یہ حکمراں ہمارے

ہمارے جو حکمران اپنی مدت مکمل نہیں کرسکے تو ان وجوہات پر غورکرنا چاہیے کہ انھیں کیوں برطرف کیا گیا تھا؟

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بادشاہت ختم ہوگئی، مگر ہمارے ملک میں اب تک بادشاہت چل رہی ہے اور حکمران بادشاہوں کی طرح فیصلے اور من مانیاں کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں یہ ریمارکس ایک اعلیٰ افسر کے کیس کی سماعت کے دوران دیے گئے جس میں کہا گیا ہے کہ انھیں سابق وزیراعظم گیلانی نے زبانی احکام دے کر او ایس ڈی بنا دیا تھا۔ اس موقعے پر مذکورہ افسر نے بتایا کہ وہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے سیکریٹری تھے، جہاں ایک روزصدر زرداری نے دیکھ لیا اور اسی شام انھیں ہٹاکر او ایس ڈی بنادیا گیا تھا۔

یہ مقدمہ سپریم کورٹ نے ملتوی کردیا ہے اور سپریم کورٹ نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان میں اب بادشاہت نہیں ہے اور وزیر اعظم بادشاہ نہیں کہ جسے چاہے جہاں چاہے لگادے اور من مانی کرے، یہ ایک کیس ہے جس کی بازگشت سپریم کورٹ میں سنی گئی وگرنہ ایسے ہزاروں کیس ہیں جن میں صدر مملکت اور وزیر اعظم نے شاہانہ فرمان اور زبانی احکامات دے کر متاثرہ افسران کو کھڈے لائن لگوا رکھا ہے، کیونکہ یہ افسران حکومتی پارٹیوں کی ہاں میں ہاں نہیں ملا سکتے تھے اور اسی لیے حکمرانوں کے کام کے نہیں تھے، پاکستان میں عام انتخابات میں کامیاب ہونے والوں کی مدت 5 سال مکمل ہے جو اب تیسری بار تکمیل کی طرف گامزن ہے اور یہ پہلی قومی اسمبلی نہیں کہ جس کے مدت مکمل کرلینے کا ڈھول پیٹا جارہا ہے، حقیقت میں ماضی میں بھٹو دور کی قومی اسمبلی اور جنرل پرویز دور کی قومی اسمبلی نے بھی اپنی 5 سالہ مدت مکمل کی تھی۔

سابق وزرائے اعظم کے من مانے فیصلوں اور ملکی مفاد کو ذاتی اور سیاسی مفاد کے لیے نظرانداز کیے جانے کے باعث اس وقت کے صدور نے انھیں قبل ازوقت اسمبلیاں توڑ کر گھر بھیج دیا تھا اور سپریم کورٹ نے ان صدور کے فیصلوں کو جائز اور غلط بھی قرار دیا تھا اور ایک بار نواز شریف کی حکومت بحال بھی کی گئی تھی مگر بعد میں انھیں چلنے نہیں دیا گیا تھا۔

پنجاب کے ایک سابق وزیر اعلیٰ منظور وٹو جو سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے وزیر اعلیٰ بنے تھے، انھوں نے ہائی کورٹ کی طرف سے پنجاب اسمبلی کو بحال کردیے جانے کے بعد دوبارہ توڑ دیا تھا۔


ہمارے جو حکمران اپنی مدت مکمل نہیں کرسکے تو ان وجوہات پر غورکرنا چاہیے کہ انھیں کیوں برطرف کیا گیا تھا؟ ان کی برطرفی کی وجہ کافی حد تک درست تھی، کیونکہ انھوں نے اپنی من مانیوں سے اپنی برطرفی کے حالات خود پیدا کیے تھے مگر ان کی من مانیوں کی سزا ان کے دور کی اسمبلیوں کو بھی ملی تھی کیونکہ ان اسمبلیوں میں حکمراں پارٹی کے ارکان نے اکثریت کے باعث اپنے وزیر اعظم کو کبھی من مانیوں سے نہیں روکا اور کبھی وزیر اعظم کی گرفت نہیں کی بلکہ وزیر اعظم کے ہر غلط فیصلے کی تائید کی اور حکمرانوں کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے ربڑ اسٹیمپ بنی رہیں۔

