عاصمہ اور نادیدہ قوتیں
اس ملک میں جمہوری نظام کے لیے قربانیاں دینے والوں کی فہرست میں عاصمہ جہانگیر کا نام سرفہرست ہوگا۔
tauceeph@gmail.com
عاصمہ جہانگیر کا نام اس ملک کی جمہوری تحریک کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی فہرست میں سب سے نمایاں ہے۔ان کا تعلق ادیبوں اور سیاستدانوں کے ایک ایسے خاندان سے ہے جس نے ہمیشہ نیک نامی کمائی۔ ان کے نانا مولانا صلاح الدین کا شمار 20 ویں صدی کے ممتاز ادیبوں میں ہوتا ہے۔ جنہوں نے جنرل ایوب خان کی آمریت کے سامنے جھکنے سے بھی انکار کردیا۔ عاصمہ کے والد ملک غلام جیلانی نے جنرل ایوب خان کی آمریت کو قبول نہیں کیا اور قیدوبند کی صعوبتوں کو زندگی کا حصہ بنالیا۔ جنرل یحییٰ خان کے فوجی ایکشن کے حمایت کرنے والوں میں پیپلز پارٹی کے بانی جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی اور مسلم لیگ کے رہنما خان قیوم خان سب سے آگے تھے۔
جنرل یحییٰ خان کے بنگلہ دیشی عوام کے خلاف فوجی آپریشن کے خلاف کئی سیاستدانوں نے آواز اٹھائیں، ان میں ایک نام ملک غلام جیلانی کا بھی تھا۔ پنجاب میں صرف حبیب جالب، عبداﷲ ملک، حمید اختر، آئی اے رحمن اور منہاج برنا جیسے صحافی اور کمیونسٹ کارکن فوجی آپریشن کے خلاف تھے۔ فوجی حکومت نے ملک غلام جیلانی کو گرفتار کرلیا۔ غلام جیلانی کی سب سے بڑی صاحبزادی عاصمہ جیلانی جو اس زمانے میں کالج کی طالبہ تھیں، نے اپنے والد کی گرفتاری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ عاصمہ جیلانی کی اس جرأت کو پوری دنیا میں محسوس کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کی سماعت میں خاصی تاخیر کی۔
پھر اس مقدمے کی سماعت کے دوران عاصمہ جیلانی نے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کی قانونی حیثیت کو بھی غیر آئینی قرار دیا۔ یوں سپریم کورٹ کو مارشل لاء کی آئینی حیثیت کے تعین کے بارے میں بھی غور کرنا پڑا، اور پھر سپریم کورٹ کو چیف جسٹس حمود الرحمن کی قیادت میں جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دینا پڑا۔ یہ فیصلہ پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں آیا۔ بھٹو حکومت کو اس فیصلے کے اعلان کے بعد ملک غلام جیلانی کو رہا کرنا پڑا مگر 13 سال بعد فوجی حکومتوں کے اقتدار پر قبضے کو غیر قانونی قرار دے کر مستقبل میں فوجی حکومتوں کے اقتدار سنبھالنے کے خلاف ایک دیوار رکھ دی گئی۔ دنیا کے کئی ممالک میں اس خبر پر حیرت کا اظہار کیا گیا کہ ایک 19 سالہ لڑکی نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اقتدار پر قبضے کا راستہ روک دیا۔ یوں عاصمہ عدالتی محاذ پر کامیابی کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن گئیں۔
جنرل ضیاء الحق نے 1977 میں مارشل لاء نافذ کیا، اس وقت تک عاصمہ ایل ایل بی کرنے کے بعد باقاعدہ وکیل بن چکی تھیں اور شادی کے بعد عاصمہ جہانگیر کہلانے لگی تھیں۔ عاصمہ جہانگیر وکیلوں کو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف منظم کرنے والے وکلا کے گروپ میں شامل ہوگئیں۔ یہ وہ وقت تھا جب میاں محمود قصوری، ملک قاسم وغیرہ اس وکلا تحریک کے رہنماؤں کی قیادت کررہے تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے متنازعہ اسلامی قوانین نافذ کیے تو خواتین اور اقلیتیں دوسرے درجے کے شہری قرار پائیں۔ عاصمہ جہانگیر اور لاہور کی باشعور خواتین نے ان قوانین کو لاہور کے مال روڈ پر چیلنج کیا۔ حدود قصاص اور دیت آرڈیننس کے خلاف مال روڈ پر ہونے والے ویمن ایکشن فورم کے مظاہرے پر پولیس نے بہیمانہ تشدد کیا۔ شاعرِ انقلاب حبیب جالب خواتین کے ساتھ یکجہتی کے لیے مظاہرے میں موجود تھے۔
