بہتر آدمی بنانے کی مشین

سیاست کو سمجھنے کے لیے بدقسمتی سے ہمیں نفسیات کو سمجھنا پڑتا ہے، انسان اور مملکت میں مشابہت ہے

رابندر ناتھ ٹیگور لکھتا ہے ''جہاں دماغ خوف سے آزاد ہو، جہاں سر اونچے اٹھے رہیں، جہاں علم پر پابندی نہ ہو، جہاں مقامی حد بندیوں کی دیواروں سے دنیا کو ٹکڑے ٹکڑے نہ کردیا گیا ہو، جہاں الفاظ صداقت کی گہرائیوں سے نکلے ہوں، جہاں عقل کا شفاف سرچشمہ مردہ عادات کے ریگستان کی ریت میں اپنا راستہ نہ کھو بیٹھا ہو، آزادی کی اس جنت میں میرے ملک کو جاگنا نصیب ہو''۔

ٹیگور کی طرح آپ کی اور میری بھی یہی خواہش اور تمنا ہے کہ ہم سب کو بھی ایسی ہی جنت میں جاگنا نصیب ہو لیکن آپ اور میں اتنے خوش نصیب نہیں ہیں۔ آج جس سے بھی بات کرکے دیکھ لو وہ پاکستان اور اپنے شہر کی برائیاں کرتا ہوا ملے گا اور گلا پھاڑ پھاڑ کر دہائیاں دے رہا ہوگا۔ لیکن اگر ہم ٹھنڈے دل کے ساتھ سوچیں کہ کیا واقعی ہمارا ملک اور شہر برے ہیں؟ کیا زمین، گھر، سٹرکیں، گلیاں، بازار برے ہوسکتے ہیں؟ نہیں، قطعی نہیں۔ آپ ملک کو سڑکوں، شہروں، گھروں، بازاروں اور گلیوں کو جس حال میں رکھیں گے، وہ ویسے ہی تو نظر آئیں گے۔ قصوروار اور مجرم ملک، سٹرکیں، شہر، گھر، بازار اور گلیاں نہیں، بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنھوں نے انھیں اس حال پر پہنچایا ہوا ہوتا ہے۔

کیا امریکا، یورپ، انگلینڈ، کینیڈا، جاپان، چین کا ملکی نظام، ان کی سٹرکیں، شہر، گھر، بازار ہمیشہ ہی سے ایسے تھے؟ کیا یہ ممالک آسمان سے اسی حال میں اترے ہیں؟ کیا وہاں لوگ نہیں فرشتے رہتے ہیں؟ کیا ان کی ایمانداری، دیانت داری، حب الوطنی، اپنے شہر اور گھروں سے محبت خدا نے ان کے دلوں میں خود اگائی ہیں؟ کیا وہ ماضی میں اپنے ملک، شہر، سڑکوں، بازاروں، اپنے نظام کو گالیاں اور برا بھلا کہتے نہیں پھرتے تھے؟ کیا وہ حالات سے گھبرا کر اپنے اپنے ملک سے فرار ہوگئے تھے یا بھاگ گئے تھے؟ کیا انھوں نے اپنے بدترین حالات سے شکست تسلیم کرلی تھی؟ نہیں، بالکل نہیں۔ نہ وہ سب اپنے ملک سے فرار ہوئے اور نہ ہی بھاگے، بلکہ انھوں نے حالات کا مقابلہ کیا، آپس میں بیٹھے سوچتے رہے، مقابلہ کرتے رہے، ہارتے رہے، لیکن ڈٹے رہے، اور پھر ایک روز فتح یاب ہوگئے اور وہ لوگ جنھوں نے انھیں اس حال میں پہنچایا تھا انھیں بھاگنے پر مجبور کردیا اور جو لوگ بدترین حالات کے ذمے دار تھے خود بدترین حالات کا شکار ہوگئے۔

یاد رکھیں، کسی ملک میں جاری برائیوں، خرابیوں، کرپشن، لوٹ مار، بدانتظامی، بدعنوانی کی ذمے داری ریاست پر عائد نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی عام لوگوں پر ہوتی ہے، بلکہ ریاست کو چلانے والے کرپٹ سیاست دان اس کے اصل ذمے دار ہوتے ہیں۔

ارسطو کے نزدیک ریاست مختلف خاندانوں اور دیہات کے ایسے منظم اجتماع کو کہتے ہیں، جس کا مقصد ایک خوشحال اور آزاد زندگی کے قیام کے لیے سہولتیں بہم پہنچانا ہے۔ سنڈوک کے نزدیک ریاست کے لازمی عناصر تین ہیں، یعنی آبادی، علاقہ اور حکومت۔ لاک کہتا ہے کہ حکومت کا مقصد انسانیت کی بھلائی ہے، یعنی ریاست اور حکومت دونوں کا واحد مقصد تمام شہریوں کی فلاح و بہبود ہے، ہر فرد کی مادی ضروریات کم و بیش ایک ہی جیسی ہوتی ہیں۔ سماج کی ابتدا اس غرض سے ہوئی تھی کہ ضروریات زندگی کے حصول و تقسیم میں آسانی ہو۔


