میثاق جمہوریت کی اہمیت
اب ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما کرپشن کے خاتمے اور شفافیت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔
tauceeph@gmail.com
QUETTA:
70 سال میں 27 وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکے۔ نئی صدی کے 17ویں سال پھر ایک اور وزیراعظم کی اقتدار سے رخصتی کے بعد ان سیاسی محرکات کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے، جن کی بناء پر منتخب وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکے۔ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف 1988ء سے 1999ء تک ایک دوسرے کے حریف رہے۔ بینظیر بھٹو نے اپنے والد، 1973ء کے آئین کے خالق اور عوامی سیاست کی بنیاد رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو کی جان بچانے کے لیے 1977ء سے سیاسی جدوجہد کی تھی۔
بینظیر بھٹو اپنے والد کی جان تو نہ بچا سکیں مگر اپنی جوانی کا ایک حصہ سڑکوں پر احتجاج، جلسوں اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر کے اور گھر پر نظربندی میں گزارا۔ وہ 1988ء میں برسر اقتدار آئیں۔ اگرچہ بینظیر بھٹو اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اسلم بیگ کے درمیان ایک خاموش مفاہمت کے بعد شراکت کی بنیاد پر اقتدار حاصل کر سکی تھیں مگر اسٹیبلشمنٹ نے انھیں کبھی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع نہیں دیا۔
ایک تو اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی اور کچھ پیپلز پارٹی کی ترجیحات میں سے شفافیت کے خاتمے کے لیے عوام میں ان کے خلاف فضا ہموار کرنے کا موقع نادیدہ قوتوں کو ملا۔ میاں نواز شریف 80ء کی دہائی میں پنجاب کے گورنر جنرل جیلانی کی نگاہوں کا محور بنے، وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے عہدے پر پہنچے۔ پیر پگارا نے اپنے وزیراعظم محمد خان جونیجو کی قیادت میں میاں نواز شریف کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی مگر اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق کی مداخلت پر یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ پیر پگارا کراچی اور مخدوم حسن محمود بہاولپور چلے گئے۔
1992ء میں اسٹیبلشمنٹ کی حکمت عملی کے تحت وہ ملک کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ میاں صاحب کو پہلی دفعہ بین الاقوامی صورتحال، خاص طور پر بھارت سے دوستی جیسے حساس معاملات کی نزاکتوں کا اندازہ ہوا۔ بابائے بیوروکریسی صدر غلام اسحاق خان نے میاں نواز شریف حکومت کو برطرف کر دیا مگر پہلی دفعہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی قیادت میں غلام اسحق خان کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا گیا، البتہ صدر اور وزیر اعظم میں کشمکش ختم نہ ہو سکی۔
جنرل آصف نواز کے انتقال کے بعد جنرل وحید کاکڑ فوج کے سربراہ بنے، جن کی مداخلت پر غلام اسحق خان اور میاں نواز شریف اقتدار سے محروم ہوئے۔ ڈاکٹر معین قریشی 90 دن کے لیے عبوری وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ بینظیر بھٹو کے تیسری دفعہ اقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف پھر اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر لڑائی میں مصروف ہوئے۔ بینظیر بھٹو اپنے ہی صدر کے ہاتھوں برطرف ہوئیں۔
نواز شریف کو پھر اقتدار ملا۔ بینظیر بھٹو نے میاں صاحب کی صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیار کے خاتمے کی کوشش کی اس وقت حمایت کی، جب ان کے شوہر پولیس تشدد کا شکار تھے۔ نواز شریف کا گزشتہ صدی کا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے بھارتی وزیراعظم واجپائی کو مینار پاکستان پر حاضری دینے کی سبیل نکالی، مگر جنرل پرویز مشرف کو میاں صاحب کی یہ کوشش پسند نہ آئی اور انھوں نے کارگل پر دھاوا بول دیا، جس پر انھیں پسپائی ہوئی اور نتیجہ میاں نواز شریف کی برطرفی کی صورت میں سامنے آیا۔ بینظیر بھٹو، آصف زرداری اور نوا زشریف سب جلاوطن ہوئے اور پھر بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت ہوا۔
