منگھوپیر نوجوان کے قتل میں ملوث نامزد ملزمان گرفتار نہ ہوسکے

قاتل آزاد گھوم رہے ہیں اور ہمیں بھی دھمکیاں دے رہے ہیں، لواحقین کی بات چیت.

ملزمان نے بھتیجی کو موٹرسائیکل سے اتار کر 32سالہ عبدالوحید کو گولیاں ماریں۔ فوٹو: فائل

منگھوپیر پولیس نوجوان کے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزمان کو ایک ماہ بعد بھی گرفتار نہیں کرسکی۔

مقتول کے لواحقین کا کہنا ہے کہ قاتل آزاد گھوم رہے ہیں اور انھیں بھی قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں ، قاتلوں پر اندرون سندھ بھی متعدد مقدمات قائم ہیں ، تفصیلات کے مطابق 12 جنوری کو منگھوپیر کے علاقے سلطان آباد میں مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے32سالہ عبدالوحید سومرو کو رہائش گاہ کے قریب ہلاک کردیا تھا ، واقعے کا مقدمہ مقتول کے بھائی عبدالحلیم سومرو کی مدعیت میں الزام نمبر 12/13 درج کیا گیا ، حلیم سومرو نے ایکسپریس کو بتایا کہ ان کے بھائی کا سسرال والوں سے تنازع چل رہا تھا اور وہ اس سمیت تمام اہل خانہ کو قتل کی دھمکیاں دے رہے تھے ، متعدد مرتبہ خاندان اور برادری کے بزرگوں نے معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا لیکن 12 جنوری کو ان کے بھائی کو قتل کردیا گیا ۔




انھوں نے مزید بتایا کہ وقوعہ کے وقت ان کا بھائی موٹر سائیکل پر گھر آرہا تھا اور ایک 5 سالہ بھتیجی بھی ساتھ تھی ، ملزمان نے بھتیجی کو موٹر سائیکل سے اتار کر ان کے بھائی کو اندھادھند فائرنگ کرکے ہلاک کردیا جس کے بعد سے ان کی بھتیجی بھی خوف کے عالم میں اپنی زندگی گزار رہی ہے ، واقعے کے بعد انھوں نے اپنے بھائی کے برادر نسبتی ایاز احمد ، ریاض احمد اور ان کے ماموں ابوبکر کو مقدمے میں نامزد کیا لیکن پولیس انھیں پکڑنے میں تاحال ناکام ہے ، حلیم سومرو نے ایکسپریس کو مزید بتایا کہ قاتل قانون کی گرفت سے آزاد ہیں ، انھیں اور ان کے اہل خانہ کو کھلے عام قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں جس کے باعث وہ اور اہل خانہ انتہائی کرب اور ذہنی اذیت میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔
Load Next Story