ایران بھی جوہری طاقت ہے
پاکستان اور ایران کو مل کر افغان بحران میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایسی صورت میں خطے میں غیر ملکی مداخلت ختم ہو سکتی ہے۔
کسی ملک نے ایران پر حملے کی کوشش کی تو اسے یہ حملہ خاصا مہنگا پڑے گا، علی لاریجانی۔ فوٹو:اے ایف پی/فائل
لاہور:
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے روزنامہ ایکسپریس کے کالم نگار اور ایکسپریس ٹی وی کے اینکر پرسن جاوید چوہدری کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں ایران کے ایٹمی طاقت ہونے کی تصدیق کر دی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی ملک نے ایران پر حملے کی کوشش کی تو اسے یہ حملہ خاصا مہنگا پڑے گا۔ ڈاکٹر علی لاری جانی کا کہنا ہے کہ کسی ملک کے دفاع کے لیے صرف ایٹمی اسلحہ ہی بطور ڈیٹرنٹ کافی نہیں بلکہ اس کے لیے بہت سے دیگر عوامل بھی ضروری ہیں لہٰذا مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ہم ہر طرح ایران کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ ہم صرف ایٹمی ہتھیار پر انحصار نہیں کر رہے' ہم دوسرے دفاعی شعبوں میں بھی مضبوط ہیں۔
امریکا اور مغربی یورپ کے ممالک کی طرف سے کافی عرصے سے ایران کے ایٹم پروگرام کا شور و غوغا بلند کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے ایران پر اقتصادی پابندیاں بھی عائد کی جارہی ہیں حالانکہ ایران کا مسلسل یہی اصرار تھا کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کی کفالت کی خاطر پر امن جوہری قوت حاصل کر رہا ہے، اس کا مقصد ایٹمی ہتھیار تیار کرنا ہر گز نہیں۔ ایران اصولی طور پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کا قائل ہی نہیں ہے۔ ایرانی قیادت اس بات پر تعجب کا اظہار کرتی رہی ہے کہ جن ملکوں نے جوہری ہتھیاروں کے انبار اکٹھے کر رکھے ہیں، وہ ایران کے پر امن جوہری پروگرام پر معترض ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر علی لاریجانی سے جب یہ پوچھا گیا ''اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا تو کیا وہ اپنی حفاظت کر سکے گا'' اس پر علی لاریجانی نے ٹھوس لہجے میں جواب دیا کہ اول تو اسرائیل میں اتنی جرأت ہی نہیں ہے اور نہ ہی اتنی طاقت کہ ایران کو زیر کر سکے۔ اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکا کبھی ایران پر حملہ کی غلطی نہیں کرے گا کیونکہ یہ اسے بہت مہنگا پڑے گا۔ اور بالفرض محال اگر کبھی امریکا نے ایران پر حملے کی حماقت کر بھی لی تو پاکستان کے لوگ اور حکومت ایران کی مدد کریں گے ۔ پاکستان کے لوگ کبھی امریکا کو اس حملے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر علی لاری جانی کا کہنا تھا کہ بھارت ایران کے ذریعے بلوچستان میں بد امنی نہیں پھیلا رہا کیونکہ ہم کبھی بھارت یا کسی دوسرے ملک کو پاکستان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
افغانستان سے امریکی انخلاء کے بارے میں ان کا موقف ہے کہ امریکا کے افغانستان سے نکلنے کے بعد خطے میں دوبارہ مسائل پیدا ہو جائیں گے چنانچہ ایران' پاکستان اور افغانستان کو اس مسئلے کے حل کے لیے اکٹھے ہو کر کوئی متحدہ اور متفقہ لائحہ عمل تلاش کرنا ہو گا۔ انھوں نے پیش کش کی کہ ہم اس معاملے میں دونوں ممالک (یعنی افغانستان اور پاکستان) کے میزبان بن سکتے ہیں۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ امریکا گیس پائپ لائن کو پسند نہیں کرتا۔ لیکن ہم نے اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ پاک ایران تعلقات کے حوالے سے ڈاکٹر علی لاریجانی نے پاکستان کو پیش کش کی اگر پاکستان چاہے تو ایران پاکستان کے لیے اپنی سرحدیں کھولنے کے لیے تیار ہے۔ اگر پاکستان اور ایران کا بارڈر کھل جائے تو دونوں ممالک قریب آ جائیں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے ایرانی ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ابہام دور کردیا ہے۔ان کے انٹرویو سے یہی لگتا ہے کہ ایران اب جوہری صلاحیت کے حامل ممالک کے کلب کا غیر تسلیم شدہ ملک بن چکا ہے۔ یہ انٹرویو امریکا' مغربی یورپ اور اسرائیل کے لیے پیغام ہے کہ ایران کے ساتھ اسی انداز میں گفتگو کی جائے جیسی کسی ایٹمی طاقت سے کی جاتی ہے۔ امریکا اور مغربی ممالک نے ترقی پذیر ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی سے محروم رکھنے کی پالیسی جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے، وہ عملاً ناکام ہوچکی ہے۔ اس وقت شمالی کوریا بھی ایٹمی قوت بن چکا ہے اور ایران بھی اس صف میں شامل ہے' اسرائیل بھی غیر علانیہ ایٹمی طاقت ہے ۔جنوبی افریقہ اور برازیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایٹمی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں۔اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ کسی ملک پر اقتصادی پابندیاں عائد کرکے یا اس کا گھیرائو کر کے اسے ایٹمی ٹیکنالوجی سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔
