پوپ کے استعفے کے بعد مسلم عیسائی تعلقات میں بہتری کی امید ہے مفتی اعظم مصر
پوپ بینیڈکٹ کے مستعفی ہوجانے کے بعد امید ہے مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان تعلقات زیادہ خوشگوار ہوں گے۔ مفتی اعظم مصر
پوپ بینیڈکٹ کے مستعفی ہوجانے کے بعد امید ہے مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان تعلقات زیادہ خوشگوار ہوں گے۔ مفتی اعظم مصر فوٹو : اے ایف پی
مصر سے تعلق رکھنے بڑے علمائے کرام و جامعہ الازہر کیمفتی اعظم چاہتے ہیں کہ کیتھولک عیسائیوں کی سب سے بڑی مذہبی شخصیت بننے والے نئے پوپ سے مسلمانوں کے تعلقات بہتر ہوں۔
پوپ بینیڈکٹ XVI کے اچانک مستعفی ہوجانے کے بعد مختلف حلقوں کو امید ہے کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان تعلقات پہلے کے مقابلے میں زیادہ خوشگوار ہوں گے۔ ان تعلقات کو2006 میں اس وقت شدید دھچکا لگا تھا جب پوپ کی جانب سے آخری نبی حضرت محمدؐ کی شان میں ایک گستاخانہ بیان نے مسلمانوں میں شدید اشتعال پیدا کردیا تھا۔
مسلم رہنمائوں کا کہنا ہے کہ ویٹیکن کے چرچ اور جامعہ الازہر کے بہتر تعلقات کا دارومدار نئے پوپ کی اسلامی دنیا کے بارے میں سوچ، فکر اور عمل پر ہے۔جامعہ الازہر کے ایک سینیئر رہنما کا کہنا ہے کہ2006 کے بعد سے ہمارے پوپ سے تعلقات بہت خوشگوار نہیں۔ اب نئے پوپ کے انتخاب کے بعد ہم دوبارہ مذاکرات شروع کریں گے اور ہمیں امید ہے کہ حالات پہلے سے بہتر ہوں گے۔
پوپ بینیڈکٹ XVI کے اچانک مستعفی ہوجانے کے بعد مختلف حلقوں کو امید ہے کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان تعلقات پہلے کے مقابلے میں زیادہ خوشگوار ہوں گے۔ ان تعلقات کو2006 میں اس وقت شدید دھچکا لگا تھا جب پوپ کی جانب سے آخری نبی حضرت محمدؐ کی شان میں ایک گستاخانہ بیان نے مسلمانوں میں شدید اشتعال پیدا کردیا تھا۔
مسلم رہنمائوں کا کہنا ہے کہ ویٹیکن کے چرچ اور جامعہ الازہر کے بہتر تعلقات کا دارومدار نئے پوپ کی اسلامی دنیا کے بارے میں سوچ، فکر اور عمل پر ہے۔جامعہ الازہر کے ایک سینیئر رہنما کا کہنا ہے کہ2006 کے بعد سے ہمارے پوپ سے تعلقات بہت خوشگوار نہیں۔ اب نئے پوپ کے انتخاب کے بعد ہم دوبارہ مذاکرات شروع کریں گے اور ہمیں امید ہے کہ حالات پہلے سے بہتر ہوں گے۔