2008ء کے انتخابات کے نتائج کو تمام سیاسی جماعتوں نے تسلیم کیا مگر چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی پر میاں نواز شریف اور زرداری میں اختلافات ہوئے، مگر ان رہنماؤں نے 18 ویں ترمیم پر اتفاق کیا، اس طرح 1973ء کا آئین ایک حد تک بحال ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کی آئین میں شامل کردہ شقیں 62 اور 63 مسلم لیگ کی قیادت کی محدود بصیرت کی بنا پر حذف نہ ہوئیں۔
چوہدری نثار اور شہباز شریف نادیدہ قوتوں کے آلہ کار بنے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے انٹر سروس انٹیلی جنس ایجنسی کو وزارت داخلہ کی تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا تو چوہدری نثار علی خان اور قاضی حسین احمد کے رویے میں فرق نہیں رہا۔ میڈیا نے شور مچا دیا، جس پر پیپلز پارٹی کی کمزور حکومت کو یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔ جب بمبئی میں دہشتگردی کا واقعہ ہوا تو صدر زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے انٹیلی جنس کے سربراہ کو دہلی بھیجنے کا فیصلہ کیا تو مسلم لیگ اور جماعت اسلامی پھر ایک ہو گئیں۔
قومی سلامتی کے مشیر جنرل محمود درانی کو مستعفی ہونا پڑا۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدگی کی تمام حدوں کو پارکر گئے۔ خود میاں صاحب اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر میمو گیٹ اسکینڈل میں مدعی بن گئے۔ خواجہ آصف جسٹس افتخار چوہدری کے ذریعے پیپلز پارٹی کی حکومت کو مفلوج کرتے رہے۔ مسلم لیگ کی قیادت اس حقیقت کا اندازہ نہ لگا سکی کہ وہی اسٹیبلشمنٹ مسلم لیگ کے مقابلے میں ایک نئی قوت کو جمع کر رہی تھی۔ یہ قوت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کی تھی، جو کرپشن کے خاتمے کے لیے عمران خان کو اقتدار دلوانا چاہتے تھے۔
میاں نواز شریف 2013ء کا انتخاب تو جیت گئے مگر اس انتخاب میں بعض سوراخ ہو گئے۔ میاں نواز شریف نے ایک آزاد خارجہ پالیسی کو اپنایا، جس سے ان کے کئی قریبی دوست ممالک اور اسٹیبلشمنٹ ناراض ہو گئی۔ پھر عمران خان نے دھرنے دینے شروع کیے۔ یہ دھرنے پیپلز پارٹی کی مدد کی وجہ سے ناکام ہوئے مگر چوہدری نثار علی خان کی پالیسی کے نتیجے میں پیپلز پارٹی ناراض ہو گئی۔
میثاق جمہوریت کی دستاویز صرف میاں رضا ربانی کی میز تک محدود ہو گئی۔ میاں نواز شریف حقیقی طور پر تنہا رہ گئے۔ بقول صدر ممنون حسین پاناما لیکس کرپٹ لوگوں کے چہرے مسخ کرے گی۔ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 اور 63 کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی روایت کا آغاز کیا۔ ان آرٹیکلز کے استعمال کے بعد میاں نواز شریف ہی نہیں، عمران خان، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن غرض کوئی نہیں بچ سکتا۔
گزشتہ صدی کے آخری عشرے میں سوویت یونین کے خاتمے اور فری مارکیٹ اکانومی پر مبنی معیشت کے پھیلاؤ کے نتیجے میں استعماری طاقتوں اور اسٹیبلشمنٹ نے شفافیت کو ہتھیار بنا لیا۔ بھارت میں پہلے انا ہزارے، پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ مودی نے کرپشن اور ہندوتوا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف نے صرف سیاست دانوں کے احتساب کا طریقہ تیار کیا، مگر جمہوریت کی علمبردار جماعتوں نے جدید طرز حکومت اور شفاف نظام کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل نہیں کیا۔ اسٹیبلشمنٹ جو آئین کے تحت منتخب حکومت کی مدت کی تکمیل اور پرامن اقتدار کی منتقلی سے خوفزدہ ہے، نے شفافیت کے ہتھیار کو استعمال کیا۔
اب ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما کرپشن کے خاتمے اور شفافیت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ 27 ویں وزیراعظم کی اقتدار سے برطرفی سے پھر یہ سبق مل رہا ہے کہ 70 سال میں 27 وزیراعظم اقتدار میں آئے مگر کوئی آئینی مدت پوری نہ کر سکا۔ سپریم کورٹ کے پاناما لیکس کے فیصلے کے تحت 27 ویں وزیراعظم نواز شریف کی برطرفی کے بعد ان سیاسی محرکات کا جائزہ وقت کی ضروت بن گیا ہے جن کی بنا پر وزرائے اعظم اپنی آئینی مدت پوری نہ کر پائے۔