سیاست کو سمجھنے کے لیے بدقسمتی سے ہمیں نفسیات کو سمجھنا پڑتا ہے، انسان اور مملکت میں مشابہت ہے، حکومتوں میں بھی ایسا ہی فرق ہوتا ہے، جیسا کہ انسانوں کی سیرتوں میں ہوتا ہے، مملکت فطرت انسانی کی بنی ہوئی ہوتی ہیں جو اس کے اندر ہوتی ہیں، اس لیے ہم اس وقت تک بہتر مملکتوں کی توقع نہیں کرسکتے جب تک ہمارے پاس بہتر آدمی نہ ہوں اور بہتر آدمی ایک صاف ستھرے اور شفاف نظام سے ہی بنتے ہیں، یعنی ایک صاف ستھرا اور شفاف نظام بہتر آدمی بنانے کی مشین ہوتا ہے، اس لیے آپ کی قسمت اپنے ہاتھوں میں ہوتی ہے، لہٰذا اس کو کہیں اور تلاش نہ کریں۔

معروف مصنف رسل ایچ کانویل نے کئی کتابیں لکھیں اور بہت سی جگہوں پر لیکچر دیے، اس کا معروف ترین لیکچر ''ہیروں کا کھیت'' ہے۔ یہ لیکچر اس نے پانچ ہزار سے زیادہ بار دیا تھا۔ رسل کانویل نے ایک دفعہ دریائے تگریس کے کناروں کے ساتھ ساتھ سفر کیا تھا۔ یہ علاقہ عراق میں واقع ہے۔ اس نے بغداد سے ایک گائیڈ ساتھ لیا تھا، وہ گائیڈ بربروں جیسی زبان بولتا تھا اور دریا میں سفر کرنے کا ماہر تھا، اس لیے دونوں سفر کرتے ہوئے خلیج فارس تک پہنچ گئے۔ سفر میں گائیڈ نے رسل کو ایک کہانی سنائی۔ گائیڈ کا کہنا تھا یہ کہانی بالکل سچی ہے۔

گائیڈ نے بتایا کہ دریائے سندھ کے کنارے ایک بہت ہی خوبصورت اور زرخیز زمین تھی، اس زمین پر ایک باغ بھی تھا، اس زمین اور باغ کے مالک کا نام الحافظ تھا، وہ بہت دولت مند شخص تھا، اس کی ایک خوبصورت بیوی تھی اور بچے تھے، وہ بہت ہی خوشگوار زندگی گزار رہا تھا۔ ایک رات اس کے گھر میں ایک عالم ٹھہرا۔ اس نے الحافظ کو بتایا کہ زمین کیسے تخلیق ہوئی، پہاڑ اور سمندر خدا نے کیسے بنائے، اس کے علاوہ چاندی، سونا اور ہیرے جواہرات کیسے وجود میں آئے۔ اس کے بعد اس عالم نے الحافظ سے کہا کہ اگر وہ چند ہیرے کہیں سے حاصل کرلے تو وہ اس کھیت اور باغ جیسے کئی کھیتوں اور باغوں کا مالک بن سکتا ہے۔ الحافظ نے جب یہ بات سنی تو اس نے بے چینی میں رات گزاری، وہ جلد سے جلد اپنے اس کھیت اور باغ جیسے بہت سے کھیتوں اور باغوں کا مالک بننا چاہتا تھا۔

الحافظ نے دوسرے دن اپنا کھیت اور باغ بیچ دیا اور اپنے خاندان کو لے کر ایران، فلسطین اور مغربی ملکوں کی طرف ہیروں کی تلاش میں چلا گیا۔ دو سال گزر گئے، الحافظ کئی ملکوں کی آوارہ گردی میں تمام دولت خرچ کر بیٹھا، اسے ہیرے تو نہ ملے مگر وہ انتہائی غربت کا شکار ہوگیا۔ ایک دن وہ سمندر کے کنارے بیٹھا تھا، ایک بہت بڑی لہر سمندر سے اٹھی اور وہ سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔ جس شخص نے الحافظ کے کھیت اور باغ خریدا تھا وہ شخص ایک دن کھیت میں سے گزرنے والی ندی سے اپنے جانوروں کو پانی پلا رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ندی میں کسی چمکتی ہوئی چیز پر پڑی۔ اس نے وہ چیز اٹھا کر دیکھی تو وہ ایک بہت بڑے سائز کا ہیرا تھا۔ دراصل یہ کھیت دنیا کے بہترین ہیروں کے کھیت تھے، کیونکہ گوکنڈہ کی کانوں سے ہیرے بہہ کر ان کھیتوں میں آتے تھے۔ دنیا کا سب سے بڑا ہیرا کوہ نور بھی انھی کانوں سے نکالا گیا تھا۔

رسل کا کہنا ہے کہ ہمیشہ اپنے ذہن کو کھلا رکھیں اور ممکنات کو کبھی ذہن سے محو نہ کریں، ممکنات ایسی طاقت ہیں جن کو دیکھا نہیں جاسکتا۔ جیسی صلاحیتیں دوسروں میں ہیں، ایسی صلاحیتیں آپ میں بھی ہیں، لیکن یہ صلاحیتیں اس وقت بیکار ہیں جب تک آپ کو ان کے استعمال کا طریقہ نہیں آتا۔ شہر اور قصبے اس وقت زوال کا شکار ہوجاتے ہیں جب ان شہروں اور قصبوں کے لوگ اپنے شہر کی خود ہی برائی کرنا شروع کردیتے ہیں۔ لہٰذا آپ کو اپنی خوشی قسمتی تلاش کرنے کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
Load Next Story