امریکا اور دیگر ایٹمی طاقتیں اگر دنیا سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا خاتمہ چاہتی ہیں تو انھیں سب سے پہلے اپنے ہتھیاروں کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے' اس کے ساتھ ساتھ کمزور ممالک میں عدم تحفظ کے احساس کا خاتمہ بھی ضروری ہے' جب تک کسی قوم میں عدم تحفظ کا احساس رہے گا ، وہ ایٹمی قوت بننے کی کوشش کرتی رہے گی۔ جہاں تک ایران اور پاکستان کے تعلقات کی بات ہے تو اس معاملے میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا بالکل درست ہے کہ پاکستانی عوام ایران پر کسی بھی ممکنہ جارحیت کے سخت خلاف ہیں۔ پاکستان نے ایران کا ہر معاملے میں کھل کر ساتھ دیا ہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اس کی ایک مثال ہے' تمام تر دبائو کے باوجود پاکستان نے یہ منصوبہ ترک نہیں کیا' ایران اور پاکستان اگر ایک دوسرے کے عوام کے لیے سرحدیں کھول دیں تو اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات نئے دور میں داخل ہوسکتے ہیں' ایرانی اسپیکر نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے حوالے سے جو صفائی پیش کی ہے، وہ درست ہے، پاکستان نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ایرانی سرزمین سے بھارت بلوچستان میں مداخلت کررہا ہے۔بھارت بلوچستان میں کس سرزمین سے مداخلت کررہا ہے، یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔بہرحال ایرانی اسپیکر کی یہ تجویز صائب ہے کہ پاکستان اور ایران کو مل کر افغان بحران میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایسی صورت میں اس خطے میں غیر ملکی مداخلت کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور اس سارے خطے میں قیام امن کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے روزنامہ ایکسپریس کے کالم نگار اور ایکسپریس ٹی وی کے اینکر پرسن جاوید چوہدری کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں ایران کے ایٹمی طاقت ہونے کی تصدیق کر دی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی ملک نے ایران پر حملے کی کوشش کی تو اسے یہ حملہ خاصا مہنگا پڑے گا۔ ڈاکٹر علی لاری جانی کا کہنا ہے کہ کسی ملک کے دفاع کے لیے صرف ایٹمی اسلحہ ہی بطور ڈیٹرنٹ کافی نہیں بلکہ اس کے لیے بہت سے دیگر عوامل بھی ضروری ہیں لہٰذا مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ہم ہر طرح ایران کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ ہم صرف ایٹمی ہتھیار پر انحصار نہیں کر رہے' ہم دوسرے دفاعی شعبوں میں بھی مضبوط ہیں۔
امریکا اور مغربی یورپ کے ممالک کی طرف سے کافی عرصے سے ایران کے ایٹم پروگرام کا شور و غوغا بلند کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے ایران پر اقتصادی پابندیاں بھی عائد کی جارہی ہیں حالانکہ ایران کا مسلسل یہی اصرار تھا کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کی کفالت کی خاطر پر امن جوہری قوت حاصل کر رہا ہے، اس کا مقصد ایٹمی ہتھیار تیار کرنا ہر گز نہیں۔ ایران اصولی طور پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کا قائل ہی نہیں ہے۔ ایرانی قیادت اس بات پر تعجب کا اظہار کرتی رہی ہے کہ جن ملکوں نے جوہری ہتھیاروں کے انبار اکٹھے کر رکھے ہیں، وہ ایران کے پر امن جوہری پروگرام پر معترض ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر علی لاریجانی سے جب یہ پوچھا گیا ''اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا تو کیا وہ اپنی حفاظت کر سکے گا'' اس پر علی لاریجانی نے ٹھوس لہجے میں جواب دیا کہ اول تو اسرائیل میں اتنی جرأت ہی نہیں ہے اور نہ ہی اتنی طاقت کہ ایران کو زیر کر سکے۔ اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکا کبھی ایران پر حملہ کی غلطی نہیں کرے گا کیونکہ یہ اسے بہت مہنگا پڑے گا۔ اور بالفرض محال اگر کبھی امریکا نے ایران پر حملے کی حماقت کر بھی لی تو پاکستان کے لوگ اور حکومت ایران کی مدد کریں گے ۔ پاکستان کے لوگ کبھی امریکا کو اس حملے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر علی لاری جانی کا کہنا تھا کہ بھارت ایران کے ذریعے بلوچستان میں بد امنی نہیں پھیلا رہا کیونکہ ہم کبھی بھارت یا کسی دوسرے ملک کو پاکستان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
