سندھ میں 173نئی عدالتوں کے قیام پر حکومت کا غور

مقدمات فوری نمٹانے کیلیے ہائیکورٹ کی جانب سے سفارشات موصول ہوئیں

مقدمات فوری نمٹانے کیلیے ہائیکورٹ کی جانب سے سفارشات موصول ہوئیں فوٹو: فائل

حکومت سندھ صوبہ سندھ میں آبادی کی شرح میں اضافے کے تناسب سے عدالتوں میں اضافہ کرنے پرغور کررہی ہے۔

اس سلسلے میں 173نئی عدالتوں کاتخمینہ لگایا گیا ہے جو فوری طور پر مقدمات نمٹانے کے لیے ضروری ہیں ، ایکسپریس کے استفسار پر وزارت قانون کے ذرائع نے بتایاکہ سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے انھیں نئی عدالتوں کے قیام کے لیے سفارشات موصول ہوگئی ہیں ،سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد اس بارے میں باقاعدہ سوچ بچار کی جائیگی ، ذرائع کے مطابق80مجسٹریٹس ، 49ایڈیشنل وسیشن ججز اور 44سینئر سول ججوں کی نئی عدالتوں کی سفارش کی گئی ہے تاہم رات گئے صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے بتایاکہ وہ اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ عوام کو جلد انصاف ملنا چاہیے، اس سلسلے میں مختلف تجاویز زیرغور ہیں ، حکومت نے پہلے شام کو عدالتیں قائم کرنے کی بھی تجویز دی تھی تاہم وکلاء برادری نے اس پر مثبت ردعمل ظاہر نہیں کیا۔




اب 173نئی عدالتوں کے قیام کے متعلق سندھ ہائیکورٹ کی سفارشات آئی ہیں، حکومت اس کاجائزہ لے گی ، پیپلزپارٹی کی حکومت چاہتی ہے کہ شہریوںکوفوری انصاف فراہم کیا جائے تاہم نئی عدالتوںکے لیے انفراء اسٹرکچر بھی ضروری ہے، کراچی میں صورتحال یہ ہے کہ پہلے سے موجود عدالتوں کے لیے جگہ نہیں ہے، سٹی کورٹ حفاظتی نکتہ نظر سے مناسب مقام پر نہیں ، انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں منتقل کرنے کے لیے جگہ تلاش کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ سندھ میں خالی عدالتوں میں ججوںکی بھرتی کا عمل جاری ہے ،اس سلسلے میں گزشتہ ماہ 40سے زائد سینئر سول ججوںکی اسامیوں پر بھرتیاںکی گئی ہیں ۔

Recommended Stories

Load Next Story