کرنٹ اکاؤنٹ جولائی تا جنوری 6 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سرپلس

تجارتی وفنانشل اکاؤنٹ منفی ہونے سے جنوری میں 15 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا خسارہ۔

تجارتی وفنانشل اکاؤنٹ منفی ہونے سے جنوری میں 15 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا خسارہ۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ کو جنوری 2013کے دوران 15کروڑ60لاکھ ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا جس کے باوجود جولائی تا جنوری کے 7 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس 6 کروڑ 20لاکھ ڈالر سرپلس رہا۔

اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق دسمبر 2012 میں کرنٹ اکاؤنٹ 66 کروڑ 50لاکھ ڈالر سرپلس رہا تھا تاہم تجارتی و فنانشل اکاؤنٹ خسارے کے سبب جنوری میں 15کروڑ60 لاکھ ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا، اسی ماہ ترسیلات زر1ارب90کروڑ ڈالر رہیںجبکہ دسمبر 2012کے مقابلے میں جنوری میں تجارتی خسارہ 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی کمی سے 1.122ارب ڈالر رہا، فنانشل اکاؤنٹ خسارہ دسمبر 2012میں 35 کروڑ 40لاکھ ڈالر تھا جو جنوری میں 8 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہا۔




اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے جاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 2ارب 79کروڑ 20لاکھ ڈالر کے خسارے میں تھا جو رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں یہ 6 کروڑ20 لاکھ ڈالر سرپلس رہا۔

جولائی2012 سے جنوری2013 کے دوران اشیا کا تجارتی خسارہ 8 ارب 77 کروڑ 40 لاکھ ڈالر جبکہ اشیا و خدمات کا تجارتی خسارہ 8 ارب 69 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا، جولائی تاجنوری کے دوران فنانشل اکاؤنٹ خسارہ 73کروڑ90 لاکھ ڈالر رہا،اس دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 8ارب20کروڑ70لاکھ ڈالر وطن بھیجے جبکہ کیپٹل اکاؤنٹ18کروڑ10لاکھ ڈالر سرپلس رہا۔
Load Next Story