پی ایس او نے تیل کی فراہمی میں 3 ہزار ٹن یومیہ کمی کردی
واجبات ادا نہ کرنے پر بجلی گھروں کو 16 ہزار کے بجائے 13 ہزار ٹن تیل دیا جارہا ہے، ذرائع
10.5 ارب سے ایل سی نہیں کھولی جاسکتی، آئندہ ہفتے مزید 35 ارب درکار ہونگے، ترجمان۔ فوٹو : فائل
پاکستان اسٹیٹ آئل نے مالی بحران کے باعث بجلی گھروں کو تیل کی فراہمی میں3ہزار ٹن یومیہ کی کمی کردی۔
پی ایس او ذرائع کے مطابق بجلی گھروں کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی کے بعد تیل کی یومیہ فراہمی16ہزار ٹن سے کم کرکے 13 ہزار ٹن یومیہ کردی گئی ہے۔
دوسری جانب ترجمان پی ایس او کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ روز ساڑھے 10 ارب روپے کی رقم فراہم کی گئی ہے تاہم یہ رقم فرنس آئل کی درآمد کیلیے لیٹر آف کریڈٹ کھولنے کیلیے ناکافی ہے اورکمپنی کو آئندہ ہفتے مزید35 ارب روپے درکار ہونگے۔
ترجمان پی ایس او کا کہنا ہے کہ اب بھی کمپنی نے ریفائنریوں،کویت پٹرولیم کمپنی اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی مد میں 150 ارب روپے سے زائد ادا کرنے ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ مالی معاملات کے حوالے سے حالات انتہائی سنگین ہیں اور اگر حکومت کی جانب سے مزید رقم نہ ملی تو آئندہ ہفتے صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔
پی ایس او ذرائع کے مطابق بجلی گھروں کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی کے بعد تیل کی یومیہ فراہمی16ہزار ٹن سے کم کرکے 13 ہزار ٹن یومیہ کردی گئی ہے۔
دوسری جانب ترجمان پی ایس او کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ روز ساڑھے 10 ارب روپے کی رقم فراہم کی گئی ہے تاہم یہ رقم فرنس آئل کی درآمد کیلیے لیٹر آف کریڈٹ کھولنے کیلیے ناکافی ہے اورکمپنی کو آئندہ ہفتے مزید35 ارب روپے درکار ہونگے۔
ترجمان پی ایس او کا کہنا ہے کہ اب بھی کمپنی نے ریفائنریوں،کویت پٹرولیم کمپنی اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی مد میں 150 ارب روپے سے زائد ادا کرنے ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ مالی معاملات کے حوالے سے حالات انتہائی سنگین ہیں اور اگر حکومت کی جانب سے مزید رقم نہ ملی تو آئندہ ہفتے صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