افغانستان سے امریکی انخلاء کے بارے میں ان کا موقف ہے کہ امریکا کے افغانستان سے نکلنے کے بعد خطے میں دوبارہ مسائل پیدا ہو جائیں گے چنانچہ ایران' پاکستان اور افغانستان کو اس مسئلے کے حل کے لیے اکٹھے ہو کر کوئی متحدہ اور متفقہ لائحہ عمل تلاش کرنا ہو گا۔ انھوں نے پیش کش کی کہ ہم اس معاملے میں دونوں ممالک (یعنی افغانستان اور پاکستان) کے میزبان بن سکتے ہیں۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ امریکا گیس پائپ لائن کو پسند نہیں کرتا۔ لیکن ہم نے اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ پاک ایران تعلقات کے حوالے سے ڈاکٹر علی لاریجانی نے پاکستان کو پیش کش کی اگر پاکستان چاہے تو ایران پاکستان کے لیے اپنی سرحدیں کھولنے کے لیے تیار ہے۔ اگر پاکستان اور ایران کا بارڈر کھل جائے تو دونوں ممالک قریب آ جائیں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے ایرانی ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ابہام دور کردیا ہے۔ان کے انٹرویو سے یہی لگتا ہے کہ ایران اب جوہری صلاحیت کے حامل ممالک کے کلب کا غیر تسلیم شدہ ملک بن چکا ہے۔ یہ انٹرویو امریکا' مغربی یورپ اور اسرائیل کے لیے پیغام ہے کہ ایران کے ساتھ اسی انداز میں گفتگو کی جائے جیسی کسی ایٹمی طاقت سے کی جاتی ہے۔ امریکا اور مغربی ممالک نے ترقی پذیر ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی سے محروم رکھنے کی پالیسی جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے، وہ عملاً ناکام ہوچکی ہے۔ اس وقت شمالی کوریا بھی ایٹمی قوت بن چکا ہے اور ایران بھی اس صف میں شامل ہے' اسرائیل بھی غیر علانیہ ایٹمی طاقت ہے ۔جنوبی افریقہ اور برازیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایٹمی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں۔اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ کسی ملک پر اقتصادی پابندیاں عائد کرکے یا اس کا گھیرائو کر کے اسے ایٹمی ٹیکنالوجی سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔
امریکا اور دیگر ایٹمی طاقتیں اگر دنیا سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا خاتمہ چاہتی ہیں تو انھیں سب سے پہلے اپنے ہتھیاروں کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے' اس کے ساتھ ساتھ کمزور ممالک میں عدم تحفظ کے احساس کا خاتمہ بھی ضروری ہے' جب تک کسی قوم میں عدم تحفظ کا احساس رہے گا ، وہ ایٹمی قوت بننے کی کوشش کرتی رہے گی۔ جہاں تک ایران اور پاکستان کے تعلقات کی بات ہے تو اس معاملے میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا بالکل درست ہے کہ پاکستانی عوام ایران پر کسی بھی ممکنہ جارحیت کے سخت خلاف ہیں۔ پاکستان نے ایران کا ہر معاملے میں کھل کر ساتھ دیا ہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اس کی ایک مثال ہے' تمام تر دبائو کے باوجود پاکستان نے یہ منصوبہ ترک نہیں کیا' ایران اور پاکستان اگر ایک دوسرے کے عوام کے لیے سرحدیں کھول دیں تو اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات نئے دور میں داخل ہوسکتے ہیں' ایرانی اسپیکر نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے حوالے سے جو صفائی پیش کی ہے، وہ درست ہے، پاکستان نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ایرانی سرزمین سے بھارت بلوچستان میں مداخلت کررہا ہے۔بھارت بلوچستان میں کس سرزمین سے مداخلت کررہا ہے، یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔بہرحال ایرانی اسپیکر کی یہ تجویز صائب ہے کہ پاکستان اور ایران کو مل کر افغان بحران میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایسی صورت میں اس خطے میں غیر ملکی مداخلت کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور اس سارے خطے میں قیام امن کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