چترال کے بیروزگار نوجوانوں کی افغان فوج میں بھرتی کا انکشاف
تشویش کی بات نہیں،ڈی سی او چترال ،ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے نہیںرہ سکتے ، تحقیقات ہونگی،صوبائی وزیر اطلاعات
کچھ نوجوان واپس آگئے، تشویش کی بات نہیں،ڈی سی او چترال ،ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے نہیںرہ سکتے ، تحقیقات ہونگی،صوبائی وزیر اطلاعات
چترال کے نوجوانوں کاافغان نیشنل آرمی میںبھرتی کا انکشاف ہواہے جس پر صوبہ خیبر پختونخواکی حکومت نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کوتحقیقات کاحکم دیدیا ہے۔ ثنانیوز کے مطابق محکمہ داخلہ خیبر پختو نخواکاکہناہے کہ 70 کے قریب چترالی نوجوانوںنے افغان نیشنل آرمی میںشمولیت اختیارکرلی ہے اوروہ افغان صوبہ نورستان کی سرحد کے قریب رہائش رکھے ہوئے ہیں،نوجوانوں سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ نوجوان بیروزگارتھے اوراچھی تنخواہ کی وجہ سے افغان نیشنل آرمی میںشامل ہوئے۔این این أئی کے مطابق محکمہ داخلہ نے سختی سے کمشنرکوہدایت کی ہے کہ ان نوجوانوں کے والدین کے نام، پتے اورمسلک سمیت دیگرکوائف سے متعلق صوبائی حکومت کوفوری طور پر آگاہ کیا جائے تاکہ حکومت اس حوالے سے مناسب کارروائی کرسکے۔اس حوالے سے ڈی سی او چترال رحمت اللہ وزیر نے بتایاکہ چند نوجوان ملازمت چھوڑکرواپس آچکے ہیںضلعی انتظامیہ اس سلسلے میں کام کر رہی ہے ،کوئی تشویش کی بات نہیں ہے۔
پشاورسے نمائندے کے مطابق صوبائی وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ سارا معاملہ صوبائی حکومت کے نوٹس میں ہے، یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں جسے صوبائی حکومت ایسے ہی چھوڑدے، اس بارے میں مکمل تحقیقات کرائی جائیں گی ۔ انھوں نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک کی فوج میں بھرتی ہونا شروع ہوجائیں اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں ۔صوبائی حکومت تحقیقاتی رپورٹ کے بارے میں وفاقی وزارت داخلہ ،مرکزی حکومت کو بھی آگاہ کرے گی تاکہ وہ بھی مناسب کارروائی کرسکیں ۔
ایکسپر یس نیوز کے مطابق جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق ایم این اے عبدا لاکبر چترالی نے کہا ہے کہ چترال بارڈرپولیس کی تعداد بڑھاکر 5 ہزار کردی جائے اور اس میں چترال کے نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے ۔ اس اقدام سے ان نوجوانوں کو افغان نیشنل گارڈمیں بھرتی ہونے سے باز رکھاجاسکے گا ۔
ذرائع کے مطابق یہ نوجوان بیروزگارتھے اوراچھی تنخواہ کی وجہ سے افغان نیشنل آرمی میںشامل ہوئے۔این این أئی کے مطابق محکمہ داخلہ نے سختی سے کمشنرکوہدایت کی ہے کہ ان نوجوانوں کے والدین کے نام، پتے اورمسلک سمیت دیگرکوائف سے متعلق صوبائی حکومت کوفوری طور پر آگاہ کیا جائے تاکہ حکومت اس حوالے سے مناسب کارروائی کرسکے۔اس حوالے سے ڈی سی او چترال رحمت اللہ وزیر نے بتایاکہ چند نوجوان ملازمت چھوڑکرواپس آچکے ہیںضلعی انتظامیہ اس سلسلے میں کام کر رہی ہے ،کوئی تشویش کی بات نہیں ہے۔
پشاورسے نمائندے کے مطابق صوبائی وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ سارا معاملہ صوبائی حکومت کے نوٹس میں ہے، یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں جسے صوبائی حکومت ایسے ہی چھوڑدے، اس بارے میں مکمل تحقیقات کرائی جائیں گی ۔ انھوں نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک کی فوج میں بھرتی ہونا شروع ہوجائیں اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں ۔صوبائی حکومت تحقیقاتی رپورٹ کے بارے میں وفاقی وزارت داخلہ ،مرکزی حکومت کو بھی آگاہ کرے گی تاکہ وہ بھی مناسب کارروائی کرسکیں ۔
ایکسپر یس نیوز کے مطابق جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق ایم این اے عبدا لاکبر چترالی نے کہا ہے کہ چترال بارڈرپولیس کی تعداد بڑھاکر 5 ہزار کردی جائے اور اس میں چترال کے نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے ۔ اس اقدام سے ان نوجوانوں کو افغان نیشنل گارڈمیں بھرتی ہونے سے باز رکھاجاسکے گا ۔