی کے ہاتھوں استعمال تو نہیں ہو گئے؟ کہیں کسی نے ان کے کندھے پر رکھ کر بندوق تو نہیں چلا دی؟ ان سوالات کے جواب انھیں خود تلاش کرنے ہوںگے۔
آخر میں کچھ نجم سیٹھی کا ذکر کر لیں،گزشتہ دنوں وہ میڈیا سے شکوہ کرتے نظر آئے کہ وہ ''فکسرز'' کو سپورٹ کر رہا ہے، یہ سن کر حیرت ہوئی کیونکہ اسپاٹ فکسنگ کیس میں ابھی ملزمان پر جرم ثابت نہیں ہوا، جنھیں بچانا تھا انھیں چند ماہ کی سزا دے کر چھوڑ دیا گیا، الزام لگنے کے باوجود پوری پی ایس ایل کھلا دی گئی تھی، جیل جانے والے محمد عامر کو واپس لانے کا کریڈٹ وہ خود لیتے ہیں، مشکوک ماضی کے باوجود وقار یونس کو کوچ ان کے دور میں بنایا گیا،وسیم اکرم کو لیگ کا سفیر انھوں نے بنایا، انضمام الحق کو چیف سلیکٹر اور مشتاق احمد کو اکیڈمی کوچ مقررکیا گیا، ایسے میں میڈیا پر الزام سمجھ سے باہر ہے،اب وہ چیئرمین بننے والے ہیں لہذا الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔
پاکستان کرکٹ کے ''گاڈ فادر'' کون ہیں، اس حوالے سے سوچیں تو مختلف نام ذہن میں آتے ہیں، میڈیا، سابق کرکٹرز یا دیگر لوگ لاکھ شور مچائیں یہاں بھی بڑے بڑے فیصلے ہو جاتے ہیں اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، کسی پسندیدہ شخص کو اگر ملازمت دینی ہے چاہے وہ پہلے برطرف ہو چکا ہو مگر پھر نئی پوسٹ تخلیق کرکے اسے واپس لے آیا جاتا ہے۔
ہارون رشید اس کی روشن مثال ہیں، کبھی کہا جاتا ہے پی ایس ایل کمپنی بنے گی پھر کہا جاتا ہے نہیں بنے گی،کسی کو انعام دلانا ہو یا کچھ اورسب کچھ ہو جاتا ہے کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، جیسے حال ہی میں ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈرافٹ سسٹم لایا گیا،اس میں بھی کسی کی بات نہ سنی گئی،پہلے یہ تجویز آئی کہ8کھلاڑی ریجنز اور دیگر ڈرافٹنگ سے منتخب ہوں گے۔
پھرجب کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن نے شور مچایا تو بات 10-10 پر آ گئی، اس پر بھی تنقید کا سلسلہ جاری ہے، سابق کرکٹرز کے بعد خود پی سی بی کے ڈائریکٹر اکیڈمیز مدثر نذر نے بھی اس فیصلے پر دبے الفاظ میں اظہار ناپسندیدگی کیا، حیران کن بات یہ ہے کہ ملکی کرکٹ کا اتنا اہم فیصلہ کرنے سے قبل انھیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، اگر وہ انگلینڈ میں تھے اور فون کالز پر پی سی بی کے خزانے سے قیمتی چند سو روپے ضائع ہو جاتے تو واٹس ایپ، اسکائپ وغیرہ کے ذریعے رابطہ کر لیتے مگر ایسا نہ ہوا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس گورننگ بورڈ سے مجوزہ تبدیلیوں کو منظور کرایا گیا اس میں سے3 تو شہریارخان، نجم سیٹھی اور شکیل شیخ ہو گئے، دیگر 4 ڈپارٹمنٹس کے نمائندے تھے جو ویسے ہی ریجنل کرکٹ کو پسند نہیں کرتے، باقی بچے تین ان میں سے ایک راولپنڈی کا نمائندہ تو خواب میں بھی شکیل شیخ کی مخالفت کا نہیں سوچ سکتا تھا، رہ گئے باقی 2 تو پشاور کے گل زادہ مصلحتاً خاموش رہے مگر کراچی کے اعجاز فاروقی سے برداشت نہ ہوا، وہ پہلے ہی چیئرمین کو خط لکھ کر احتجاج کرچکے تھے۔