70 سال میں 27 وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکے۔ نئی صدی کے 17ویں سال پھر ایک اور وزیراعظم کی اقتدار سے رخصتی کے بعد ان سیاسی محرکات کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے، جن کی بناء پر منتخب وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکے۔ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف 1988ء سے 1999ء تک ایک دوسرے کے حریف رہے۔ بینظیر بھٹو نے اپنے والد، 1973ء کے آئین کے خالق اور عوامی سیاست کی بنیاد رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو کی جان بچانے کے لیے 1977ء سے سیاسی جدوجہد کی تھی۔
بینظیر بھٹو اپنے والد کی جان تو نہ بچا سکیں مگر اپنی جوانی کا ایک حصہ سڑکوں پر احتجاج، جلسوں اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر کے اور گھر پر نظربندی میں گزارا۔ وہ 1988ء میں برسر اقتدار آئیں۔ اگرچہ بینظیر بھٹو اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اسلم بیگ کے درمیان ایک خاموش مفاہمت کے بعد شراکت کی بنیاد پر اقتدار حاصل کر سکی تھیں مگر اسٹیبلشمنٹ نے انھیں کبھی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع نہیں دیا۔
ایک تو اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی اور کچھ پیپلز پارٹی کی ترجیحات میں سے شفافیت کے خاتمے کے لیے عوام میں ان کے خلاف فضا ہموار کرنے کا موقع نادیدہ قوتوں کو ملا۔ میاں نواز شریف 80ء کی دہائی میں پنجاب کے گورنر جنرل جیلانی کی نگاہوں کا محور بنے، وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے عہدے پر پہنچے۔ پیر پگارا نے اپنے وزیراعظم محمد خان جونیجو کی قیادت میں میاں نواز شریف کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی مگر اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق کی مداخلت پر یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ پیر پگارا کراچی اور مخدوم حسن محمود بہاولپور چلے گئے۔
1992ء میں اسٹیبلشمنٹ کی حکمت عملی کے تحت وہ ملک کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ میاں صاحب کو پہلی دفعہ بین الاقوامی صورتحال، خاص طور پر بھارت سے دوستی جیسے حساس معاملات کی نزاکتوں کا اندازہ ہوا۔ بابائے بیوروکریسی صدر غلام اسحاق خان نے میاں نواز شریف حکومت کو برطرف کر دیا مگر پہلی دفعہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی قیادت میں غلام اسحق خان کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا گیا، البتہ صدر اور وزیر اعظم میں کشمکش ختم نہ ہو سکی۔
جنرل آصف نواز کے انتقال کے بعد جنرل وحید کاکڑ فوج کے سربراہ بنے، جن کی مداخلت پر غلام اسحق خان اور میاں نواز شریف اقتدار سے محروم ہوئے۔ ڈاکٹر معین قریشی 90 دن کے لیے عبوری وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ بینظیر بھٹو کے تیسری دفعہ اقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف پھر اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر لڑائی میں مصروف ہوئے۔ بینظیر بھٹو اپنے ہی صدر کے ہاتھوں برطرف ہوئیں۔
نواز شریف کو پھر اقتدار ملا۔ بینظیر بھٹو نے میاں صاحب کی صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیار کے خاتمے کی کوشش کی اس وقت حمایت کی، جب ان کے شوہر پولیس تشدد کا شکار تھے۔ نواز شریف کا گزشتہ صدی کا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے بھارتی وزیراعظم واجپائی کو مینار پاکستان پر حاضری دینے کی سبیل نکالی، مگر جنرل پرویز مشرف کو میاں صاحب کی یہ کوشش پسند نہ آئی اور انھوں نے کارگل پر دھاوا بول دیا، جس پر انھیں پسپائی ہوئی اور نتیجہ میاں نواز شریف کی برطرفی کی صورت میں سامنے آیا۔ بینظیر بھٹو، آصف زرداری اور نوا زشریف سب جلاوطن ہوئے اور پھر بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت ہوا۔
