اے این پی کی اے پی سی انتخابی مہم کا حصہ ہے فرید پراچہ

مذاق کے سوا کچھ نہیں،حمیداللہ آفریدی،انہیں انتخابی مہم میں دقت ہورہی ہے،فوزیہ قصوری

اے پی سی کے ذریعے ووٹ نہیں لینا چاہتے، پرویز خان ’’کل تک‘‘میں کامران خان کی بھی گفتگو

ISLAMABAD:
جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ نے کہا ہے کہ اے این پی نے طالبان سے مذاکرات کے بارے میں جو اے پی سی بلائی ہے یہ انکی انتخابی مہم کا حصہ ہے۔

خیبر پختونخوا اور فاٹا کے عوام نے ان کیخلاف جو چارج شیٹ جاری کر رکھی ہے یہ اس کا جواب ہے۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''کل تک'' کے میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سے قبل دہشتگردی کے بارے میں قومی اسمبلی کی 2مرتبہ متفقہ قراردادیں منظور کی گئیں،اس پر حکومت نے اے پی سی بھی بلوائی اس سب میں ہم شریک تھے مگر ان کا کوئی بھی نتیجہ نہیں نکلا۔ تحریک انصاف کی رہنما فوزیہ قصوری نے کہا کہ اے این پی کی اے پی سی ڈرامہ ہے،یہ خود بھی خوفزدہ ہیں۔ ان کو انتخابی مہم چلانے میں دقت ہو رہی ہے۔




یہ طالبان سے کہنا چاہتے ہیں کہ اب نہ مارو۔ انھوں نے صرف طالبان کو خوش کرنے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلیے اے پی سی بلوائی تاہم اے پی سی بلانے کے باوجود ان کو ووٹ نہیں ملیں گے۔ فاٹا سے رکن قومی اسمبلی حمید اللہ جان آفریدی نے کہا کہ اے این پی نے اپنے نمائندوں کی جان بچانے کیلیے اے پی سی بلائی ہے۔ اے پی سی مذاق کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ فاٹا سے ایک اور رکن قومی اسمبلی محمد کامران خان نے کہا کہ اے این پی کی اے پی سی کیلیے کسی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا۔ منیر اورکزئی گروپ کو شرکت کی دعوت ملی جبکہ حمیداللہ جان آفریدی گروپ کو نہیں بلایا گیا۔

ہم یہ کہتے آئے ہیں کہ جنگ نہیں مذاکرات دہشتگردی ختم کرنے کا حل ہیں۔ انھوں نے 5 سال گزار دیے اب جبکہ انکی حکومت کا ایک ماہ رہ گیا ہے ان کو مذاکرات یاد آ گئے ہیں۔اے این پی کے رہنما پرویز خان نے کہا کہ ہم اے پی سی کے ذریعے ووٹ نہیں لینا چاہتے ہیں۔ ہم نے ایک روڈ میپ دیا ہے۔ہم نے اپنا فرض ادا کیا۔اگرچہ دیر سے ہی سہی کچھ کیا تو ہے ہم نے 99 فیصد سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھا کر مذاکرات پر اتفاق تو کرایا۔ دریں اثنا اس سوال پر کہ کیا حکومت کو طالبان سے مذاکرات کرنے چاہئیں 94 فیصد ناظرین نے مذاکرات کرنے کے حق میں اور صرف چار فیصد نے مذاکرات نہ کرنیکی رائے دی۔
Load Next Story