منگھوپیر جعلی کرنسی پھیلانے والے گروہ کا سرغنہ گرفتار
نشاندہی پر بغیر چھپے نوٹ، شیشے پر بنی کرنسی نوٹ کی ڈائیاں،کیمیکل اور پستول برآمد
گرفتار ملزم الطاف سے بھارتی خفیہ ایجنسی سے روابط کے سلسلے میں بھی تفتیش جاری. فوٹو : فائل
اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کی پولیس پارٹی نے منگھو پیر کے علاقے میں چھاپہ مار کر جعلی کرنسی کا کام کرنیوالے گروہ کے سرغنہ کو گرفتار کر کے ملزم کی نشاندہی پر30 لاکھ سے زائد بغیر چھپے کرنسی نوٹ ، شیشے پر بنی کرنسی نوٹ کی ڈائیاں ، کیمیکل اور پستول برآمد کر لیا۔
گرفتار ملزم سے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے روابط کے سلسلے میں تفتیش کی جا رہی اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، تفصیلات کے مطابق اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے سب انسپکٹر زاہد علی نے خفیہ اطلاع پر منگھو پیر کنواری کالونی بسم اﷲ ہوٹل کے سامنے سے ایک ملزم سید الطاف حسین شاہ کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے ایک30 بور پستول برآمد کر کے ملزم کی نشاندہی پر گھر پر چھاپہ مار کر30سے 40 لاکھ بغیر چھپے کرنسی نوٹ نما کاغذ، 4 بوتلیں پرنٹنگ میں استعمال کیے جانے والے مختلف اقسام کے کیمیکل ، شیشے پر بنی ایک ہزار روپے والے نوٹ کی4ڈائیاں اور500 روپے والی ایک ڈائی برآمد کر لی۔
سب انسپکٹر زاہد علی نے ایکسپریس کو بتایا کہ گرفتار ملزم کشمیری ہے ، ملزم 15سال سے جعلی کرنسی کا کا م کررہا ہے، ملزم سید الطاف حسین سرغنہ ہے جبکہ اس کے5 رکنی گروہ میں فاروق شاہ ولد میر عبد الرحمن، گل ولی ، جلیل قریشی اور2خواتین شامل ہیں ، اندرون ملک بھی ملزم کے ایجنٹ موجود ہیں ،ملزم کرنسی پرنٹ کروا کر اپنے ساتھیوں کو دیتا تھا جو کچھ لوگوں کو اس کے جعلی ہونے کے بارے میں بتا کر آدھی قیمت پر فروخت کرتے تھے جبکہ کچھ سادہ لوح لوگوں کو لالچ دیکر کہ وہ ان کی رقم ایک گھنٹے میں ڈبل کر دیں گے بول کر فروخت کرتے تھے ، گروہ میں شامل خواتین خوبرو دوشیزہ بتائی جاتی ہیں جو اپنے حسن کے ذریعے بینک افسران اور بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹور پر رقم تبدیل کرتی ہیں، گرفتار ملزم الطاف حسین کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کیلیے کام کرتا ہے۔
گرفتار ملزم سے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے روابط کے سلسلے میں تفتیش کی جا رہی اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، تفصیلات کے مطابق اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے سب انسپکٹر زاہد علی نے خفیہ اطلاع پر منگھو پیر کنواری کالونی بسم اﷲ ہوٹل کے سامنے سے ایک ملزم سید الطاف حسین شاہ کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے ایک30 بور پستول برآمد کر کے ملزم کی نشاندہی پر گھر پر چھاپہ مار کر30سے 40 لاکھ بغیر چھپے کرنسی نوٹ نما کاغذ، 4 بوتلیں پرنٹنگ میں استعمال کیے جانے والے مختلف اقسام کے کیمیکل ، شیشے پر بنی ایک ہزار روپے والے نوٹ کی4ڈائیاں اور500 روپے والی ایک ڈائی برآمد کر لی۔
سب انسپکٹر زاہد علی نے ایکسپریس کو بتایا کہ گرفتار ملزم کشمیری ہے ، ملزم 15سال سے جعلی کرنسی کا کا م کررہا ہے، ملزم سید الطاف حسین سرغنہ ہے جبکہ اس کے5 رکنی گروہ میں فاروق شاہ ولد میر عبد الرحمن، گل ولی ، جلیل قریشی اور2خواتین شامل ہیں ، اندرون ملک بھی ملزم کے ایجنٹ موجود ہیں ،ملزم کرنسی پرنٹ کروا کر اپنے ساتھیوں کو دیتا تھا جو کچھ لوگوں کو اس کے جعلی ہونے کے بارے میں بتا کر آدھی قیمت پر فروخت کرتے تھے جبکہ کچھ سادہ لوح لوگوں کو لالچ دیکر کہ وہ ان کی رقم ایک گھنٹے میں ڈبل کر دیں گے بول کر فروخت کرتے تھے ، گروہ میں شامل خواتین خوبرو دوشیزہ بتائی جاتی ہیں جو اپنے حسن کے ذریعے بینک افسران اور بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹور پر رقم تبدیل کرتی ہیں، گرفتار ملزم الطاف حسین کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کیلیے کام کرتا ہے۔