بلوچستان کے لیے حکومت کی چھ تجاویز

عالمی سازشوں کو ناکام بنانے اور پاکستان کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کیا کر رہی ہے

بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں۔ فوٹو اے ایف پی

لاہور:
سینیٹ میں جمعرات کو بلوچستان کے مسئلے پر تفصیل کے ساتھ غور و خوض کیا گیا۔ حکومت و اپوزیشن کے کئی ارکان نے اس موضوع پر اظہار خیال کیا۔ پیپلز پارٹی کے فرحت اﷲ بابر کا یہ کہنا درست ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ پیکیجز اور کمیٹیوں سے حل نہیں ہوا لہٰذا اب مناسب ہو گا کہ اس مسئلے کے حل کے دیگر آپشنز کو زیر غور لایا جائے تاہم متبادل آپشنز پر غور سے پہلے یہ جائزہ بھی لے لیا جانا چاہیے کہ آیا حکومت کی جانب سے جن پیکیجز کا اعلان ہوا ان کو پورا کیا گیا اور جو کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ان کی سفارشات پر عمل درآمد کیا گیا؟۔ اس کا جواب نفی میں ملے گا۔۔

جو اس امر کا ثبوت ہے کہ اس مسئلے کے حل کی کوششیں اتنی شدت اور تیزی سے نہیں کی گئیں جتنی توجہ کے ساتھ کی جانی چاہیے تھیں۔ چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر اعلان کردہ پیکیجز پورے فراہم کردیے جاتے اور قائم کی گئی کمیٹیوں کی سفارشات پر عمل کیا جاتا تو ہمارے اس صوبے کے حالات موجودہ صورتحال سے مختلف ہو سکتے تھے۔ فرحت اﷲ بابر کا یہ کہنا بھی غلط نہیں ہے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 18ماہ میں لاپتہ افراد کے 634 نئے کیس سامنے آئے۔

جن میں سے اکثریت بلوچستان کی ہے۔ ان کا یہ کہنا اپنے اندر بڑی معنویت اور معقولیت لیے ہوئے ہے کہ ہم مشرقی پاکستان کے الگ ہونے سے دو روز قبل تک بھی حقیقی صورتحال کا اعتراف نہیں کر رہے تھے جس کی ہمیں بڑی قیمت چکانا پڑی۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہوا کہ اب بھی جب کہ بلوچستان میں حالات نہایت دگرگوں ہیں ان کو بہتر اور اطمینان بخش بنانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں ہو رہا ہے جب کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کی سنگینی کا ادراک کیا جائے اور زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اقدامات عمل میں لائے جائیں۔ ان کا یہ کہنا بھی صائب ہے کہ لاپتہ افراد سے متعلق پہلے کمیشن کی رپورٹ کو نہ صرف شایع کیا جائے بلکہ اس کی سفارشات پر عملدرآمد بھی کیا جائے۔

ہمارے خیال میں ان کی اس تجویز پر عمل کرنے سے نہ صرف بہت سے حقائق سے پردہ اٹھے گا بلکہ اس سے بلوچستان کے داخلی حالات کو اطمینان بخش بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ بعض عوامی حلقوں کا یہ کہنا درست محسوس ہوتا ہے کہ جب کسی ایشو پر قائم کیے گئے کمیشن یا کمیٹی کی سفارشات تسلیم کر کے ان پر عمل نہیں کرنا تو پھر ایسی کمیٹیوں کے قیام کا کیا مقصد مطلب باقی رہ جاتا ہے؟۔ فرحت اﷲ بابر نے مسئلہ بلوچستان کے حل کے لیے جو 6 تجاویز پیش کی ہیں ان کے قابل عمل ہونے کا جائزہ لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔


سیکیورٹی اداروں کو پولیس کا قانونی اختیار دے کر نگرانی بھی کی جائے تو اس سے اختیارات کے ناجائز اور غیر قانونی کو روکا جا سکے گا اور ممکن ہے اس طرح لوگوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ بھی رُک جائے، ان کی یہ تجویز بھی مناسب لگتی ہے کہ لوگ اٹھانے سے متعلق ایجنسیوں کے اختیار کو روکا جانا چاہیے، اسی طرح انسداد دہشت گردی ترمیمی قانون کی جلد منظور سے بھی کچھ مدد مل سکتی ہے تاہم ضروری ہے کہ اس ترمیمی قانون کے بارے میں مختلف حلقوں میں جو خدشات پائے جا رہے ہیں کہ اس کا غلط استعمال ہو سکتا ہے تو ان خدشات کو دور کرنا بھی حکومت کی ذمے داری ہے۔

بلوچ سرداروں کے علاوہ بلوچ نوجوانوں سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرنا بھی اس مسئلے کے حل کی کوئی صورت پیدا کر سکتا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی قرار دیا ہے کہ بلوچستان میں امن عامہ کا مسئلہ گمبھیر ہے، پاکستان کے خلاف منظم غیرملکی جارحیت ہو رہی ہے، بی ایل اے کلنگ مشین ہے، اس کی تمام کارروائیاں افغانستان سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ اگر ان کی یہ ساری باتیں درست ہیں تو ان سے یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ وفاقی حکومت ملکی سالمیت اور بقاء کو لاحق ان خطرات و خدشات کو فرو کرنے کے لیے کیا کر رہی ہے ۔ حکومتی عہدے داروں کی جانب سے اکثر یہ انکشاف کیا جاتا ہے کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں۔

لیکن یہ نہیں بتایا جاتا ان عالمی سازشوں کو ناکام بنانے اور پاکستان کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کیا کر رہی ہے۔ اگرچہ یہ بات بڑی خوش آیند ہے کہ ملک کے ایک اعلیٰ ایوان میں پاکستان کے ایک اہم مسئلے پر بحث ہوئی ہے جس سے اس کے حل کی کوئی صورت سامنے آ سکتی ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے صرف باتیں اور تقاریر ہی نہ کی جائیں بلکہ جو بھی طریقہ اختیار کرنا پڑے وہاں معاملات کو درست نہج پر لایا جائے۔ اس سلسلے میں کثیرالجہتی پالیسیاں اور اقدامات عمل میں لائے جائیں تو خاطر خواہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ضروری ہے کہ نہ صرف بلوچستان کے عوام کے ساتھ ماضی میں روا رکھے جانے والے سلوک کے ازالے کے لیے کام کیا جائے یعنی بلوچوں کو ان کے معدنی وسائل کی آمدنیوں میں سے مناسب حصہ دیا جائے' بلوچ رہنمائوں کے ساتھ مکالمہ کا سلسلہ شروع کیا جائے' وہاں امن قائم کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں اور غیرملکی سازشوں کا توڑ بھی نکالا جائے۔ حکومت پر یہ حقیقت واضح رہنا چاہیے کہ اس سلسلے میں پہلے ہی کافی تاخیر ہو چکی ہے لہٰذا مزید تاخیر کی گنجائش باقی نہیں ہے۔ سینیٹ میں اس صوبے پر بحث کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ کسی قابل عمل حل کی تلاش تک جاری رہنا چاہیے۔
Load Next Story