آرٹ میں جعل سازی روک تھام کی جائے

صادقین اور دوسرے نامور آرٹسٹوں کے کام کو کاپی کرنا ایک بہت بڑا جرم ہے

آرٹس کے شعبے میں ہمارے ملک میں وہ ٹیلنٹ موجود ہے جو عالمی سطح پر اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

آرٹ کے شعبے میں جعل سازی کا عمل نیا نہیں، عالمی طور پر نامور و مشہور آرٹسٹوں کی نادر و نایاب پینٹنگز کی چوری یا ان کی نقل بنا کر فروخت کرنے کا 'جرم' پوری دنیا میں ہوتا آیا ہے، اطلاعات ملی ہیں کہ پاکستان میں بھی آرٹ کے شعبے میں جعل سازی عروج پر ہے اور نامور مصوروں کی پینٹنگ کو کاپی کیا جا رہا ہے۔ ملک کے نامور مصوروں سمیت مایہ ناز آرٹسٹ و خطاط صادقین کے نام سے جعلی فن پارے (پینٹنگز) فروخت کیے جانے کا کاروبار بڑھ گیا ہے۔ صادقین کا نام آرٹس کی دنیا میں ایک معتبر مقام رکھتا ہے، ان کے نام پر ہونے والے اس جعلی پینٹنگز کے کاروبار کی روک تھام کے لیے حکومت کو فوری ایکشن لینا چاہیے۔

بدھ کو کراچی آرٹس کونسل میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ صادقین مرحوم نے کبھی بھی اپنے فن پاروں کو فروخت نہیں کیا، انھوں نے تمام کام عوام کے لیے کیا ہے۔ صدر آرٹس کونسل کا کہنا تھا کہ صادقین بین الاقوامی آرٹسٹ اور خطاط تھا، ان کے نام پر اگر غلط کام ہو رہا ہے تو اس کی روک تھام ہونی چاہیے۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ آرٹس کا شعبہ کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا، ملک کے مایہ ناز آرٹسٹوں کی ناقدری کا عالم یہ ہے کہ زندگی میں انھیں پذیرائی نہیں ملتی اور بعد از مرگ انھیں یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے۔


صادقین کے انتقال کے بعد ان کی پینٹنگز بہت بڑی تعداد میں جعلی بنائی جا رہی ہیں اور متعلقہ اداروں کی اس جانب سے پہلوتہی فکر انگیز ہے۔ صادقین اور دوسرے نامور آرٹسٹوں کے کام کو کاپی کرنا ایک بہت بڑا جرم ہے، ایسا جرم کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

جعلی پینٹنگ بنانے والوں کے خلاف کارروائی بہت پہلے ہونی چاہیے تھی، لیکن اب بھی کچھ نہیں بگڑا حکومت کو چاہیے کہ وہ آرٹ کی سرپرستی کرے اور جعلی پینٹنگز کی روک تھام کے لیے انضباطی قوانین بنائے۔ نیز آرٹس اور اس سے وابستہ افراد کو سہولیات کی فراہمی بھی حکومت کی ذمے داری ہے۔ پاکستان کی زمین بڑی زرخیزہے، یہاں بے شمار آرٹسٹ ایسے پیدا ہوئے جنھوں نے عالمی افق پر ملک کا نام روشن کیا۔ آرٹس کے شعبے میں ہمارے ملک میں وہ ٹیلنٹ موجود ہے جو عالمی سطح پر اپنی جگہ بنا سکتا ہے لیکن آرٹ کا یہ شعبہ حکومتی سرپرستی کا منتظر ہے۔
Load Next Story