پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی

وزیر خزانہ نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں ردوبدل وزیر اعظم کی مشاورت سے کیاگیا

وزیر خزانہ نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں ردوبدل وزیر اعظم کی مشاورت سے کیاگیا . فوٹو : فائل

نئی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 1.80روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 2.50 فی لیٹر کمی کرنے کا اعلان کر دیا، مٹی کے تیل اورلائٹ ڈیزل کی قیمتوں میںکوئی ردوبدل نہیںکیا گیا۔ قبل ازیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جس کمی کی نوید سنائی جاتی رہی ہے وہ اعلان کردہ کمی سے کہیں زیادہ تھی۔

قیمتوں میں کمی کا اعلان وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوارن کیا اور بتایا کہا کہ پٹرول کی نئی قیمت 69.50 اور ڈیزل کی 77.40 روپے فی لیٹر ہو گی۔ واضح رہے کہ اوگرا کی طرف سے پٹرول 3 روپے 67 پیسے سستا جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 7 پیسے فی لیٹر کمی کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ مٹی کا تیل 13 روپے اور لائٹ ڈیزل 10 روپے ایک پیسہ مہنگاکرنے کی تجویز تھی۔


وزیر خزانہ نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں ردوبدل وزیر اعظم کی مشاورت سے کیاگیا۔ نئی قیمتیں 31 اگست تک نافذ العمل رہیںگی۔ یہ حکومت کی بڑی دریا دلی ہے کہ قیمتوں میں ایک روپیہ اور چند پیسوںکی تخفیف کا اعلان کردیا گیا ہے حالانکہ بازار میں ایک روپے سے کم کی مالیت کا کوئی سکہ چلتا ہی نہیں اس اعتبار سے کیا یہ بہتر نہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی یا اضافہ پیسوں میں نہیں صرف روپوں میں کیا جائے تا کہ صارفین کو کمی یا اضافے کا شعوری ادراک ہو سکے۔

بہرحال حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر کے درمیانے اور نچلے طبقے کو کسی حد تک فائدہ ضرور پہنچایا ہے تاہم اس حوالے سے پاکستان کے اقتصادی منیجرز اگر عوام کو مزید ریلیف دینا چاہیں تو یہ ممکن ہے' اس کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر عائد مختلف نوعیت کے ٹیکسوں میں کمی کر کے یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو سالانہ میزانیہ میں ہی طے کیا جائے۔ اس طریقے سے پورا سال پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام رہے گا جس کا معیشت پر مثبت اثر پڑے گا۔
Load Next Story