56 کروڑ60 لاکھ کی ٹیکس چوری ڈومیسٹک منی لانڈرنگ کا پہلا کیس پکڑا گیا
ڈی ایچ اے کا رہائشی نیکوپ ہولڈر کئی سال سے گوشواروں میں غلط معلومات دے رہا ہے
مہنگی کمرشل جائیدادیں خریدیں،کم ٹیکس دیا،انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی تحقیقات میں انکشاف فوٹو : فائل
ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو ایف بی آرکے اینٹی منی لانڈرنگ ونگ نے عبوری طور پر56 کروڑ60 لاکھ روپے کے ڈومیسٹک منی لانڈرنگ کاپہلا کیس پکڑلیا ہے.
ڈی ایچ اے کراچی کے ایک سرمایہ کار عثمان شاہد پرحقیقی آمدنی چھپانے اپنی دولت اورآمدنی سے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں،آئی اینڈ آئی اینٹی منی لانڈرنگ ونگ کراچی نے مذکورہ شخص کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا دائرہ کاروسیع کردیا ہے۔
'' ایکسپریس'' کو موصول ہونے والے دستاویزات کے مطابق خیابان اقبال فیز8 ڈی ایچ اے کراچی کا3739094-5 این ٹی این ہولڈر اور نیکوپ کا حامل اور امریکا میں ''سدرن ڈسٹری بیوٹرز''اور''سدرن انویسمنٹ'' کے نام سے کاروبار کررہاہے جس کے خلاف جان بوجھ کرقابل ٹیکس آمدنی چھپانے، ٹیکس چوری کی حامل آمدنی سے اثاثے خریدنے کے الزام میں منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ دستیاب ریکارڈ کے ذریعے کی گئی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ٹیکس چوری مالیت57 کروڑ60 لاکھ روپے بنتی ہے۔
عثمان شاہد نے 2011-12 سے 2015-16 تک 5 مالی سال کے لیے داخل کرائے گئے سالانہ انکم ٹیکس گوشواروں میں وفاقی حکومت کوجان بوجھ کرغلط معلومات فراہم کیں اور ٹیکس چوری کی نیت سے اپنی اصل آمدنی اور ٹرن اوور چھپایا، تحقیقات سے پتہ چلاہے کہ مذکورہ شخص کے فراہم کردہ اعدادوشمار حقیقی ڈیٹا سے مطابقت نہیں رکھتے، مذکورہ شخص نے 2012-13 کے مالی سال کی انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرائی جبکہ اس نے ڈی ایچ اے کراچی میں 6 مہنگی ترین تجارتی جائیدادوں کی خریداری کی اور اس کے باوجود وفاقی حکومت کو ایک پائی کا ٹیکس نہیں دیا۔
مذکورہ شخص کے خریدے گئے اثاثوں پر عائد ٹیکس مجموعی اخراجات کے تعین سے معلوم ہوگا، اسی طرح مالی سال 2013-14 میں عثمان شاہد نے اپنے جمع شدہ گوشوارے میں غلط معلومات فراہم کیں حالانکہ مذکورہ مالی سال میں انہوں نے 15 لاکھ16 ہزار 240 روپے کی آمدنی ظاہر کی جبکہ اس کے بینک کھاتے میں5 کروڑ6 لاکھ39 ہزار736 روپے منتقل کیے گئے جس پر قابل ادا ٹیکس کی مالیت1 کروڑ72 لاکھ19 ہزار134 روپے سے زائدبنتی ہے مگر مذکورہ شخص نے صرف 25 ہزار 552 روپے کا ٹیکس ادا کیا، اسی طرح مالی سال 2014-15 میں 24 لاکھ5 ہزار روپے کی آمدنی ظاہر کی گئی جبکہ اس کے مختلف بینک کھاتوں میں 23 کروڑ24 لاکھ80 ہزار452 روپے کی آمد ہوئی۔
مزید براں مذکورہ شخص نے ڈی ایچ اے کراچی میں 3 کمرشل ورہائیشی جائیدادیں خریدیں اور گزشتہ سال خالص اثاثوں میں 40 لاکھ روپے کا اضافہ ہوا جبکہ 25 لاکھ روپے کی آمدنی ظاہرکی گئی جو ناممکنات میں سے ہے، اس سال واجب الادا ٹیکس 8 کروڑ8 لاکھ 23 ہزار692 روپے سے زائدبنتا ہے جبکہ ادائیگی صرف45 ہزارروپے کی گئی، دستاویز کے مطابق مالی سال2015-16 میں عثمان شاہد نے25 لاکھ60 ہزار856 روپے کی آمدنی ظاہر کی جبکہ ان کے بینک کھاتوں میں1 ارب36 کروڑ 83 لاکھ25 ہزار 141 روپے کی آمد ہوئی، اس دوران انہوں نے ڈی ایچ اے کراچی میں 9 مہنگی ترین جائیدادوں کی خریداری کی۔
گزشتہ سال سے خالص اثاثوں میں1 کروڑ 40 لاکھ روپے کا اضافہ ہوا جبکہ آمدنی25 لاکھ روپے ظاہر کی گئی جو ناممکن ہے، اس سال 2 لاکھ83 ہزار137 روپے ٹیکس ادا کیا گیاجبکہ ٹیکس مذکورہ ایڈجسٹمنٹ کے بعد 47 کروڑ85 لاکھ21 ہزار579 روپے سے زائد بنتا ہے، مذکورہ معلومات یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عثمان شاہد نے حقیقی آمدنی چھپانے، ٹیکس چوری کے حامل آمدنی سے اثاثوں کی خریداری کے ذریعے قومی خزانے کو مجموعی طور پر57 کروڑ65 لاکھ64 ہزار405 روپے کا نقصان پہنچایا ہے، مذکورہ واجبات میں ڈیفالٹ سرچارج اور جرمانہ شامل نہیں ہے جس کا تعین حتمی ادائیگی پرعائد کیا جائے گا۔
