فوج کیخلاف کوئی کیس نہیں سن سکتے لاہور ہائیکورٹ

کورٹ مارشل کیخلاف فوجی عدالت میں اپیل کیلیے انکوائری رپورٹ ودیگردستاویزات دینے کی درخواست جسٹس رؤف شیخ نے مستردکردی

کورٹ مارشل کیخلاف فوجی عدالت میں اپیل کیلیے انکوائری رپورٹ ودیگردستاویزات دینے کی درخواست جسٹس رؤف شیخ نے مستردکردی فوٹو: فائل

ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس رؤف احمد شیخ نے فوج کے سپاہی کے کورٹ مارشل کیخلاف دائر پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ''آئین کے آرٹیکل199سب سیکشن3 کے تحت عدالت فوج کیخلاف کوئی کیس نہیں سن سکتی'' اور ان ریمارکس کے ساتھ سپاہی ضیاء الحق کی پٹیشن خارج کر دی۔

پٹیشن سائل کے وکیل کرنل (ر)انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے دائرکی تھی جس میں انھوں نے موقف اختیارکیا تھا کہ ملزم کا کورٹ مارشل کیا گیا ہے مگر ملٹری کورٹ آف اپیل میں سزا کیخلاف اپیل دائرکرنے کیلیے انکوائری رپورٹ و دیگر دستاویزات نہیں دی جارہیں، یہ دستاویزات اورانکوائری رپورٹ دینے کاحکم دیاجائے لیکن عدالت نے پٹیشن خارج کر دی۔ وکیل صفائی کا مؤقف تھا کہ اگرکوئی بھی فیصلہ بد نیتی پر مبنی ہوتو اعلیٰ عدالتیں اس میں مداخلت کر سکتی ہیں تاہم عدالت نے اتفاق نہیںکیا۔




جسٹس خواجہ امتیاز احمد نے بریگیڈیئر علی خان کی کورٹ مارشل سزا کیخلاف،اڈیالہ جیل میں سی کلاس میں رکھنے کیخلاف اور ملٹری کورٹ سے انکوائری رپورٹ فراہم کرنے کی پٹیشن کی جلد سماعت کی درخواست منظورکر لی اور ہائیکورٹ آفس کو حکم جاری کیا ہے کہ آئندہ ہفتے کے دوران پٹیشن سماعت کیلیے مقررکی جائے۔کرنل(ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ کا موقف تھا کہ بریگیڈیئر علی خان کی پٹیشن طویل عرصے سے زیر التواء ہے اس میں اہم نوعیت کے قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں اس لیے اس کی فوری سماعت شروع کی جائے۔
Load Next Story