پاکستان میں شرح پیدائش میں نمایاں کمی ہوئی ہے ماہرین طب
خاندانی منصوبہ بندی کامقصد مائوں اوربچوں کی صحت ہے، سیمینار سے خطاب
پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے شکوک و شبہات موجود ہیں. فوٹو: فائل
پاکستان میں ماں اور بچوں کی شرح اموات میں کمی کیلیے خاندانی منصوبہ بندی بے حد ضروری ہے۔
پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے شکوک وشبہات موجود ہیں تاہم پاکستان میں شرح پیدائش میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے شرح پیدائش6سے کم ہوکر3.6ہو گئی ہے، یہ بات آغا خان یونیورسٹی کے تحت2روزہ سیمینارکے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے مختلف ماہرین نے بتائی۔
سیمینارکاعنوان ''خاندانی منصوبہ بندی اورتولیدی صحت سے آگاہی'' تھا،سیمینارمیں پاکستان ،انڈونیشیا، بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی ماہرین نے بھی شرکت کی،ماہرین نے کہاکہ پاکستان میں بھی زچہ اوربچہ کی شرح اموات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
مختلف ماہرین نے صحت کی عالمی تنظیم کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ2011 میں ہر1000بچوں میں سے65.1بچے ہلاک ہو ئے لیکن 1999میں یہ شرح90تھی، اس کے علاوہ 1999میں ہر 100,000مائوں میں سے450ہلاک ہوئیں جبکہ2011 میں یہ تعدادکم ہوکر 276 رہ گئی،اے کے یوکے ڈپارٹمنٹ آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کی چیئرپرسن ڈاکٹر انیتا زیدی نے کہاپاکستان میں بعض مائیں خوراک کی اس قدرکمی کاشکار ہوتی ہیں کہ وہ اپنے بچے کی خوراک کی ضروریات پوری نہیں کر سکتیں۔
انھوں نے مزید کہا خاندانی منصوبہ بندی محض آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے نہیں بلکہ اس کامقصد مائوں اوربچوںکی صحت ہے، ڈاکٹر انیتا زیدی نے کہا کہ پاکستان کے شہری علاقوں میںکم وزن کے حامل بچوںکی شرح پیدائش 25 سے 30 فیصد ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح تقریباً 40فیصد ہے، ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سارہ سلیم نے کہا کہ1950میں پاکستان کی آبادی تقریباً 37 ملین تھی اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا نمبر 13واں تھاجبکہ 2007میں پاکستان کی آبادی 164ملین ہو گئی اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا چھٹا ملک بن گیا، ڈاکٹر سارہ نے مزیدکہاکہ ملک کی شرح آبادی اس رفتار سے بڑھتی رہی تو 2050 میں پاکستان کی آبادی 292 ملین ہوجائیگی اورہندوستان، چین، امریکا اور انڈونیشیا کے بعد پاکستان پانچویں نمبر پر آجائے گا۔
پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے شکوک وشبہات موجود ہیں تاہم پاکستان میں شرح پیدائش میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے شرح پیدائش6سے کم ہوکر3.6ہو گئی ہے، یہ بات آغا خان یونیورسٹی کے تحت2روزہ سیمینارکے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے مختلف ماہرین نے بتائی۔
سیمینارکاعنوان ''خاندانی منصوبہ بندی اورتولیدی صحت سے آگاہی'' تھا،سیمینارمیں پاکستان ،انڈونیشیا، بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی ماہرین نے بھی شرکت کی،ماہرین نے کہاکہ پاکستان میں بھی زچہ اوربچہ کی شرح اموات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
مختلف ماہرین نے صحت کی عالمی تنظیم کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ2011 میں ہر1000بچوں میں سے65.1بچے ہلاک ہو ئے لیکن 1999میں یہ شرح90تھی، اس کے علاوہ 1999میں ہر 100,000مائوں میں سے450ہلاک ہوئیں جبکہ2011 میں یہ تعدادکم ہوکر 276 رہ گئی،اے کے یوکے ڈپارٹمنٹ آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کی چیئرپرسن ڈاکٹر انیتا زیدی نے کہاپاکستان میں بعض مائیں خوراک کی اس قدرکمی کاشکار ہوتی ہیں کہ وہ اپنے بچے کی خوراک کی ضروریات پوری نہیں کر سکتیں۔
انھوں نے مزید کہا خاندانی منصوبہ بندی محض آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے نہیں بلکہ اس کامقصد مائوں اوربچوںکی صحت ہے، ڈاکٹر انیتا زیدی نے کہا کہ پاکستان کے شہری علاقوں میںکم وزن کے حامل بچوںکی شرح پیدائش 25 سے 30 فیصد ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح تقریباً 40فیصد ہے، ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سارہ سلیم نے کہا کہ1950میں پاکستان کی آبادی تقریباً 37 ملین تھی اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا نمبر 13واں تھاجبکہ 2007میں پاکستان کی آبادی 164ملین ہو گئی اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا چھٹا ملک بن گیا، ڈاکٹر سارہ نے مزیدکہاکہ ملک کی شرح آبادی اس رفتار سے بڑھتی رہی تو 2050 میں پاکستان کی آبادی 292 ملین ہوجائیگی اورہندوستان، چین، امریکا اور انڈونیشیا کے بعد پاکستان پانچویں نمبر پر آجائے گا۔