عاصمہ اور دیگر خواتین کے ساتھ بوڑھے جالب کی کمر پر بھی پولیس کے ڈنڈے پڑے۔ عاصمہ، ان کی بہن حنا جیلانی اور دوسری خواتین کو گرفتار کرکے پنجاب کی مختلف جیلوں میں نظربند کیا گیا مگر عاصمہ کا عزم اور مستحکم ہوا۔ عاصمہ جہانگیر نے 1986 میں جسٹس دراب، آئی اے رحمن کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کمیشن HRCP قائم کیا۔ یوں اس ملک میں انسانی حقوق سے آگہی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ انسانی حقوق کی پاسداری میں پہلا سوال ریاست کی جانب سے ہر شہری کے ساتھ بلالحاظ تفریق، ذات و نسل یکساں سلوک کا آیا تو عاصمہ نے سب سے پہلے آواز اٹھائی کہ 1973 کے آئین میں کی گئی چوتھی ترمیم کی بنا پر مرزا غلام محمد کے پیروکار اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوئے ہیں اور جمہوری ریاست میں تمام شہریوں کے حقوق یکساں ہونے چاہئیں۔
ریاست کو مذہب اور عقیدے کی بنا پر کسی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کا حق نہیں، یوں رجعت پسند حلقوں نے عاصمہ کے خلاف مذموم مہم شروع کی، انھیں قادیانی قرار دیا گیا جو حقائق کے منافی تھا۔ عاصمہ نے اپنی بہن حنا جیلانی کے ساتھ مل کر بے گھر عورتوں کے لیے شیلٹر ہوم قائم کیا۔ انھوں نے پسند کی شادی کا حق استعمال کرنے والی لڑکیوں کے مقدمات کی پیروی کی۔
عاصمہ جہانگیر نے بھٹہ مزدوروں کو استحصال سے نجات دلانے کے لیے قانونی لڑائی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں سے سپریم کورٹ نے بھٹہ کی صنعت میں بیگار اور جبری مشقت کی تمام قسموں پر پابندی عائد کردی۔ عاصمہ جہانگیر نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت کو چیلنج کیا۔ انھوں نے خواتین کی میراتھن ریس کے خلاف پابندی پر احتجاج کیا۔ لاہور کے معروف چوک پر وہ پھر پولیس کے تشدد کا شکار ہوئیں۔ عاصمہ جہانگیر نے 2007 میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ وہ 12 مئی 2007 کو چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کراچی آمد پر چیف جسٹس اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کے ساتھ کراچی ایئرپورٹ پر مقید ہوکر رہ گئیں۔ کراچی کی سڑکیں کھودی گئیں ، ان پر بسوں کے ذریعے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
پھر قتل عام بھی ہوا۔ جب 4 نومبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کی تو وہ اپنے گھر پر نظربند کردی گئیں۔ عاصمہ نے لاپتہ افراد کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائی اور سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا۔ انھوں نے امریکا میں گرفتار ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدگی کا معاملہ سب سے پہلے اٹھایا۔ عاصمہ جہانگیر نے سب سے پہلے محسوس کیا کہ سپریم کورٹ اپنی آئینی حدود سے تجاوز کررہا ہے اور تمام اداروں کو آئین کی حدود میں رہتے ہوئے فرائض انجام دینے چاہئیں۔ انھوں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدارت کا انتخاب لڑا۔ وکلا تحریک کے 2007 میں منظم ہونے کے بعد چیف جسٹس کے حامیوں کو پہلی دفعہ شکست کا سامنا کرنا پڑا، پھر یہ سلسلہ چل پڑا۔ عاصمہ کے حامی وکلا سپریم کورٹ بار، مختلف ہائی کورٹ بار اور سٹی بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں کامیاب ہونے لگے۔
جب گزشتہ سال عبوری حکومت کے شفاف انتخابات کے بارے میں خبریں شایع ہوئیں تو پتہ چلا کہ مسلم لیگ ن نے عبوری وزیراعظم کے ناموں کی فہرست میں عاصمہ جہانگیر کا نام سرفہرست رکھا ہے۔ اس خبر کی مسلم لیگی قیادت نے تصدیق نہیں کی مگر اخبارات میں عاصمہ جہانگیر کے خلاف ایک مہم شروع ہوگئی۔ اس مہم کو دیکھ کر واضح ہوتا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے توانائی حاصل کرنے والے عاصمہ کو اس لیے نشانہ بنا رہے ہیں کہ شفاف انتخابات ان کے مفاد کے خلاف ہیں۔ پہلے بھارت سے دوستی کی بات پنجاب کے سب سے بڑے رہنما نوازشریف نے مانی تھی، اب فوج نے بھی اس بارے میں اپنی ڈاکٹرائن تبدیل کرلی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عدلیہ اور میڈیا کا ایک حصہ شفاف انتخابات اور پرامن انتقالِ اقتدار کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
عاصمہ جہانگیر نے ساری زندگی اسٹیبلشمنٹ سے سمجھوتہ نہیں کیا، انھوں نے نوجوانی میں جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کو چیلنج کیا اور اب 40 سال بعد بھی وہ اپنے اصولوں پر سمجھوتے کو تیار نہیں۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی عاصمہ جہانگیر کو عبوری وزیر اعظم بنائیں یا نہ بنائیں، مگر اس ملک میں شفاف انتخابات ہوئے اور پہلی دفعہ اقتدار پرامن طور پر منتقل ہوا تو تاریخ میں جن لوگوں کا نام اس ملک میں شفاف انتخابات اور مستحکم جمہوری نظام کے لیے قربانیاں دینے والوں کی فہرست میں درج ہوگا، عاصمہ جہانگیر کا نام اس میں سرفہرست ہوگا۔
جنرل یحییٰ خان کے بنگلہ دیشی عوام کے خلاف فوجی آپریشن کے خلاف کئی سیاستدانوں نے آواز اٹھائیں، ان میں ایک نام ملک غلام جیلانی کا بھی تھا۔ پنجاب میں صرف حبیب جالب، عبداﷲ ملک، حمید اختر، آئی اے رحمن اور منہاج برنا جیسے صحافی اور کمیونسٹ کارکن فوجی آپریشن کے خلاف تھے۔ فوجی حکومت نے ملک غلام جیلانی کو گرفتار کرلیا۔ غلام جیلانی کی سب سے بڑی صاحبزادی عاصمہ جیلانی جو اس زمانے میں کالج کی طالبہ تھیں، نے اپنے والد کی گرفتاری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ عاصمہ جیلانی کی اس جرأت کو پوری دنیا میں محسوس کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کی سماعت میں خاصی تاخیر کی۔
