قیوم آباد دھماکے کا مقصد خوف پھیلانا اور گیس تنصیبات تباہ کرنا تھا

بم پہلے سے پلانٹ کیا گیا تھا، دھماکا نیپا چورنگی اور دیگر مقامات پر ہونیوالے واقعات کی ہی کڑی ہے، اعلیٰ پولیس افسر

قیوم آباد چورنگی بم دھماکا شہر میں گذشتہ دنوں نیپا چورنگی اور دیگر مقامات پر ہونے والے واقعات کے سلسلے کی ہی کڑی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

PESHAWAR:
قیوم آباد چورنگی سوئی سدرن کمپنی کی تنصیبات کے قریب بم دھماکے کے صرف دو مقاصد تھے ایک شہر میں خوف و ہراس پھیلانا تھا دوسرا سوئی سدرن کی تنصیبات کو تباہ کرنا تھا۔

قیوم آباد چورنگی بم دھماکا شہر میں گذشتہ دنوں نیپا چورنگی اور دیگر مقامات پر ہونے والے واقعات کے سلسلے کی ہی کڑی ہے، یہ بات سندھ پولیس کے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہی، انھوں نے مزید بتایا کہ گذشتہ دنوں11فروری کو قیوم آباد چورنگی کے قریب سوئی گیس کنٹرول سسٹم کے ساتھ کیے جانے والے دھماکے کی تفتیش کے دوران اس بات کے واضح ثبوت ملے ہیں کہ واقعہ تخریب کاری تھی اور بم پہلے سے پلانٹ کیا گیا تھا جس کا وزن تقریباً 200 گرام تھا اورIED ڈیوائز اور ڈیٹونیٹر نصب کیے گئے تھے ، انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں ڈیٹو نیٹنگ کوڈ بھی استعمال کی گئی تھی۔




جس کا مقصد دھماکے کی طاقت کو بڑھنا تھا اور یہ ہی وجہ تھی کہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنا گئی ، انھوں نے بتایا کہ اب تک کی جانے والی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بم دھماکے کے دو مقصد تھے ایک شہر میں خوف و ہراس پھیلانا دوسرا سوئی سدرن کمپنی کی تنصیبات کا تباہ کرنا تھا اور سوئی سدرن کمپنی کی تنصیبات کو تباہ کرنے کا چانس اس لیے کم ہے کہ دہشت گردوں نے بم میں بال بیرنگ اور نٹ بولٹ استعمال نہیں کیے، انھوں نے بتایا کہ پولیس کی کوشش تھی جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج مل جائے تاہم پولیس کواس میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

انھوں نے بتایاکہ جس مقام پر سوئی سدرن کمپنی کی تنصیبات نصب ہیں وہاں ایک چوکیدار بھی تعینات تھا اور اسے بھی حراست میں لیکر تفتیش کی گئی لیکن کوئی بات سامنے نہیں آیا ، انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا تھا جو عین اس وقت جائے وقوعہ کے سامنے سے گزر رہا تھا، انھوں نے بتایا کہ قیوم آباد چورنگی بم دھماکا شہر میں گذشتہ دنوں نیپا چورنگی اور دیگر مقامات پر ہونے والے واقعات کے سلسلے کی ہی کڑی ہے ، انھوں نے بتایا کہ پولیس واقعے کی تفتیش کر رہی ہے اور تمام پہلوئوں کا جائزہ لے رہی ہے جلد حقائق سامنے لائے جائینگے۔
Load Next Story