میٹنگ میں بھی ان کا شکیل شیخ سے خوب بحث مباحثہ ہوا لہذا وہ واک آؤٹ کرکے چلے گئے، ویسے بھی نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا، تبدیلیوں پر گورننگ بورڈ کی ربڑ اسٹیمپ لگ گئی اور اب اگلے سیزن سے اطلاق ہو جائے گا، اب کہا جا رہا ہے کہ کراچی کے سوا کسی نے اعتراض نہیں کیا تو بھائی وہ کہاں اعتراض کرتے، اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے قبل تمام ریجنز کو اعتمادمیں لینا چاہیے تھا، بدقسمتی سے بعض لوگ اسے پی سی بی اورکراچی کی لڑائی قرار دے رہے ہیں حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے، اس کا نقصان لاہور کو بھی اتنا ہی ہو گا جتنا کراچی کو ہو رہا ہے، مگر ابھی کوئی یہ سمجھ نہیں رہا، ایل سی سی اے کے سربراہ نئے نئے گورننگ بورڈ میں آئے ہیں لہذا کوئی محاذ آرائی نہیں چاہتے حالانکہ انھیں چپ نہیں رہنا چاہیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ الٹا اعجازفاروقی کیخلاف مہم شروع ہوگئی کہ انھیں صدر کے سی سی اے کی پوسٹ پر دوبارہ نہ آنے دیا جائے، بعض لوگ خطرناک حد تک لوکل کرکٹ پالیٹکس میں بھی ملوث ہیں،اصل مسئلہ حل کرنے کے بجائے آواز اٹھانے والوں کا پتا صاف کر دیا جائے فی الحال تو ایسی ہی پالیسی نظر آ رہی ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلی کے فیصلے میں اہم کردار شکیل شیخ کا رہا، بڑے بڑے چیئرمین آئے اور گئے مگر یہ مختلف حیثیتوں میں اپنی جگہ ڈٹے رہے،اعجاز بٹ، ذکا اشرف ہوں شہریارخان یا نجم سیٹھی چاروں کے ساتھ شیخ صاحب ایسے ایڈجسٹ ہوئے جیسے بہت سے سیاستدان حکمران جماعتوں کے ساتھ ہو جاتے ہیں، بعض باتوں کی وجہ سے کوئی بورڈ چیف ان کی مخالفت مول لینے کو تیار نہیں ہوتا، وہ ایک تجربہ کار سیاسی نیوز رپورٹر اور اعلیٰ حلقوں میں خاصی شناسائی بھی رکھتے ہیں، راولپنڈی اور اسلام آباد میں کرکٹ کے حوالے سے کوئی پتہ بھی ان کی اجازت کے بغیر نہیں ہلتا، دیگر ریجنزمیں بھی ان کا بڑا اثرورسوخ ہے،گورننگ بورڈ کو بھی یہ اپنے بس میں کر لیتے ہیں۔
چیئرمین کو کسی بات پر ریجنز یا کسی اور کی حمایت درکار ہو تو شکیل شیخ اس کی مدد کیلیے نہ صرف سب سے آگے ہوتے بلکہ دیگر کو بھی قائل کر لیتے ہیں، دبنگ طبعیت کی وجہ سے بڑی سے بڑی بات کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے،آپ اس سے اندازہ لگا لیں کہ لاہور میں پی سی بی کا سالانہ اجلاس عام ہو رہا تھا وہاں اچانک وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور نجم سیٹھی کو پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دینے اور چیئرمین پی سی بی بنانے کی قرارداریں منظور کرا لیں حالانکہ ایسی باتیں وہاں کی ہی نہیں جا سکتی تھیں، جیسے پہلے بتایا ڈومیسٹک کرکٹ ان کا پسندیدہ موضوع ہے۔
