کراچی تا حیدرآباد موٹر وے کی تعمیر کا معاہدہ منسوخ
نیشنل ہائی وےاتھارٹی کو100فیصدرائٹ آف وےکی ملکیت کےدستاویزات اور ماحولیاتی کلیئرنس سرٹیفکیٹ متعلقہ کمپنی کو دینے تھے.
این ایچ اے قرضے کے لیے بینک کے آفر لیٹر کا بھی جواب نہیں دے سکی،سرفراز رضوی، نئے ٹینڈر کیلیے اشتہارات بھی جاری، مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوںکی عدم دلچسپی. فوٹو: فائل. فوٹو: فائل
کراچی سے حیدرآباد کیلیے مجوزہ موٹر وے کی تعمیر میں معروف مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کی عدم دلچسپی کے باعث نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے بی او ٹی کی بنیاد پر منصوبے کی تعمیرکیلیے درخواست برائے تجاویز کیلیے دستاویزات جمع کرانے کی تاریخ میں تین ماہ کی توسیع کردی ہے۔
رائٹ آف وے کی سو فیصد ملکیت نہ ہونے اور ماحولیاتی کلیئرنس سرٹیفکیٹ کی عدم موجودگی کے باعث مشہور کمپنیاں منصوبے میں دلچسپی نہیں لے رہی ہیں، دوماہ قبل بھی این ایچ اے اور ملائیشین کمپنی کا معاہدہ انہی امور کے باعث منسوخ ہوا ،متعلقہ کمپنی نے مالی امورکے معاملات طے کرنے کیلیے ملائیشین کمپنی سے کنڈیشن لیٹر حاصل کرلیا تھا تاہم این ایچ اے نے یکطرفہ طور پرکمپنی سے معاہدہ منسوخ کردیا ، ملائیشین کمپنی سے معاہدے کے مطابق این ایچ اے کو سو فیصد رائٹ آف وے کی ملکیت کے دستاویزات اور ماحولیاتی کلیئرنس سرٹیفکیٹ متعلقہ کمپنی کو دینے تھے۔
تاہم این ایچ اے اپنی ذمے داریاں نہ نبھا سکی، تفصیلات کے مطابق این ایچ اے نے ایک سال قبل ملائیشین کمپنی بنا پوری وینچرز کو موٹر وے کی چار لین سے چھ لین کی تعمیر نو کا ٹھیکہ بلٹ آپریٹ ٹرانسفر کی بنیاد پر دیا تھا، معاہدے کے تحت کمپنی کو بی او ٹی کی بنیاد پر یہ منصوبہ 30 ماہ میں مکمل کرنا تھا ، کمپنی کو 25سال تک ٹول ٹیکس کے ذریعے آمدنی جمع کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اور معینہ مدت مکمل ہونے کے بعد ایم نائن کو این ایچ اے کے حوالے کرنا تھا ، این ایچ اے کے متعلقہ افسران نے نمائندہ ایکسپریس کو بتا یا کہ کمپنی معاہدے کے مطا بق مالی امور کے معاملات طے نہ کرسکی اور نہ ہی بروقت تعمیراتی کام شروع کیا جاسکا ۔
متعلقہ افسران نے بتایا کہ کراچی سے حیدرآباد تک رائٹ آف وے کا 95 فیصد حصہ این ایچ اے کی ملکیت ہے ، صرف 5فیصد زمین نجی ملکیت ہے اور کچھ حصے پر تجاوزات ہے، اگر متعلقہ کمپنی تعمیراتی کام شروع کردیتی تو متنازع زمین کا بھی حصول ممکن ہوجاتا جس طرح لیاری ایکسپریس وے منصوبہ شروع کیا گیا تھا تو رائٹ آف وے کا کوئی حصہ این ایچ اے کے پاس نہیں تھا ، بتدریج تجاوزات اور لیز مکانات کو زرتلافی دیکر خالی کرایا گیا اور اب یہ منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، ملائشین کمپنی بنا پوری وینچرز کے ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ اور پاکستان سرفراز رضوی نے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے منصوبہ حکومتی فنڈ سے تعمیر کیا گیا تھا جبکہ کراچی تا حیدرآباد موٹر وے منصوبہ بی اوٹی بنیادوں پر تعمیر کیا جانا تھا ۔
انھوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت کمپنی کا ایکویٹی شیئر 30 فیصد تھا جبکہ 70فیصہ قرضہ کمپنی کو بینک سے حاصل کرنا تھا، انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ جنوری 2012 میں طے پایا تھا، منصوبے کی تعمیراتی لاگت 18.267ارب روپے ہے، معاہدے کے تحت این ایچ اے کو سو فیصد رائٹ آف وے اور سندھ حکومت سے ماحولیاتی کلیئرنس سرٹیفکیٹ تین ماہ میں حاصل کرنا تھا تاکہ کمپنی بینک سے قرضے کا معاہدہ کرکے منصوبے کے مالی امور کے معاملات پورے کرے اور تعمیراتی کام شروع کرسکے۔
سرفراز رضوی نے بتایا کہ این ایچ اے ان شرائط کو پورا کرنے میں ناکام رہی تاہم اس کے باوجودکمپنی نے ملائشین بینک ''مے بینک''سے قرضے کے حصول کے لیے کنڈیشن لیٹر وصول کرکے این ایچ اے کو بینک کی شرائط کی تفصیلات بھجوادی تھیں لیکن این ایچ اے کی جانب سے ہمیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی بات چیت کی گئی، انھوں نے کہا کہ بی اوٹی پروجیکٹ میں رائٹ آف وے رئیل اسٹیٹ کا درجہ رکھتی ہے اور بینک سے قرضہ حاصل کرنے کے لیے ان شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے.