2008ء کے انتخابات کے نتائج کو تمام سیاسی جماعتوں نے تسلیم کیا مگر چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی پر میاں نواز شریف اور زرداری میں اختلافات ہوئے، مگر ان رہنماؤں نے 18 ویں ترمیم پر اتفاق کیا، اس طرح 1973ء کا آئین ایک حد تک بحال ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کی آئین میں شامل کردہ شقیں 62 اور 63 مسلم لیگ کی قیادت کی محدود بصیرت کی بنا پر حذف نہ ہوئیں۔
چوہدری نثار اور شہباز شریف نادیدہ قوتوں کے آلہ کار بنے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے انٹر سروس انٹیلی جنس ایجنسی کو وزارت داخلہ کی تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا تو چوہدری نثار علی خان اور قاضی حسین احمد کے رویے میں فرق نہیں رہا۔ میڈیا نے شور مچا دیا، جس پر پیپلز پارٹی کی کمزور حکومت کو یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔ جب بمبئی میں دہشتگردی کا واقعہ ہوا تو صدر زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے انٹیلی جنس کے سربراہ کو دہلی بھیجنے کا فیصلہ کیا تو مسلم لیگ اور جماعت اسلامی پھر ایک ہو گئیں۔
قومی سلامتی کے مشیر جنرل محمود درانی کو مستعفی ہونا پڑا۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدگی کی تمام حدوں کو پارکر گئے۔ خود میاں صاحب اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر میمو گیٹ اسکینڈل میں مدعی بن گئے۔ خواجہ آصف جسٹس افتخار چوہدری کے ذریعے پیپلز پارٹی کی حکومت کو مفلوج کرتے رہے۔ مسلم لیگ کی قیادت اس حقیقت کا اندازہ نہ لگا سکی کہ وہی اسٹیبلشمنٹ مسلم لیگ کے مقابلے میں ایک نئی قوت کو جمع کر رہی تھی۔ یہ قوت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کی تھی، جو کرپشن کے خاتمے کے لیے عمران خان کو اقتدار دلوانا چاہتے تھے۔
میاں نواز شریف 2013ء کا انتخاب تو جیت گئے مگر اس انتخاب میں بعض سوراخ ہو گئے۔ میاں نواز شریف نے ایک آزاد خارجہ پالیسی کو اپنایا، جس سے ان کے کئی قریبی دوست ممالک اور اسٹیبلشمنٹ ناراض ہو گئی۔ پھر عمران خان نے دھرنے دینے شروع کیے۔ یہ دھرنے پیپلز پارٹی کی مدد کی وجہ سے ناکام ہوئے مگر چوہدری نثار علی خان کی پالیسی کے نتیجے میں پیپلز پارٹی ناراض ہو گئی۔
میثاق جمہوریت کی دستاویز صرف میاں رضا ربانی کی میز تک محدود ہو گئی۔ میاں نواز شریف حقیقی طور پر تنہا رہ گئے۔ بقول صدر ممنون حسین پاناما لیکس کرپٹ لوگوں کے چہرے مسخ کرے گی۔ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 اور 63 کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی روایت کا آغاز کیا۔ ان آرٹیکلز کے استعمال کے بعد میاں نواز شریف ہی نہیں، عمران خان، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن غرض کوئی نہیں بچ سکتا۔
گزشتہ صدی کے آخری عشرے میں سوویت یونین کے خاتمے اور فری مارکیٹ اکانومی پر مبنی معیشت کے پھیلاؤ کے نتیجے میں استعماری طاقتوں اور اسٹیبلشمنٹ نے شفافیت کو ہتھیار بنا لیا۔ بھارت میں پہلے انا ہزارے، پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ مودی نے کرپشن اور ہندوتوا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف نے صرف سیاست دانوں کے احتساب کا طریقہ تیار کیا، مگر جمہوریت کی علمبردار جماعتوں نے جدید طرز حکومت اور شفاف نظام کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل نہیں کیا۔ اسٹیبلشمنٹ جو آئین کے تحت منتخب حکومت کی مدت کی تکمیل اور پرامن اقتدار کی منتقلی سے خوفزدہ ہے، نے شفافیت کے ہتھیار کو استعمال کیا۔
اب ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما کرپشن کے خاتمے اور شفافیت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ 27 ویں وزیراعظم کی اقتدار سے برطرفی سے پھر یہ سبق مل رہا ہے کہ 70 سال میں 27 وزیراعظم اقتدار میں آئے مگر کوئی آئینی مدت پوری نہ کر سکا۔ سپریم کورٹ کے پاناما لیکس کے فیصلے کے تحت 27 ویں وزیراعظم نواز شریف کی برطرفی کے بعد ان سیاسی محرکات کا جائزہ وقت کی ضروت بن گیا ہے جن کی بنا پر وزرائے اعظم اپنی آئینی مدت پوری نہ کر پائے۔