پھر اس مقدمے کی سماعت کے دوران عاصمہ جیلانی نے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کی قانونی حیثیت کو بھی غیر آئینی قرار دیا۔ یوں سپریم کورٹ کو مارشل لاء کی آئینی حیثیت کے تعین کے بارے میں بھی غور کرنا پڑا، اور پھر سپریم کورٹ کو چیف جسٹس حمود الرحمن کی قیادت میں جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دینا پڑا۔ یہ فیصلہ پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں آیا۔ بھٹو حکومت کو اس فیصلے کے اعلان کے بعد ملک غلام جیلانی کو رہا کرنا پڑا مگر 13 سال بعد فوجی حکومتوں کے اقتدار پر قبضے کو غیر قانونی قرار دے کر مستقبل میں فوجی حکومتوں کے اقتدار سنبھالنے کے خلاف ایک دیوار رکھ دی گئی۔ دنیا کے کئی ممالک میں اس خبر پر حیرت کا اظہار کیا گیا کہ ایک 19 سالہ لڑکی نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اقتدار پر قبضے کا راستہ روک دیا۔ یوں عاصمہ عدالتی محاذ پر کامیابی کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن گئیں۔
جنرل ضیاء الحق نے 1977 میں مارشل لاء نافذ کیا، اس وقت تک عاصمہ ایل ایل بی کرنے کے بعد باقاعدہ وکیل بن چکی تھیں اور شادی کے بعد عاصمہ جہانگیر کہلانے لگی تھیں۔ عاصمہ جہانگیر وکیلوں کو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف منظم کرنے والے وکلا کے گروپ میں شامل ہوگئیں۔ یہ وہ وقت تھا جب میاں محمود قصوری، ملک قاسم وغیرہ اس وکلا تحریک کے رہنماؤں کی قیادت کررہے تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے متنازعہ اسلامی قوانین نافذ کیے تو خواتین اور اقلیتیں دوسرے درجے کے شہری قرار پائیں۔ عاصمہ جہانگیر اور لاہور کی باشعور خواتین نے ان قوانین کو لاہور کے مال روڈ پر چیلنج کیا۔ حدود قصاص اور دیت آرڈیننس کے خلاف مال روڈ پر ہونے والے ویمن ایکشن فورم کے مظاہرے پر پولیس نے بہیمانہ تشدد کیا۔ شاعرِ انقلاب حبیب جالب خواتین کے ساتھ یکجہتی کے لیے مظاہرے میں موجود تھے۔
عاصمہ اور دیگر خواتین کے ساتھ بوڑھے جالب کی کمر پر بھی پولیس کے ڈنڈے پڑے۔ عاصمہ، ان کی بہن حنا جیلانی اور دوسری خواتین کو گرفتار کرکے پنجاب کی مختلف جیلوں میں نظربند کیا گیا مگر عاصمہ کا عزم اور مستحکم ہوا۔ عاصمہ جہانگیر نے 1986 میں جسٹس دراب، آئی اے رحمن کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کمیشن HRCP قائم کیا۔ یوں اس ملک میں انسانی حقوق سے آگہی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ انسانی حقوق کی پاسداری میں پہلا سوال ریاست کی جانب سے ہر شہری کے ساتھ بلالحاظ تفریق، ذات و نسل یکساں سلوک کا آیا تو عاصمہ نے سب سے پہلے آواز اٹھائی کہ 1973 کے آئین میں کی گئی چوتھی ترمیم کی بنا پر مرزا غلام محمد کے پیروکار اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوئے ہیں اور جمہوری ریاست میں تمام شہریوں کے حقوق یکساں ہونے چاہئیں۔
ریاست کو مذہب اور عقیدے کی بنا پر کسی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کا حق نہیں، یوں رجعت پسند حلقوں نے عاصمہ کے خلاف مذموم مہم شروع کی، انھیں قادیانی قرار دیا گیا جو حقائق کے منافی تھا۔ عاصمہ نے اپنی بہن حنا جیلانی کے ساتھ مل کر بے گھر عورتوں کے لیے شیلٹر ہوم قائم کیا۔ انھوں نے پسند کی شادی کا حق استعمال کرنے والی لڑکیوں کے مقدمات کی پیروی کی۔
