جامعہ کراچی وائس چانسلر کی مدت ملازمت کا پہلا سال مکمل کئی عہدے خالی
ریٹائرافسران کی مدت ملازمین میں گورنرہائوس کی اجازت کے بغیر توسیع کردی گئی،سینڈیکیٹ میں سینیٹ کی نمائندگی موجود نہیں.
ریٹائرافسران کی مدت ملازمین میں گورنرہائوس کی اجازت کے بغیر توسیع کردی گئی،سینڈیکیٹ میں سینیٹ کی نمائندگی موجود نہیں۔ فوٹو: فائل
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹرمحمد قیصرنے اپنی 4سالہ مدت ملازمت کا پہلا سال مکمل کرلیاہے تاہم ایک سال گزرجانے کے باوجود یونیورسٹی میں بعض اہم عہدے خالی پڑے ہیں اوران پر تعیناتیاں نہیں کی جاسکی ہیں۔
یونیورسٹی میں پہلی بار ریٹائر افسران کوگورنرہائوس کی اجازت کے بغیران کی مدت ملازمت میں توسیع دے دی گئی اورجامعہ کراچی میں دودرجن کے قریب ایسے ریٹائرافسران یاملازمین تعینات ہیں جن کی تقرری سے کنٹرولنگ اتھارٹی لاعلم ہے، جامعہ کراچی کے ایریا اسٹڈی سینٹربرائے یورپ جہاں اکثر غیرملکی سفیردورے کرتے ہیں اس سینٹرمیں کوئی ڈائریکٹرموجودنہیں، ایک اسسٹنٹ پروفیسر کے پاس اس سینٹرکاچارج ہے، جامعہ کراچی کوشناخت دینے والی محمودحسین لائبریری میں لائبریرین ہی موجودنہیں، سابق لائبریرین ریٹائرہوچکی ہیں، یونیورسٹی میں الحاق سیکریٹری کا عہدہ14جنوری سے خالی ہے جسکے سبب نجی اورسرکاری کالجوں اورانسٹی ٹیوٹس کوالحاق دیے جانیکاسلسلہ رکاہواہے اور یونیورسٹی کاکروڑوں روپے کامنافع دینے والے اس شعبے کاکوئی سربراہ نہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف ہیلوفائیڈمیں بھی کوئی ڈائریکٹر موجود نہیں جبکہ ناظم امتحانات اوررجسٹرارکے عہدے پرتعیناتیاں بغیرسلیکشن بورڈ کے ہی کردی گئی ہیں، آفیسرکیڈرکی ان اسامیوں پر تدریسی عملے سے لوگوں کوتعینات کیاگیاہے جس میں سے رجسٹرارکی اسامی پرتعینات افسرریٹائرہیں، مزید براں شعبہ امتحانات میں ڈپٹی کنٹرولرکونفیڈینشل کی اسامی بھی چارماہ سے خالی ہے، یونیورسٹی میں داتاچیئرکے قیام کے باوجود اس پرکسی ڈائریکٹرکی تقرری نہیں ہوسکی جس کے سبب اس چیئرنے اب تک کام شروع نہیں کیا، یونیورسٹی کے بااختیاراورفیصلہ ساز ادارے سینڈیکیٹ میں سینیٹ کی نمائندگی موجود نہیں اوراس کی نشستوں پر انتخابات نہیں کرائے جاسکے ہیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ رئیس کلیہ فنون کی خالی اسامی پرتقررکے لیے گورنرہائوس تین سینئرپروفیسرزکے نام تاحال نہیں بھجواسکی، یونیورسٹی کی ویب سائٹ کی صورتحال بھی دگرگوں ہے، ویب سائٹ پراب تک ڈین آرٹس کی جگہ پروفیسرڈاکٹرظفراقبال کانام موجود ہے جواردویونیورسٹی کے وائس چانسلرکے عہدے کاچارج لے چکے ہیں، یونیورسٹی ذرائع کاکہناہے کہ جامعہ کراچی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرمحمدقیصراپنی مصلحت پسندی کے سبب یونیورسٹی میں اہم عہدوں پرتقرریوں سے قاصرہیں، یادرہے کہ ڈاکٹرمحمدقیصرنے اردویونیورسٹی میں اپنے دورسربراہی میں رجسٹرارکوبھی کئی بارہٹانے کی کوشش کی تاہم ان کایہ فیصلہ مصلحت پسندی کاشکاررہاجبکہ موجودہ وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرظفراقبال نے اردویونیورسٹی کاچارج سنبھالنے کے پہلے روزہی رجسٹرارکو تبدیل کر دیا۔
