سپریم کورٹ کا فیصلہ مہم جوئی کا راستہ بند

سپریم کورٹ کے حکم سے انتخابات کے التوا اور الیکشن کمیشن کی دوبارہ تنظیم کے حوالے سے اٹھنے والے اندیشے دم توڑ گئے.

عاصمہ جہانگیر کوآئی جی پولیس اسلام آباد اور سیکریٹری داخلہ کے ساتھ سیکیورٹی کے مشاورتی عمل میں شریک ہونے کی بھی ہدایت۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو سے متعلق ڈاکٹر طاہرالقادری کی درخواست خارج کردی، بدھ کوچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے تین دن سماعت کی،عدالتی حکمنامہ میں کہا گیا کہ ڈاکٹر طاہر القادری سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے سامنے حق دعویٰ ثابت نہیں کر سکے، ان کی وفاداری منقسم ہے، حقائق کی روشنی میں ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی، ڈاکٹر طاہرالقادری دہری شہریت کے باعث رکن پارلیمنٹ بننے کے لیے نااہل ہیں، آئین کا آرٹیکل 63ون ان پر پابندی عائد کرتا ہے۔تاہم وہ بطور ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے حکمنامہ سے بلاشبہ انتخابات کے التوا،اور الیکشن کمیشن کی دوبارہ تنظیم وتشکیل کے حوالے سے اٹھنے والے اندیشے دم توڑ گئے اور جو قوتیں در پردہ جمہوری بساط لپیٹنے، مفروضاتی تین سالہ سیٹ اپ لانے اور ایک آزاد و بااختیار الیکشن کمیشن کی کارکردگی کو سوالیہ نشان بنانے والوں کے مذموم عزائم بھی خاک میں مل گئے ، یہ حقیقت ہے کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے لیے ایک دہری شہریت کے حامل شخص کی درخواست تلاطم خیز تھی اور یہ عدالت عظمیٰ کا دو ٹوک حکم ہے کہ آئینی ادارہ پر حملہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ عدلیہ کے بروقت فیصلے سے ایک طرف جمہوری عمل کا تسلسل جاری رہے گا،انتخابات کا انعقاد یقینی بن جائے گا جب کہ مزید کسی قسم کی غیر جمہوری مہم جوئی اور طالع آزمائی کا کوئی امکان اب باقی نہیں رہنا چاہیے ، اس لیے ارباب اختیار اور الیکشن کمیشن کو اپنی پوری توجہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد پر مرکوز کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری سے جسٹس صاحبان کے استفسارات نہ صرف فکر انگیز تھے بلکہ اہل نظر حلقوں،عوام اور سیاسی رہنمائوں کے لیے غور وفکر کے کئی دریچے کھولتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہاآپ شیخ الاسلام ہیں، دنیا بھر میں تبلیغ کرتے ہیں ،آپ 2004 ء میں ملک چھوڑ کر گئے اور دسمبر میں واپس آکر مارچ کیا، پھر دھرنا دیا اور اب ایک آئینی ادارے پر حملہ آور ہو گئے ۔ دیکھنا ہوگاکہ ایک شخص اس ملک کے آئینی اداروں کے خلاف یہ سب کچھ کرنے کا مجاز بھی ہے یا نہیں؟ آئین میں کوئی ابہام نہیں، آرٹیکل پانچ کے تحت ملک سے وفاداری ہر شہری پر لازم ہے لیکن اگر وفاداری کسی اور ملک کے ساتھ ہو تو پھر جائزہ لینا ضروری ہے۔ طاہر القادری نے کہا، وہ اول و آخر پاکستانی ہے اورکینیڈین شہریت سے ان کی پاکستانی شناخت ختم نہیں ہوتی ۔ طاہر القادری کے اس موقف پر کہ ان کا کیس کو وارنٹو کا (quo warranto ) ہے اورکوئی بھی شخص کو وارنٹو میں عدالت کا دائرہ اختیار فعال کر سکتا ہے۔