عاصمہ جہانگیر نے بھٹہ مزدوروں کو استحصال سے نجات دلانے کے لیے قانونی لڑائی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں سے سپریم کورٹ نے بھٹہ کی صنعت میں بیگار اور جبری مشقت کی تمام قسموں پر پابندی عائد کردی۔ عاصمہ جہانگیر نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت کو چیلنج کیا۔ انھوں نے خواتین کی میراتھن ریس کے خلاف پابندی پر احتجاج کیا۔ لاہور کے معروف چوک پر وہ پھر پولیس کے تشدد کا شکار ہوئیں۔ عاصمہ جہانگیر نے 2007 میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ وہ 12 مئی 2007 کو چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کراچی آمد پر چیف جسٹس اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کے ساتھ کراچی ایئرپورٹ پر مقید ہوکر رہ گئیں۔ کراچی کی سڑکیں کھودی گئیں ، ان پر بسوں کے ذریعے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
پھر قتل عام بھی ہوا۔ جب 4 نومبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کی تو وہ اپنے گھر پر نظربند کردی گئیں۔ عاصمہ نے لاپتہ افراد کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائی اور سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا۔ انھوں نے امریکا میں گرفتار ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدگی کا معاملہ سب سے پہلے اٹھایا۔ عاصمہ جہانگیر نے سب سے پہلے محسوس کیا کہ سپریم کورٹ اپنی آئینی حدود سے تجاوز کررہا ہے اور تمام اداروں کو آئین کی حدود میں رہتے ہوئے فرائض انجام دینے چاہئیں۔ انھوں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدارت کا انتخاب لڑا۔ وکلا تحریک کے 2007 میں منظم ہونے کے بعد چیف جسٹس کے حامیوں کو پہلی دفعہ شکست کا سامنا کرنا پڑا، پھر یہ سلسلہ چل پڑا۔ عاصمہ کے حامی وکلا سپریم کورٹ بار، مختلف ہائی کورٹ بار اور سٹی بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں کامیاب ہونے لگے۔
جب گزشتہ سال عبوری حکومت کے شفاف انتخابات کے بارے میں خبریں شایع ہوئیں تو پتہ چلا کہ مسلم لیگ ن نے عبوری وزیراعظم کے ناموں کی فہرست میں عاصمہ جہانگیر کا نام سرفہرست رکھا ہے۔ اس خبر کی مسلم لیگی قیادت نے تصدیق نہیں کی مگر اخبارات میں عاصمہ جہانگیر کے خلاف ایک مہم شروع ہوگئی۔ اس مہم کو دیکھ کر واضح ہوتا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے توانائی حاصل کرنے والے عاصمہ کو اس لیے نشانہ بنا رہے ہیں کہ شفاف انتخابات ان کے مفاد کے خلاف ہیں۔ پہلے بھارت سے دوستی کی بات پنجاب کے سب سے بڑے رہنما نوازشریف نے مانی تھی، اب فوج نے بھی اس بارے میں اپنی ڈاکٹرائن تبدیل کرلی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عدلیہ اور میڈیا کا ایک حصہ شفاف انتخابات اور پرامن انتقالِ اقتدار کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
عاصمہ جہانگیر نے ساری زندگی اسٹیبلشمنٹ سے سمجھوتہ نہیں کیا، انھوں نے نوجوانی میں جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کو چیلنج کیا اور اب 40 سال بعد بھی وہ اپنے اصولوں پر سمجھوتے کو تیار نہیں۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی عاصمہ جہانگیر کو عبوری وزیر اعظم بنائیں یا نہ بنائیں، مگر اس ملک میں شفاف انتخابات ہوئے اور پہلی دفعہ اقتدار پرامن طور پر منتقل ہوا تو تاریخ میں جن لوگوں کا نام اس ملک میں شفاف انتخابات اور مستحکم جمہوری نظام کے لیے قربانیاں دینے والوں کی فہرست میں درج ہوگا، عاصمہ جہانگیر کا نام اس میں سرفہرست ہوگا۔