انھوں نے کہا کہ ایم نائین کا رائٹ آف وے تقریباً 14ہزار ایکڑ ہے جس میں 700 ایکڑ نجی ملکیت میں ہے، این ایچ اے مذکورہ رائٹ آف وے حاصل کرنے میں ناکام رہی اور قرضے کے ضمن میں بینک کے آفر لیٹر کا بھی جواب نہ دے سکی بلکہ کمپنی کے ساتھ یکطرفہ طور پر معاہدہ منسوخ کردیا ،کمپنی نے بی اوٹی منصوبے کی تعمیر کیلیے سروے اور تمام پلاننگ مکمل کرلی تھی جس میں اس کے 90 کروڑ خرچ ہوئے، سرفراز رضوی نے کہا کہ کمپنی این ایچ اے کے خلاف قانونی کارروائی کا حق رکھتی ہے، ذرائع نے بتایا کہ ہائی ویز اور موٹر ویز پر یہ پہلے بی او ٹی منصوبے پر این ایچ اے کی ناقص حکمت عملی کے باعث عملدرآمد نہیں ہو پارہا ہے.
ملائیشین کمپنی سے معاہدے کی منسوخی کے بعد این ایچ اے نے دوبارہ تعمیراتی کمپنیوں کو بی اوٹی پر منصوبے کی تعمیر کیلیے طلب کیا تاہم صرف پانچ غیر معروف مقامی کمپنیوں نے دلچسپی کا اظہار کیا ، ذرائع نے بتایا کہ متعلقہ کمپنیوں کا بی اوٹی پروجیکٹ پر کوئی تجربہ نہ ہونے کے باعث این ایچ اے نے درخواست برائے تجاویز کیلیے دستاویزات جمع کرانے کی تاریخ میں تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے یکم اپریل مقرر کردی ہے تاہم معروف مقامی اور بین الاقوامی کمپنیاں اس منصوبے میں دلچسپی نہیں لے رہی ہیں ۔
رائٹ آف وے کی سو فیصد ملکیت نہ ہونے اور ماحولیاتی کلیئرنس سرٹیفکیٹ کی عدم موجودگی کے باعث مشہور کمپنیاں منصوبے میں دلچسپی نہیں لے رہی ہیں، دوماہ قبل بھی این ایچ اے اور ملائیشین کمپنی کا معاہدہ انہی امور کے باعث منسوخ ہوا ،متعلقہ کمپنی نے مالی امورکے معاملات طے کرنے کیلیے ملائیشین کمپنی سے کنڈیشن لیٹر حاصل کرلیا تھا تاہم این ایچ اے نے یکطرفہ طور پرکمپنی سے معاہدہ منسوخ کردیا ، ملائیشین کمپنی سے معاہدے کے مطابق این ایچ اے کو سو فیصد رائٹ آف وے کی ملکیت کے دستاویزات اور ماحولیاتی کلیئرنس سرٹیفکیٹ متعلقہ کمپنی کو دینے تھے۔
تاہم این ایچ اے اپنی ذمے داریاں نہ نبھا سکی، تفصیلات کے مطابق این ایچ اے نے ایک سال قبل ملائیشین کمپنی بنا پوری وینچرز کو موٹر وے کی چار لین سے چھ لین کی تعمیر نو کا ٹھیکہ بلٹ آپریٹ ٹرانسفر کی بنیاد پر دیا تھا، معاہدے کے تحت کمپنی کو بی او ٹی کی بنیاد پر یہ منصوبہ 30 ماہ میں مکمل کرنا تھا ، کمپنی کو 25سال تک ٹول ٹیکس کے ذریعے آمدنی جمع کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اور معینہ مدت مکمل ہونے کے بعد ایم نائن کو این ایچ اے کے حوالے کرنا تھا ، این ایچ اے کے متعلقہ افسران نے نمائندہ ایکسپریس کو بتا یا کہ کمپنی معاہدے کے مطا بق مالی امور کے معاملات طے نہ کرسکی اور نہ ہی بروقت تعمیراتی کام شروع کیا جاسکا ۔
