فہمیدہ مرزا ای سی او پارلیمانی اسمبلی کی پہلی صدر منتخب سیکریٹریٹ اسلام آباد میں ہوگا
رکن ممالک باہمی تجارت بڑھائیں،پارلیمانی اسمبلی کےاجلاس سے ترک،افغان،ایران،تاجک اورپاکستانی اسپیکر وڈپٹی اسپیکرکاخطاب۔
حکومت اپوزیشن کونگراں سیٹ اپ خودقائم کرنا چاہیے، فہمیدہ مرزا اورفیصل کنڈی کی گفتگو،ایکو اسپیکرزسے بھی ملاقاتیں۔ فوٹو: فائل
اسپیکرقومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزاکوای سی اوپارلیمانی اسمبلی کی پہلی صدرمنتخب کر لیا گیا جبکہ افغانستان کے ڈپٹی اسپیکرنعمت اللہ غفاری نائب صدر ہونگے۔
پارلیمانی اسمبلی کامستقل سیکریٹریٹ اسلام آباد میں ہوگا۔ ای سی اوپارلیمانی اسمبلی کاآئندہ اجلاس افغانستان میں منعقد کیا جائیگا۔ منگل کواسلام آباد میں ایکوکی پارلیمانی اسمبلی کے اجلاس میںتمام رکن ممالک نے باہمی تجارت بڑھانے پر زوردیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی اسپیکر علی لاریجانی نے کہاکہ اس فورم کی تجاویز پر عملدرآمد کیلیے مناسب بجٹ مختص کیا جاناچاہیے۔
رکن ممالک باہمی تجارت میں رکاوٹیں دور کریں۔ تاجکستان کے اسپیکر شاکر جان ظہورو نے کہا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ ، کارگو اور بنیادی اشیا کے تعاون میں اضافہ کیا جائے۔ افغان ڈپٹی اسپیکر نعمت اللہ غفاری نے ای سی او کے رکن ممالک سے کہا کہ 2014 میں اتحادی افواج کی افغانستان سے واپسی کے بعد وہ مل کر خطے میں امن اوراستحکام کیلیے سنجیدہ اقدامات کریں۔
قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ای سی اوممالک مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بطور مبصر اپنا کردارادا کریں۔ اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ اس فورم سے سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ ملے گا۔ علاوہ ازیں ترک اور ایرانی اسپیکرز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹرفہمیدہ مرزا نے ایکو ممالک کے مابین قریبی رابطوںاورتعاون کوبڑھانے خاص طور پر ایکو ممالک کی پارلیمانی اسمبلی(پیکو)کے فورم کو مؤثر بنانیکی ضرورت پر زوردیا۔
ایک ٹی وی کے مطابق فہمیدہ مرزا کا کہنا ہے کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں جبکہ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی تحلیل جمہوریت کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش ہوگی۔ ادھر آئی این پی کے مطابق پیکو اجلاس میںتمام رہنمائوںنے اپنی قومی زبانوں میں خطاب جبکہ فہمیدہ مرزا نے انگریزی زبان میں خطاب کیا ۔اجلاس کیلیے ناقص انتظامات کے باعث شرکاکوخطاب سننے میں دشواری کا سامنا رہا۔
پارلیمانی اسمبلی کامستقل سیکریٹریٹ اسلام آباد میں ہوگا۔ ای سی اوپارلیمانی اسمبلی کاآئندہ اجلاس افغانستان میں منعقد کیا جائیگا۔ منگل کواسلام آباد میں ایکوکی پارلیمانی اسمبلی کے اجلاس میںتمام رکن ممالک نے باہمی تجارت بڑھانے پر زوردیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی اسپیکر علی لاریجانی نے کہاکہ اس فورم کی تجاویز پر عملدرآمد کیلیے مناسب بجٹ مختص کیا جاناچاہیے۔
رکن ممالک باہمی تجارت میں رکاوٹیں دور کریں۔ تاجکستان کے اسپیکر شاکر جان ظہورو نے کہا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ ، کارگو اور بنیادی اشیا کے تعاون میں اضافہ کیا جائے۔ افغان ڈپٹی اسپیکر نعمت اللہ غفاری نے ای سی او کے رکن ممالک سے کہا کہ 2014 میں اتحادی افواج کی افغانستان سے واپسی کے بعد وہ مل کر خطے میں امن اوراستحکام کیلیے سنجیدہ اقدامات کریں۔
قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ای سی اوممالک مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بطور مبصر اپنا کردارادا کریں۔ اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ اس فورم سے سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ ملے گا۔ علاوہ ازیں ترک اور ایرانی اسپیکرز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹرفہمیدہ مرزا نے ایکو ممالک کے مابین قریبی رابطوںاورتعاون کوبڑھانے خاص طور پر ایکو ممالک کی پارلیمانی اسمبلی(پیکو)کے فورم کو مؤثر بنانیکی ضرورت پر زوردیا۔
ایک ٹی وی کے مطابق فہمیدہ مرزا کا کہنا ہے کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں جبکہ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی تحلیل جمہوریت کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش ہوگی۔ ادھر آئی این پی کے مطابق پیکو اجلاس میںتمام رہنمائوںنے اپنی قومی زبانوں میں خطاب جبکہ فہمیدہ مرزا نے انگریزی زبان میں خطاب کیا ۔اجلاس کیلیے ناقص انتظامات کے باعث شرکاکوخطاب سننے میں دشواری کا سامنا رہا۔