الیکشن کمیشن کا اجلاس امیدواروں کیلئے ٹیکس نمبر دینا لازمی قرار
اسٹیٹ بینک اور ایف بی آرکی یقین دہانی ،موجودہ ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کی جانچ پڑتال ہوگی
اسٹیٹ بینک اور ایف بی آرکی یقین دہانی ،موجودہ ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کی جانچ پڑتال ہوگی فوٹو: فائل
الیکشن کمیشن نے ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں اور واجبات کی ایف بی آر سے جانچ پڑتال کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
آئندہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کیلیے اپنا قومی ٹیکس نمبر (این ٹی این ) دینا لازم ہوگا، امیدواروں کے اثاثوں کی جانچ پڑتال بھی ایف بی آر سے کرائی جائے گی۔ الیکشن کمیشن نے اسلحہ لائسنس پر بھی پابندی عائد کردی۔ اسٹیٹ بینک نے بھی الیکشن کمیشن کو بینک نادہندگان سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔ ادھر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی نشانات کی فہرست میں گدھے کا نشان شامل کرنے سے انکار کر دیا۔
ٹیکس اور بینک نادہندگان کو انتخابات میں حصہ لینے سے کیسے روکاجائے؟، اس پر حکمت عملی طے کرنے کیلیے الیکشن کمیشن، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے نمائندے اسلام آباد میں سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق بدھ کو الیکشن کمیشن میں ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے نمائندوں کا اجلاس ہوا جس میں ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے اْمیدواروں کی معلومات الیکشن کمیشن کوفراہم کرنے کافیصلہ کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے بابر اعوان سے دہری شہریت والے ارکان کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر امیدوار سے کاغذات نامزدگی کے ساتھ اس کا قومی ٹیکس نمبر لیا جائے گا جس کی تصدیق ایف بی آر کرے گا۔ اب امیدواروں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اثاثوں کی تفصیلات کی جانچ پڑتال بھی ہوگی اور یہ کا م ایف بی آر10 روز میں مکمل کرے گا۔ ایف بی آر ٹیکس نادہندگان اور اسٹیٹ بینک قرضے معاف کرانے والوں سے متعلق تفصیلات الیکشن کمیشن کو فراہم کریں گے۔ کاغذات نامزدگی میں ضروری ترامیم بھی کی جائیں گی جس کیلیے ایف بی آر سے بھی تجاویز مانگ لی گئی ہیں۔
ان تمام امور کو حتمی شکل دینے کیلیے الیکشن کمیشن کا چیئرمین ایف بی آر اور گورنر اسٹیٹ بینک کے ساتھ اجلاس ہوگا۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق بابر اعوان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ انکے پاس دہری شہریت والے ارکان کے بارے میں معلومات ہیں، جس پر ان سے تفصیلات طلب کر لی گئیں۔
آئندہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کیلیے اپنا قومی ٹیکس نمبر (این ٹی این ) دینا لازم ہوگا، امیدواروں کے اثاثوں کی جانچ پڑتال بھی ایف بی آر سے کرائی جائے گی۔ الیکشن کمیشن نے اسلحہ لائسنس پر بھی پابندی عائد کردی۔ اسٹیٹ بینک نے بھی الیکشن کمیشن کو بینک نادہندگان سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔ ادھر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی نشانات کی فہرست میں گدھے کا نشان شامل کرنے سے انکار کر دیا۔
ٹیکس اور بینک نادہندگان کو انتخابات میں حصہ لینے سے کیسے روکاجائے؟، اس پر حکمت عملی طے کرنے کیلیے الیکشن کمیشن، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے نمائندے اسلام آباد میں سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق بدھ کو الیکشن کمیشن میں ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے نمائندوں کا اجلاس ہوا جس میں ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے اْمیدواروں کی معلومات الیکشن کمیشن کوفراہم کرنے کافیصلہ کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے بابر اعوان سے دہری شہریت والے ارکان کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر امیدوار سے کاغذات نامزدگی کے ساتھ اس کا قومی ٹیکس نمبر لیا جائے گا جس کی تصدیق ایف بی آر کرے گا۔ اب امیدواروں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اثاثوں کی تفصیلات کی جانچ پڑتال بھی ہوگی اور یہ کا م ایف بی آر10 روز میں مکمل کرے گا۔ ایف بی آر ٹیکس نادہندگان اور اسٹیٹ بینک قرضے معاف کرانے والوں سے متعلق تفصیلات الیکشن کمیشن کو فراہم کریں گے۔ کاغذات نامزدگی میں ضروری ترامیم بھی کی جائیں گی جس کیلیے ایف بی آر سے بھی تجاویز مانگ لی گئی ہیں۔
ان تمام امور کو حتمی شکل دینے کیلیے الیکشن کمیشن کا چیئرمین ایف بی آر اور گورنر اسٹیٹ بینک کے ساتھ اجلاس ہوگا۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق بابر اعوان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ انکے پاس دہری شہریت والے ارکان کے بارے میں معلومات ہیں، جس پر ان سے تفصیلات طلب کر لی گئیں۔