انتخابات بل 2017 کی صائب منظوری

گزشتہ عام انتخابات کی شفافیت اور انتخابی عمل میں خامیوں کے باعث تنازعات نے جنم لیا

گزشتہ عام انتخابات کی شفافیت اور انتخابی عمل میں خامیوں کے باعث تنازعات نے جنم لیا ۔ فوٹو: فائل

جمہوریت کا حسن ' اختلاف رائے' کوکہا جاتا ہے اور اختلاف رائے کو 'متفقہ رائے' میں تبدیل کرنے کا عمل پارلیمنٹ میں ہی طے کیا جاتا ہے۔ ملک میں آیندہ عام انتخابات کے انعقاد میں چند ماہ کا عرصہ باقی ہے، جمہوری عمل کو جاری وساری رکھنے کے لیے انتخابی اصلاحات لانے کا عمل انتہائی ضروری ہے۔ اسی حوالے سے ایک مثبت اور خوش آیند خبریہ ہے کہ قومی اسمبلی نے انتخابات بل 2017 اتفاق رائے سے منظورکرلیا ہے، جب کہ حکومت نے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں ترمیم کااعلان کیا ہے۔


گزشتہ عام انتخابات کی شفافیت اور انتخابی عمل میں خامیوں کے باعث تنازعات نے جنم لیا جو بالٓاخر احتجاجی دھرنوں کی نذر ہوئے ۔ موجودہ بل کے تحت الیکشن کمیشن کومکمل مالی وانتظامی خود مختاری اورہائیکورٹ کے اختیارات حاصل ہونگے، مذہب اور فرقے کو استعمال کرنے والوں کے لیے تین سال قید ہوگی،ایک سے زیادہ ووٹ ڈالنے والے کے لیے چھ ماہ قیدکی سزا ۔ قومی اورصوبائی اسمبلی کی جنرل نشستوں پرپانچ فیصد ٹکٹ خواتین کو دینے اورکسی بھی سیاسی جماعت کو ممنوعہ ذرایع سے فنڈز لینے پر پابندی کے علاوہ ایک لاکھ سے زائد چندہ دینے والے افرادکی فہرست کمیشن کومہیاکی جائے گی ۔ یہ تمام مندرجات انتہائی صائب ہیں جنھیں ہم شفاف انتخابات کی جانب ایک مثبت پیش رفت اور مستحسن قدم قرار دے سکتے ہیں گوکہ پی ٹی آئی نے اپنی انتخابی ترامیم رد ہونے پر قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا ، لیکن اسے بھی ہم جمہوریت کا حسن ہی کہیں گے جو اختلاف رائے کا حق دیتا ہے۔

وفاقی وزیرقانون کا کہنا تھا کہ آرٹیکل میں نااہلی کی مدت کاذکر نہیں،اس لیے ہمارے خیال میں نااہلی کی مدت5 سال سے کم ہونی چاہیے،حکومت آرٹیکل 62 اور 63 میںترمیم چاہتی ہے ہم اسے کمیٹی میں لے کر جائیں گے۔اس وقت ملک کی جو مجموعی سیاسی صورتحال ہے،اس میں فہم وفراست سے فیصلے کرنے اور سر جوڑکر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ اس کا بہترین فورم پارلیمنٹ ہی ہے اگر حکومت کوئی بھی ترمیم آئین میں لانا چاہتی ہے تو ضرور لائے لیکن تمام متعلقہ فریقین کی رائے سننے اس پر بحث ومباحثے کے بعد، کیونکہ جو مسائل پارلیمنٹ میں حل نہ ہوسکیں ان سے نادیدہ قوتیں فائدہ اٹھا کر جمہوری عمل کو نقصان پہنچاسکتی ہیں ۔ جمہوری ''ڈائیلاگ'' کا بہترین فورم پارلیمنٹ ہی ہے اسے مضبوط کرنا تمام سیاسی جماعتوں کی اولین ذمے داری ہونا چاہیے۔
Load Next Story