متعلقہ افسران نے بتایا کہ کراچی سے حیدرآباد تک رائٹ آف وے کا 95 فیصد حصہ این ایچ اے کی ملکیت ہے ، صرف 5فیصد زمین نجی ملکیت ہے اور کچھ حصے پر تجاوزات ہے، اگر متعلقہ کمپنی تعمیراتی کام شروع کردیتی تو متنازع زمین کا بھی حصول ممکن ہوجاتا جس طرح لیاری ایکسپریس وے منصوبہ شروع کیا گیا تھا تو رائٹ آف وے کا کوئی حصہ این ایچ اے کے پاس نہیں تھا ، بتدریج تجاوزات اور لیز مکانات کو زرتلافی دیکر خالی کرایا گیا اور اب یہ منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، ملائشین کمپنی بنا پوری وینچرز کے ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ اور پاکستان سرفراز رضوی نے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے منصوبہ حکومتی فنڈ سے تعمیر کیا گیا تھا جبکہ کراچی تا حیدرآباد موٹر وے منصوبہ بی اوٹی بنیادوں پر تعمیر کیا جانا تھا ۔
انھوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت کمپنی کا ایکویٹی شیئر 30 فیصد تھا جبکہ 70فیصہ قرضہ کمپنی کو بینک سے حاصل کرنا تھا، انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ جنوری 2012 میں طے پایا تھا، منصوبے کی تعمیراتی لاگت 18.267ارب روپے ہے، معاہدے کے تحت این ایچ اے کو سو فیصد رائٹ آف وے اور سندھ حکومت سے ماحولیاتی کلیئرنس سرٹیفکیٹ تین ماہ میں حاصل کرنا تھا تاکہ کمپنی بینک سے قرضے کا معاہدہ کرکے منصوبے کے مالی امور کے معاملات پورے کرے اور تعمیراتی کام شروع کرسکے۔
سرفراز رضوی نے بتایا کہ این ایچ اے ان شرائط کو پورا کرنے میں ناکام رہی تاہم اس کے باوجودکمپنی نے ملائشین بینک ''مے بینک''سے قرضے کے حصول کے لیے کنڈیشن لیٹر وصول کرکے این ایچ اے کو بینک کی شرائط کی تفصیلات بھجوادی تھیں لیکن این ایچ اے کی جانب سے ہمیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی بات چیت کی گئی، انھوں نے کہا کہ بی اوٹی پروجیکٹ میں رائٹ آف وے رئیل اسٹیٹ کا درجہ رکھتی ہے اور بینک سے قرضہ حاصل کرنے کے لیے ان شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے.
انھوں نے کہا کہ ایم نائین کا رائٹ آف وے تقریباً 14ہزار ایکڑ ہے جس میں 700 ایکڑ نجی ملکیت میں ہے، این ایچ اے مذکورہ رائٹ آف وے حاصل کرنے میں ناکام رہی اور قرضے کے ضمن میں بینک کے آفر لیٹر کا بھی جواب نہ دے سکی بلکہ کمپنی کے ساتھ یکطرفہ طور پر معاہدہ منسوخ کردیا ،کمپنی نے بی اوٹی منصوبے کی تعمیر کیلیے سروے اور تمام پلاننگ مکمل کرلی تھی جس میں اس کے 90 کروڑ خرچ ہوئے، سرفراز رضوی نے کہا کہ کمپنی این ایچ اے کے خلاف قانونی کارروائی کا حق رکھتی ہے، ذرائع نے بتایا کہ ہائی ویز اور موٹر ویز پر یہ پہلے بی او ٹی منصوبے پر این ایچ اے کی ناقص حکمت عملی کے باعث عملدرآمد نہیں ہو پارہا ہے.
ملائیشین کمپنی سے معاہدے کی منسوخی کے بعد این ایچ اے نے دوبارہ تعمیراتی کمپنیوں کو بی اوٹی پر منصوبے کی تعمیر کیلیے طلب کیا تاہم صرف پانچ غیر معروف مقامی کمپنیوں نے دلچسپی کا اظہار کیا ، ذرائع نے بتایا کہ متعلقہ کمپنیوں کا بی اوٹی پروجیکٹ پر کوئی تجربہ نہ ہونے کے باعث این ایچ اے نے درخواست برائے تجاویز کیلیے دستاویزات جمع کرانے کی تاریخ میں تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے یکم اپریل مقرر کردی ہے تاہم معروف مقامی اور بین الاقوامی کمپنیاں اس منصوبے میں دلچسپی نہیں لے رہی ہیں ۔