چیف جسٹس نے کہا اگر یہ دلیل ہے تو پھر کیس نہیں بنتا کیونکہ اس عدالت کے پاس کووارنٹوکا اختیار نہیں، اس کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا،چیف جسٹس کے استفسار پر طاہر القادری الیکشن کمیشن کی تشکیل نوکا درست جواب بھی نہ دے سکے، جس پر انھیں بتایا گیا کہ اس کی تشکیل نو2012ء میں بیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے ہوئی اور ترمیم سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میںکی گئی،اس کے بعدکمیشن نے انتخابی فہرستیں تیارکیں،آیندہ عام انتخابات کو آزاد ،شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے بہت اقدامات کیے، ضمنی الیکشن منعقدکرائے،کسی سیاسی جماعت ، سیاستدان کوکمیشن پر اعتراض بھی نہیں،جب پل کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تو آپ کو اچانک کیسے اعتراض لاحق ہوگیا۔آئین کا آرٹیکل 5 پاکستان سے وفاداری کا کہتا ہے ۔

تین رکنی بنچ نے کہا کہ ملک میں انتخابات کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ جمہوریت کو مزید مستحکم کریں، ملک کا الیکشن کمیشن کافی غور و غوض کے بعد تشکیل پایا ہے اور اس کو عدالت خراب نہیں کرے گی۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ آپ سیاسی دبائو بڑھانے کے لیے آئے ہیں ،ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ لگتا ہے آپ کسی سیاسی ایجنڈے پر پاکستان آئے ہیں، آپ کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیںگے۔ واضح رہے منگل کو تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے سپریم کورٹ میں اپنی درخواست کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ جو فیصلہ دے گی وہ اسے قبول کریں گے مگر بدھ کو سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ڈاکٹرصاحب نے یوٹرن لیتے ہوئے عدلیہ کے خلاف جو جارحانہ لب ولہجہ اختیار کیا اسے ماہرین قانون نے انتہائی حیران کن قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر قادری نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر جو جذباتی تبصرہ کیا ہے، اس پر آئینی ماہرین ہی درست رائے زنی کرسکتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ جن آئینی ماہرین کا یہ کہنا تھا کہ کوئی کتنا ہی بڑا خطیب ہو، عوامی جلسوں میں فصاحت و بلاغت کے کتنے ہی دریا کیوں نہ بہاتا رہا ہو، اسے سپریم کورٹ کی بنچ کے سامنے خود پیش ہوکر اپنا کیس نہیں لڑنا چاہیے تھا۔ عدالتی حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ طاہرالقادری نے جو زبان استعمال کی ہے، اس پر توہین عدالت ہوسکتی ہے تاہم توہین عدالت کے بجائے عدالت تحمل کا مظاہرہ کررہی ہے۔

عدالتی حکمنامہ سے بے یقینی اور ووٹرز میں پائی جانے والی بے یقینی کی دھند چھٹی ہے مگر طالع آزمائوں اور جمہوریت کی راہ میں بارودی سرنگیں بچھانے والوں سے اب بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ عدالتی محاذ پر ایک بڑا خطرہ خوش اسلوبی سے ٹل گیا مگر جمہوری عمل کو رواں دواں رکھنے کے لیے حکمرانوں اور اپوزیشن جماعتوں کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا، قوم اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا عزم رکھتی ہے، ملکی قیادت کو بھی جمہوریت کے راستے کی ہر رکاوٹ اور گند کو صاف کرنا چاہیے ۔یہ وقت رواداری،افہام وتفہیم،مصالحت اور مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھنے کا ہے۔ سپریم کورٹ کے انداز نظر کی روشنی میں سیاسی اکابرین کو ان عناصر پر بھی اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو مملکت خداداد کے لیے سیکیورٹی رسک اور جمہوریت کے لیے تارپیڈو کا تباہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں ۔
Load Next Story