یونیورسٹی میں پہلی بار ریٹائر افسران کوگورنرہائوس کی اجازت کے بغیران کی مدت ملازمت میں توسیع دے دی گئی اورجامعہ کراچی میں دودرجن کے قریب ایسے ریٹائرافسران یاملازمین تعینات ہیں جن کی تقرری سے کنٹرولنگ اتھارٹی لاعلم ہے، جامعہ کراچی کے ایریا اسٹڈی سینٹربرائے یورپ جہاں اکثر غیرملکی سفیردورے کرتے ہیں اس سینٹرمیں کوئی ڈائریکٹرموجودنہیں، ایک اسسٹنٹ پروفیسر کے پاس اس سینٹرکاچارج ہے، جامعہ کراچی کوشناخت دینے والی محمودحسین لائبریری میں لائبریرین ہی موجودنہیں، سابق لائبریرین ریٹائرہوچکی ہیں، یونیورسٹی میں الحاق سیکریٹری کا عہدہ14جنوری سے خالی ہے جسکے سبب نجی اورسرکاری کالجوں اورانسٹی ٹیوٹس کوالحاق دیے جانیکاسلسلہ رکاہواہے اور یونیورسٹی کاکروڑوں روپے کامنافع دینے والے اس شعبے کاکوئی سربراہ نہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف ہیلوفائیڈمیں بھی کوئی ڈائریکٹر موجود نہیں جبکہ ناظم امتحانات اوررجسٹرارکے عہدے پرتعیناتیاں بغیرسلیکشن بورڈ کے ہی کردی گئی ہیں، آفیسرکیڈرکی ان اسامیوں پر تدریسی عملے سے لوگوں کوتعینات کیاگیاہے جس میں سے رجسٹرارکی اسامی پرتعینات افسرریٹائرہیں، مزید براں شعبہ امتحانات میں ڈپٹی کنٹرولرکونفیڈینشل کی اسامی بھی چارماہ سے خالی ہے، یونیورسٹی میں داتاچیئرکے قیام کے باوجود اس پرکسی ڈائریکٹرکی تقرری نہیں ہوسکی جس کے سبب اس چیئرنے اب تک کام شروع نہیں کیا، یونیورسٹی کے بااختیاراورفیصلہ ساز ادارے سینڈیکیٹ میں سینیٹ کی نمائندگی موجود نہیں اوراس کی نشستوں پر انتخابات نہیں کرائے جاسکے ہیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ رئیس کلیہ فنون کی خالی اسامی پرتقررکے لیے گورنرہائوس تین سینئرپروفیسرزکے نام تاحال نہیں بھجواسکی، یونیورسٹی کی ویب سائٹ کی صورتحال بھی دگرگوں ہے، ویب سائٹ پراب تک ڈین آرٹس کی جگہ پروفیسرڈاکٹرظفراقبال کانام موجود ہے جواردویونیورسٹی کے وائس چانسلرکے عہدے کاچارج لے چکے ہیں، یونیورسٹی ذرائع کاکہناہے کہ جامعہ کراچی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرمحمدقیصراپنی مصلحت پسندی کے سبب یونیورسٹی میں اہم عہدوں پرتقرریوں سے قاصرہیں، یادرہے کہ ڈاکٹرمحمدقیصرنے اردویونیورسٹی میں اپنے دورسربراہی میں رجسٹرارکوبھی کئی بارہٹانے کی کوشش کی تاہم ان کایہ فیصلہ مصلحت پسندی کاشکاررہاجبکہ موجودہ وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرظفراقبال نے اردویونیورسٹی کاچارج سنبھالنے کے پہلے روزہی رجسٹرارکو تبدیل کر دیا۔