نگراں وزیراعظم کا ہما کس کے سر عوام میں تجسس بڑھ گیا
وسیع سیاسی پس منظراور غیر جانبدار شخصیت معراج محمد خان کا نام بھی سامنے آگیا
عاصمہ جہانگیر، اچکزئی، جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد کے ناموں پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ فوٹو : فائل
نگراں حکومت کے قیام میں کم وبیش ایک ماہ رہ گیا ہے اوراس حوالے سے عوام کے تجسس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے کہ نگراں حکومت کے وزیراعظم کا ہما کس کے سر پر بیٹھے گا؟ تاہم اب بزرگ سیاست داں معراج محمد خان کا نام بھی سامنے اگیا ہے۔
سیاسی اور تجزیاتی حلقوں کا کہنا ہے کہ نگراں وزیراعظم کے لیے متعدد ناموں پر غور ہورہا ہے جن میں معروف قانون داں عاصمہ جہانگیر،پختون قوم پرست رہنما محمود خان اچکزئیجسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد اور ملک کے معروف اور بزرگ سیاستدان معراج محمد خان سمیت دیگر شامل ہیں۔ زیرغور ناموں میں سب سے زیادہ غیرجانبدارانہ نام معراج محمد خان ہے جو کہ ایک وسیع سیاسی پس منظر رکھنے کے باوجود تاحال اپنے سیاسی کردار کو قطعی طور پر غیر جانبدار رکھنے میں نہ صرف کامیاب رہے ہیں بلکہ تمام مکتبہ فکر اور ہر شعبہ زندگی میں ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔
ان کے وزیراعظم بننے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی بڑھتی ہوئی عمر ہے۔ اس حوالے سے ایک رائے یہ بھی ہے کہ جب 82سالہ جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم عرف ''فخرو بھائی'' صرف اپنی غیر جانبداری کی بنیاد پر چیف الیکشن کمشنر جیسے اہم عہدے پر فائز ہوکر عام انتخابات جیسا مشکل ترین مرحلہ اپنی نگرانی میں کرانے کی ذمے داری کا بوجھ اٹھاسکتے ہیں تو پھر2 ماہ کی مختصر مدت کے وزیراعظم کے لیے معراج محمدخان کی تعنیاتی کیوں نہیں کی جاسکتی؟۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس حوالے سے کوئی فیصلہ کریں تاکہ عوام میں بے چینی اور اضطراب دور ہوسکے ۔
سیاسی اور تجزیاتی حلقوں کا کہنا ہے کہ نگراں وزیراعظم کے لیے متعدد ناموں پر غور ہورہا ہے جن میں معروف قانون داں عاصمہ جہانگیر،پختون قوم پرست رہنما محمود خان اچکزئیجسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد اور ملک کے معروف اور بزرگ سیاستدان معراج محمد خان سمیت دیگر شامل ہیں۔ زیرغور ناموں میں سب سے زیادہ غیرجانبدارانہ نام معراج محمد خان ہے جو کہ ایک وسیع سیاسی پس منظر رکھنے کے باوجود تاحال اپنے سیاسی کردار کو قطعی طور پر غیر جانبدار رکھنے میں نہ صرف کامیاب رہے ہیں بلکہ تمام مکتبہ فکر اور ہر شعبہ زندگی میں ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔
ان کے وزیراعظم بننے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی بڑھتی ہوئی عمر ہے۔ اس حوالے سے ایک رائے یہ بھی ہے کہ جب 82سالہ جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم عرف ''فخرو بھائی'' صرف اپنی غیر جانبداری کی بنیاد پر چیف الیکشن کمشنر جیسے اہم عہدے پر فائز ہوکر عام انتخابات جیسا مشکل ترین مرحلہ اپنی نگرانی میں کرانے کی ذمے داری کا بوجھ اٹھاسکتے ہیں تو پھر2 ماہ کی مختصر مدت کے وزیراعظم کے لیے معراج محمدخان کی تعنیاتی کیوں نہیں کی جاسکتی؟۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس حوالے سے کوئی فیصلہ کریں تاکہ عوام میں بے چینی اور اضطراب دور ہوسکے ۔