رواں برس خسرہ سے ملک میں 154بچے ہلاک ہو ئے

سندھ میں 100 بچے جان سے گئے ،گذشتہ برس صوبے میں250 ہلاکتیں ہوئیں

سیلاب سے متاثر علاقوں میں زیادہ ہلاکتیں ہوئیں،عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ فوٹو: فائل

سندھ بھر میں رواں برس خسرہ سے اب تک 100 سے زائد بچے جبکہ ملک بھر میں 154 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈیزیز ارلی وارننگ کے جاری کردہ اعداد شمار کے مطابق2 فروری2013 تک سندھ کے مختلف شہروں میں93 بچے خسرہ سے ہلاک ہو ئے ہیں، رپورٹ کے مطابق2 فروری تک ملک بھر میں خسرہ سے ہونے والی ہلاکتیں 154 تک پہنچ چکی ہیں، دوسری جانب محکمہ صحت سندھ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سندھ کے مختلف شہروں میں ماہ فروری کے10 دنوں میں 9بچے خسرہ سے ہلاک ہوئے ہیںجبکہ رواں برس ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکی ہے۔




گذشتہ برس سندھ کے مختلف شہروں میں خسر ہ سے ہونے والی ہلاکتیں 250 ہیں جبکہ رواں برس خسرہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعدادمحض41 دنوں میں 100 کا ہندسہ عبور کر چکی ہیں،زیادہ ہلاکتیں سیلاب سے متاثرہ اضلاع دادو،کشمور، جیکب آباد، سکھر، بدین، مٹیاری، سانگھڑ اور حیدرآباد میں ہوئی ہیں۔

جہاں آج بھی لوگ صاف پانی سمیت دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، عالمی ادارہ صحت کے مطابق2 فروری تک سندھ کے مختلف شہروں میں خسرہ سے 1786 بچے متاثر ہوئے، ملک بھر میں 154 بچے ہلاک اور 4 ہزار 70 بچے متاثر ہوئے، محکمہ صحت کے اعدادو شمار کے مطابق فروری2013 کے 10 دنوں میں حیدرآباد ، مٹیاری ، بدین اور دادو میں ایک ایک بچہ جبکہ میر پور خاص میں 2 اور سانگھڑ میں3 بچے خسرہ سے ہلاک ہوئے ہیں،رواں ماہ میں خسرہ سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد 316 ہے جبکہ 67 بچے اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
Load Next Story