پاکستان میں اب تک جن 3 قومی اسمبلیوں نے اپنی مدت پوری کی ان میں اسمبلیوں کی کارکردگی کا کوئی دخل نہیں تھا بلکہ اصل وجہ اس وقت کے بے اختیار یا بااختیار صدر تھے۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے خود اپنی مرضی سے اپنی قومی اسمبلی توڑ کر انتخابات کرائے تھے اور اس وقت کے بے اختیار صدر چوہدری فضل الٰہی کے لیے کہا جاتا تھا کہ وہ ایوان صدر تک محدود تھے۔ صدر جنرل پرویز مشرف اور صدر آصف علی زرداری اپنی اپنی قومی اسمبلیوں کے حقیقی باس اور مکمل محافظ رہے کیونکہ وہ اور موجودہ اسمبلی اپنے اپنے صدر کی مکمل وفادار تھیں۔ سابق صدر جنرل مشرف کے کسی اقدام کی ان کی قومی اسمبلی نے کبھی مخالفت نہیں کی بلکہ ایک جنرل کو غیر قانونی طور پر وردی میں صدر منتخب کیا تو ایسی وفادار قومی اسمبلی کو پرویز مشرف بااختیار ہوکر بھلا کیونکر برطرف کرسکتے تھے؟

موجودہ قومی اسمبلی اپنی مدت اس لیے پوری کر رہی ہے کہ صدر زرداری کے تمام اتحادی ان کی ہاں میں ہاں ملا کر صدر زرداری سے مکمل وفاداری نبھاتے آرہے ہیں، کیونکہ صدر زرداری نے بھی انھیں کبھی ناراض نہیں ہونے دیا۔ موجودہ قومی اسمبلی نے صدر زرداری کے باعث یوسف رضاگیلانی کو بادشاہ بننے سے نہیں روکا۔ صدر زرداری نے گیلانی کے بعد ایک متنازعہ شخص کو سپریم کورٹ کو نیچا دکھانے کے لیے وزیر اعظم بنایا اور حکومتی اتحادیوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا تو ایسی بے ضرر قومی اسمبلی اپنی مدت کیوں پوری نہیں کرے گی؟ صدر زرداری بااختیار نہ ہونے کے باوجود بااختیار ہیں کیونکہ ان کی قومی اسمبلی نے دو بار صدر کے مقرر کردہ شخص کو وزیر اعظم منتخب کیا اور دونوں وزیر اعظم صدر کے انتہائی وفادار ثابت ہوئے، وزیر اعظم گیلانی نے صدر کی رضا سے اعلیٰ افسر کو کھڈے لائن لگاکر بادشاہ بن کر دکھایا۔

حکمرانوں کا انتخاب 5 سال کے لیے ہوا، مگر انھوں نے خود کو تاحیات حکمران سمجھ کر من مانیاں کیں اور اپنے ذاتی گھروں کو سرکاری فنڈ سے ایسے تعمیر کرایا جیسے وہ کبھی اقتدار سے باہر نہیں آئیں گے، صدر زرداری نے کراچی میں زرداری ہاؤس کے سامنے سڑک پر دیوار کھڑی کرواکے شاید تاحیات صدر رہنے کا منصوبہ بنارکھا ہے، اس معاملے میں موجودہ حکمران بھی کم ہیں نہ ماضی میں شریف اور چوہدری برادران کم رہے، سب نے ملک پر بادشاہت کی طرح من مانیاں کیں اور ناپسندیدہ افسروں کو کھڈے لائن لگا کر رکھا۔ سرکاری وسائل ذاتی اور سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرائے اور عوام کو محروم رکھا۔
Load Next Story