پارلیمانی کمیٹی کا سندھ ہائیکورٹ کے2 جج مستقل کرنے سے انکار
جوڈیشل کمیشن کی جانب سے بھجوائے جانیوالے3 ایڈیشنل ججزمیں سے جسٹس نثارکوکمیٹی نے پہلے ہی مستقل کرنیکی منظوری دیدی تھی
جوڈیشل کمیشن کی جانب سے بھجوائے جانیوالے3 ایڈیشنل ججزمیں سے جسٹس نثارکوکمیٹی نے پہلے ہی مستقل کرنیکی منظوری دیدی تھی فوٹو: فائل
اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کیلیے قائم پارلیمانی کمیٹی نے جوڈیشل کمیشن کی جانب سے مستقل کرنے کیلیے بھجوائے جانیوالے سندھ ہائیکورٹ کے 2 ججز کے ناموں کو مستردکردیا۔
چیئرمین کمیٹی اعتزاز احسن نے کہاہے کہ دونوں جج ٹیکس ادا نہیں کرتے ، مستقل کرنیکی سفارش نہیںکی جا سکتی۔پارلیمانی کمیٹی نے جوڈیشل کمیشن کی جانب سے بھجوائے جانے والے3 ایڈیشنل ججزکے ناموں میں سے جسٹس نثارکومستقل کرنیکی پہلے ہی منظوری دیدی تھی۔ پیرکوپارلیمانی کمیٹی کااجلاس اعتزاز احسن کی صدارت میں پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا جس میں جسٹس ندیم اختر اورجسٹس شفیع صدیقی کومستقل کرنے کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر غورکیاگیا۔
اجلاس کے بعد میڈیاسے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیئر مین کمیٹی اعتزاز احسن نے کہا کہ کمیٹی کو جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پرتحفظات ہیں کیونکہ جن ایڈیشنل ججز کے نام بھجوائے گئے ہیں وہ ٹیکس ادا نہیں کرتے، جوڈیشل کمیشن نے ججز تقرری کے معاملے پر اسے نظراندازکیا۔ انکا کہنا تھاکہ ہمیںمعلوم ہے کہ ہماری مخالفت کے باوجودان دونوں ججزکومستقل کردیاجائیگا۔ سپریم کورٹ نے ججزتقرری کے بارے میں ہمارے پر کاٹ دیے ہیں مگرہم نے حقائق کو مد نظررکھ کر وزیر اعظم کوتجویز بھجوائی ہے کہ انہیں مستقل نہ کیاجائے،امیدہے وزیر اعظم ہماری سفارشات کا نوٹس لیں گے۔
چیئرمین کمیٹی اعتزاز احسن نے کہاہے کہ دونوں جج ٹیکس ادا نہیں کرتے ، مستقل کرنیکی سفارش نہیںکی جا سکتی۔پارلیمانی کمیٹی نے جوڈیشل کمیشن کی جانب سے بھجوائے جانے والے3 ایڈیشنل ججزکے ناموں میں سے جسٹس نثارکومستقل کرنیکی پہلے ہی منظوری دیدی تھی۔ پیرکوپارلیمانی کمیٹی کااجلاس اعتزاز احسن کی صدارت میں پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا جس میں جسٹس ندیم اختر اورجسٹس شفیع صدیقی کومستقل کرنے کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر غورکیاگیا۔
اجلاس کے بعد میڈیاسے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیئر مین کمیٹی اعتزاز احسن نے کہا کہ کمیٹی کو جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پرتحفظات ہیں کیونکہ جن ایڈیشنل ججز کے نام بھجوائے گئے ہیں وہ ٹیکس ادا نہیں کرتے، جوڈیشل کمیشن نے ججز تقرری کے معاملے پر اسے نظراندازکیا۔ انکا کہنا تھاکہ ہمیںمعلوم ہے کہ ہماری مخالفت کے باوجودان دونوں ججزکومستقل کردیاجائیگا۔ سپریم کورٹ نے ججزتقرری کے بارے میں ہمارے پر کاٹ دیے ہیں مگرہم نے حقائق کو مد نظررکھ کر وزیر اعظم کوتجویز بھجوائی ہے کہ انہیں مستقل نہ کیاجائے،امیدہے وزیر اعظم ہماری سفارشات کا نوٹس لیں گے۔