جامعہ کراچی میں بھینسوں کے باڑے کھل گئے دودھ کی فروخت

یونیورسٹی نہیں جنگل میں رہ رہے ہیں،اساتذہ، باڑے قائم کرنیوالوں سے انتظامیہ خوفزدہ.

کراچی یونیورسٹی میں اساتذہ کی رہائشی کالونی کے قریب قائم کیا گیا بھینسوں کا باڑہ۔ فوٹو: ایکسپریس

ISLAMABAD:
جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی نااہلی اورمصلحت پسندی کے سبب یونیورسٹی میں تاحال غیرقانونی طورپرمقیم افرادکے خلاف کارروائی کا آغاز تو نہ ہوسکا تاہم یونیورسٹی کیمپس میں ایک اور ''بھینسوں کا باڑہ'' قائم ہوگیا ہے۔

کیمپس کے بیچوں بیچ یہ نیا باڑہ شعبہ حیوانات کے طلبا کیلیے نہیں بلکہ بعض افرادکی جانب سے دودھ کی فروخت کیلیے قائم کیاگیاہے جس سے افسران اورملازمین کے گھروں پر دودھ کی فراہمی جاری ہے، باڑہ ''سی''کیٹگری گھروں کے قریب بنا ہے جہاں اساتذہ آباد ہیں باڑہ کے قیام سے اطراف کے گھروں میں مقیم اساتذہ کی بدبو اور تعفن سے زندگی اجیرن ہوگئی ہے،انتظامیہ کو کی گئی کئی شکایتوں کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی اورمکینوں کی جانب سے غیر قانونی بھینسوں کے باڑے کے قیام کی اطلاع انتظامیہ کوکئی باردی گئی ہے تاہم مصلحت پسندی کی شکار انتظامیہ باڑہ ختم کرنے سے قاصر ہے۔




یونیورسٹی کے اساتذہ کاکہنا ہے کہ لگتا ہے ہم کسی یونیورسٹی میں نہیں بلکہ دیہات میں رہتے ہیں،ایک انتظامی افسر نے ''ایکسپریس'' کوبتایاکہ مذکورہ باڑہ اوراس طرح کے کئی باڑے کیمپس میں قائم ہیں جہاں دودھ کا منظم کاروبار ہورہا ہے، باڑے قائم کرنے والے اتنے بااثر ہیں کہ انتظامیہ ان کیخلاف کارروائی توکیا کچھ کہنے سے بھی قاصر ہے،ادھربھینس باڑے میں موجود ایک شخص کا کہنا تھا کہ ہم نے بھینس باڑہ اساتذہ، طلبا اورملازمین کے لیے قائم کیاہے تاکہ یہاں سے تازہ دودھ خرید کر لے جائیں۔
Load Next Story