’’سوئس خط سے معاملہ عارضی طور پر ختم ہوا‘‘ تجزیہ نگار
آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کی ہارسے صدارتی استثنیٰ بھی ہاتھ سے جائے گا
آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کی ہارسے صدارتی استثنیٰ بھی ہاتھ سے جائے گا۔ فوٹو فائل
سوئس حکام کی طرف سے خط موصول ہوجانے کے بعد معتبر ذرائع یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا سوئس حکومت کے اس واضح فیصلے کے بعد ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ اور حکمراں پیپلز پارٹی کے مابین برسوں سے جاری تناؤ بھی اختتام کو پہنچے گا یا نہیں، نیز صدر کو اس استثنیٰ کی آڑ کب تک حاصل رہے گی۔
آئندہ انتخابات ہارنے کی صورت میں استثنیٰ بھی ہاتھ سے جائے گا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سوئس حکومت کا حالیہ فیصلہ سپریم کورٹ اور حکمراں جماعت کی سہ سالہ کشیدگی کا اختتام ثابت ہو سکتا ہے۔ حکمراں جماعت نے اس کشیدگی کی قیمت یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ کی قربانی اور حکومت کے سر پر سایہ فگن رہنے والے قبل ازوقت معزولی کے مسلسل خطرے کی صورت میں ادا کی۔ واضح رہے کہ صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم بے نظیربھٹو پر الزام تھا کہ انھوں نے مبینہ طور پر رشوت کے 12 ملین ڈالر سوئس بینکوں میں جمع کرائے ہیں۔ وزارت قانون کی ایک سینئر افسر یاسمین عباسی نے اتوار کو اے ایف پی کو بتایا کہ سوئس حکام نے مذکورہ کیسز 2008 میں آصف زرداری کے صدر بننے کے بعد ہی منجمد کردیے تھے۔
خط کے جواب میں انھوں نے واضح کردیا ہے کہ استثنیٰ کے سبب انھیں دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔ عدالت عظمیٰ 3 سال تک آصف زرداری کی سربراہی میں قائم اتحادی حکومت سے مطالبہ کرتی رہی کہ سوئس حکومت کو خط لکھا جائے۔ بعض ناقدین نے اسے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا جو جوہری طاقت کے حامل ملک کے لیے نہایت مخدوش ثابت ہو سکتا تھا۔ گیلانی کے جانشین راجا پرویز اشرف کو بھی توہین عدالت اور نجام کار معزولی کا خطرہ درپیش رہا تاہم مارچ 2010 میں سوئس پراسیکیوٹر نے مقدمات دوبارہ کھولے جانے کے ناممکن العمل ہونے کی نشاندہی کردی۔ اب پی پی پی اور صدرزرداری اس امتحان میں ہیں کہ آئندہ انتخابات ہارنے کی صورت میں استثنیٰ بھی ہاتھ سے جائے گا۔ اے ایف پی کے مطابق سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ معاملہ عارضی طور پر ختم ہوا ہے تاہم وہ اس پروپیگنڈا سے بچ گئے کہ پیپلز پارٹی اعلیٰ عدلیہ کے احکامات پر عمل نہیں کرتی۔ مگر اپوزیشن بد عنوانی کے معاملات کو انتخابات میں استعمال کرتی رہے گی۔
آئندہ انتخابات ہارنے کی صورت میں استثنیٰ بھی ہاتھ سے جائے گا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سوئس حکومت کا حالیہ فیصلہ سپریم کورٹ اور حکمراں جماعت کی سہ سالہ کشیدگی کا اختتام ثابت ہو سکتا ہے۔ حکمراں جماعت نے اس کشیدگی کی قیمت یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ کی قربانی اور حکومت کے سر پر سایہ فگن رہنے والے قبل ازوقت معزولی کے مسلسل خطرے کی صورت میں ادا کی۔ واضح رہے کہ صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم بے نظیربھٹو پر الزام تھا کہ انھوں نے مبینہ طور پر رشوت کے 12 ملین ڈالر سوئس بینکوں میں جمع کرائے ہیں۔ وزارت قانون کی ایک سینئر افسر یاسمین عباسی نے اتوار کو اے ایف پی کو بتایا کہ سوئس حکام نے مذکورہ کیسز 2008 میں آصف زرداری کے صدر بننے کے بعد ہی منجمد کردیے تھے۔
خط کے جواب میں انھوں نے واضح کردیا ہے کہ استثنیٰ کے سبب انھیں دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔ عدالت عظمیٰ 3 سال تک آصف زرداری کی سربراہی میں قائم اتحادی حکومت سے مطالبہ کرتی رہی کہ سوئس حکومت کو خط لکھا جائے۔ بعض ناقدین نے اسے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا جو جوہری طاقت کے حامل ملک کے لیے نہایت مخدوش ثابت ہو سکتا تھا۔ گیلانی کے جانشین راجا پرویز اشرف کو بھی توہین عدالت اور نجام کار معزولی کا خطرہ درپیش رہا تاہم مارچ 2010 میں سوئس پراسیکیوٹر نے مقدمات دوبارہ کھولے جانے کے ناممکن العمل ہونے کی نشاندہی کردی۔ اب پی پی پی اور صدرزرداری اس امتحان میں ہیں کہ آئندہ انتخابات ہارنے کی صورت میں استثنیٰ بھی ہاتھ سے جائے گا۔ اے ایف پی کے مطابق سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ معاملہ عارضی طور پر ختم ہوا ہے تاہم وہ اس پروپیگنڈا سے بچ گئے کہ پیپلز پارٹی اعلیٰ عدلیہ کے احکامات پر عمل نہیں کرتی۔ مگر اپوزیشن بد عنوانی کے معاملات کو انتخابات میں استعمال کرتی رہے گی۔