ٹیموں کی تعداد کم کرانے میں بھی شیخ صاحب کا اہم کردار تھا کہ اس سے معیار بہتر ہو گا، وہ خود اسلام آباد ریجن سے منسلک ہیں مگر اب ریجنز کے پیچھے پڑ گئے کہ وہاں سیاست اور اقربا پروری بہت ہے، لہذا بطور ڈومیسٹک افیئرز کمیٹی چیف انھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی ڈرافٹ سسٹم لاگو کرا دیا، ہر انسان کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے اور اولاد سے بڑی کمزوری کوئی ہو ہی نہیں سکتی، شکیل شیخ کا بیٹا ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہا اور وہ اچھا کھلاڑی ہے۔
آسٹریلیا انڈر19 کیخلاف ہیٹ ٹرک بھی بنا چکا، مگروہ اس کی وجہ سے بعض معاملات میں مفاہمت پربھی مجبور ہو جاتے ہیں، جیسے سب جانتے ہیں کہ کرکٹ میں پیسہ کون لانا چاہتا ہے یقیناً نجم سیٹھی، انھیں بدقسمتی سے کرکٹ کا بالکل بھی علم نہیں اور وہ اب چیئرمین بھی بننے والے ہیں، انھوں نے ہی شکیل شیخ کے ساتھ مل کر ڈومیسٹک فرسٹ کلاس مقابلوں میں ڈرافٹ سسٹم لانے کا منصوبہ بنایا جس سے لاتعداد نوجوان باصلاحیت کرکٹرز کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع نہیں مل سکے گا، ایسا لگتا ہے کہ مستقبل میں تمام ریجنل ٹیموںکو کارپوریٹ اداروں کو فروخت کر دیا جائے گا، کراچی اور لاہور ایسوسی ایشنز ماضی کا قصہ یا بالکل بے اختیار بن جائیں گی۔
اس سے پیسہ تو آئے گا لیکن نیا ٹیلنٹ ملنا بہت کم ہو جائے گا، امیروں کے بچے کھیلیں گے غریب کلب میچز سے شوق پورا کر لیا کریں گے، اس فیصلے میں نجم سیٹھی بھی برابر کے شریک ہیں مگر فرنٹ لائن پر شکیل شیخ ہیں، وہ گورننگ بورڈ سے تو فارغ ہو گئے جب آخری میٹنگ میں ایک رکن نے انھیں کوئی اور عہدہ دینے کی بات کی تو سیٹھی صاحب نے کوئی واضح جواب نہ دیا، مستقبل میں اگرڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلیوں کا حالیہ فیصلہ غلط ثابت ہوا تو سب سے زیادہ بُرا بھلا شکیل شیخ کو ہی کہا جائے گا، کہیں وہ کسی کے ہاتھوں استعمال تو نہیں ہو گئے؟ کہیں کسی نے ان کے کندھے پر رکھ کر بندوق تو نہیں چلا دی؟ ان سوالات کے جواب انھیں خود تلاش کرنے ہوںگے۔
آخر میں کچھ نجم سیٹھی کا ذکر کر لیں،گزشتہ دنوں وہ میڈیا سے شکوہ کرتے نظر آئے کہ وہ ''فکسرز'' کو سپورٹ کر رہا ہے، یہ سن کر حیرت ہوئی کیونکہ اسپاٹ فکسنگ کیس میں ابھی ملزمان پر جرم ثابت نہیں ہوا، جنھیں بچانا تھا انھیں چند ماہ کی سزا دے کر چھوڑ دیا گیا، الزام لگنے کے باوجود پوری پی ایس ایل کھلا دی گئی تھی، جیل جانے والے محمد عامر کو واپس لانے کا کریڈٹ وہ خود لیتے ہیں، مشکوک ماضی کے باوجود وقار یونس کو کوچ ان کے دور میں بنایا گیا،وسیم اکرم کو لیگ کا سفیر انھوں نے بنایا، انضمام الحق کو چیف سلیکٹر اور مشتاق احمد کو اکیڈمی کوچ مقررکیا گیا، ایسے میں میڈیا پر الزام سمجھ سے باہر ہے،اب وہ چیئرمین بننے والے ہیں لہذا الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