سراج میمن کی دھرتی کیلیے خدمت کا جذبہ مثال ہے نثار کھوڑو

ادب کے فروغ کیلیے کردار ادا کیا،آرٹس کونسل میں ریفرنس سے مقررین کا خطاب.

سراج الحق میمن کی یاد میں منعقدہ تعزیتی تقریب سے نثار احمد کھوڑو خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

قائم مقام گورنر سندھ نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ سراج الحق میمن کی تعلیم، درس اور اپنی دھرتی کے لیے خدمت کا جذبہ ہمارے لیے ایک عظیم مثال ہے۔

وہ سندھ کی نہ صرف قدآور اور نامور شخصیت تھے بلکہ ایک احساس رکھنے والا دل بھی رکھتے تھے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار کو آرٹس کونسل میںممتاز ادیب، دانشور،قانون دان اور صحافی سراج الحق میمن کی یاد میں منعقدہ ایک یاد گاری ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کا اہتمام آرٹس کونسل کراچی نے کیا تھا، انھوں نے کہا کہ سراج الحق میمن کی تحقیق، پیشہ ورانہ صلاحیتیں، ادبی کاوشیں یا صحافتی میدان میں خدمات ہوں انھوں نے ہر میدان میں اپنا لوہا منوایا ہے۔

 




وہ سندھ دھرتی کے لیے ہمیشہ سوچتے رہے، وہ یہاں کے لوگوں کو امن ، اتحاد و بھائی چارگی کا سبق دیتے تھے، تقریب میں امرجلیل، نور الہدیٰ شاہ، سلیمان شیخ، غلام نبی مغل، نعیم قریشی، احفاظ الرحمٰن، مظہر الحق صدیقی اور ڈاکٹر ایوب شیخ نے سراج الحق میمن کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سراج میمن نے ہمیشہ ترقی پسند لوگوں و تنظیموں کی حمایت کی، وہ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی انتھک محنت وجستجو سے آگے بڑھے، انھوں نے سندھ کے معاشرے کے لیے ہمیشہ مثبت سوچ رکھی اور اسکے لیے جدوجہد کی۔

انھوں نے سندھی زبان و ادب کے فروغ کیلیے ہمیشہ غیر جانبدارانہ کردار ادا کیا اور اپنے قلم کے ذریعے معاشرے میں شعوراجاگر کیا، وہ ایک انسان دوست شخصیت کے مالک تھے جنھوں نے اپنی علمی، ادبی، صحافتی اور معاشرتی خدمات کے ذریعہ سندھ کے لوگوںکو اکٹھا کیا اور ان میں اپنی دھرتی سے پیار کرنے کا سلیقہ و جذبہ اجاگر کیا، مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی شاہراہ یا آڈیٹوریم کا نام سراج الحق میمن سے منسوب کرے تاکہ انکی یاد ہمیشہ باقی رہے، مشہور ادیب وقلم کار امر جلیل نے کہا کہ سندھ کی بربادی و تباہی کے ذمے دار بیرونی ہاتھ یا قوم پرست تنظیمیں نہیںبلکہ اسی دھرتی کے وڈیرے ، جاگیردار و سردار ہیں جو نہیں چاہتے کہ ہمارے بچے تعلیم و ترقی حاصل کرسکیں۔
Load Next Story