ڈی ایچ اے کراچی کے ایک سرمایہ کار عثمان شاہد پرحقیقی آمدنی چھپانے اپنی دولت اورآمدنی سے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں،آئی اینڈ آئی اینٹی منی لانڈرنگ ونگ کراچی نے مذکورہ شخص کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا دائرہ کاروسیع کردیا ہے۔
'' ایکسپریس'' کو موصول ہونے والے دستاویزات کے مطابق خیابان اقبال فیز8 ڈی ایچ اے کراچی کا3739094-5 این ٹی این ہولڈر اور نیکوپ کا حامل اور امریکا میں ''سدرن ڈسٹری بیوٹرز''اور''سدرن انویسمنٹ'' کے نام سے کاروبار کررہاہے جس کے خلاف جان بوجھ کرقابل ٹیکس آمدنی چھپانے، ٹیکس چوری کی حامل آمدنی سے اثاثے خریدنے کے الزام میں منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ دستیاب ریکارڈ کے ذریعے کی گئی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ٹیکس چوری مالیت57 کروڑ60 لاکھ روپے بنتی ہے۔
عثمان شاہد نے 2011-12 سے 2015-16 تک 5 مالی سال کے لیے داخل کرائے گئے سالانہ انکم ٹیکس گوشواروں میں وفاقی حکومت کوجان بوجھ کرغلط معلومات فراہم کیں اور ٹیکس چوری کی نیت سے اپنی اصل آمدنی اور ٹرن اوور چھپایا، تحقیقات سے پتہ چلاہے کہ مذکورہ شخص کے فراہم کردہ اعدادوشمار حقیقی ڈیٹا سے مطابقت نہیں رکھتے، مذکورہ شخص نے 2012-13 کے مالی سال کی انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرائی جبکہ اس نے ڈی ایچ اے کراچی میں 6 مہنگی ترین تجارتی جائیدادوں کی خریداری کی اور اس کے باوجود وفاقی حکومت کو ایک پائی کا ٹیکس نہیں دیا۔
مذکورہ شخص کے خریدے گئے اثاثوں پر عائد ٹیکس مجموعی اخراجات کے تعین سے معلوم ہوگا، اسی طرح مالی سال 2013-14 میں عثمان شاہد نے اپنے جمع شدہ گوشوارے میں غلط معلومات فراہم کیں حالانکہ مذکورہ مالی سال میں انہوں نے 15 لاکھ16 ہزار 240 روپے کی آمدنی ظاہر کی جبکہ اس کے بینک کھاتے میں5 کروڑ6 لاکھ39 ہزار736 روپے منتقل کیے گئے جس پر قابل ادا ٹیکس کی مالیت1 کروڑ72 لاکھ19 ہزار134 روپے سے زائدبنتی ہے مگر مذکورہ شخص نے صرف 25 ہزار 552 روپے کا ٹیکس ادا کیا، اسی طرح مالی سال 2014-15 میں 24 لاکھ5 ہزار روپے کی آمدنی ظاہر کی گئی جبکہ اس کے مختلف بینک کھاتوں میں 23 کروڑ24 لاکھ80 ہزار452 روپے کی آمد ہوئی۔
مزید براں مذکورہ شخص نے ڈی ایچ اے کراچی میں 3 کمرشل ورہائیشی جائیدادیں خریدیں اور گزشتہ سال خالص اثاثوں میں 40 لاکھ روپے کا اضافہ ہوا جبکہ 25 لاکھ روپے کی آمدنی ظاہرکی گئی جو ناممکنات میں سے ہے، اس سال واجب الادا ٹیکس 8 کروڑ8 لاکھ 23 ہزار692 روپے سے زائدبنتا ہے جبکہ ادائیگی صرف45 ہزارروپے کی گئی، دستاویز کے مطابق مالی سال2015-16 میں عثمان شاہد نے25 لاکھ60 ہزار856 روپے کی آمدنی ظاہر کی جبکہ ان کے بینک کھاتوں میں1 ارب36 کروڑ 83 لاکھ25 ہزار 141 روپے کی آمد ہوئی، اس دوران انہوں نے ڈی ایچ اے کراچی میں 9 مہنگی ترین جائیدادوں کی خریداری کی۔
گزشتہ سال سے خالص اثاثوں میں1 کروڑ 40 لاکھ روپے کا اضافہ ہوا جبکہ آمدنی25 لاکھ روپے ظاہر کی گئی جو ناممکن ہے، اس سال 2 لاکھ83 ہزار137 روپے ٹیکس ادا کیا گیاجبکہ ٹیکس مذکورہ ایڈجسٹمنٹ کے بعد 47 کروڑ85 لاکھ21 ہزار579 روپے سے زائد بنتا ہے، مذکورہ معلومات یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عثمان شاہد نے حقیقی آمدنی چھپانے، ٹیکس چوری کے حامل آمدنی سے اثاثوں کی خریداری کے ذریعے قومی خزانے کو مجموعی طور پر57 کروڑ65 لاکھ64 ہزار405 روپے کا نقصان پہنچایا ہے، مذکورہ واجبات میں ڈیفالٹ سرچارج اور جرمانہ شامل نہیں ہے جس کا تعین حتمی ادائیگی پرعائد کیا جائے گا۔