سانحہ بلدیہ پولیس اور فارنسک ایجنسی کی رپورٹس طلب
ڈی این اے ٹیسٹ میں تاخیر پر برہمی، تفصیلی رپورٹ بھی پیش کرنے کا حکم
ڈی این اے ٹیسٹ میں تاخیر پر برہمی، تفصیلی رپورٹ بھی پیش کرنے کا حکم فوٹو: فائل
جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے سانحہ بلدیہ میں ہلاک ہونے والوں کے ڈی این اے ٹیسٹ میں تاخیرپربرہمی کااظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر نیشنل فارنسک سائنس ایجنسی(این ایف ایس اے)، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ڈی آئی جی ویسٹ کوآئندہ سماعت پر پیشرفت سے متعلق رپورٹ کے ساتھ طلب کرلیا ہے۔
عدالت نے لاشوں کے ڈی این اے کے حوالے سے بھی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے اور عدالتی حکم پر عمل درآمد کیلیے کیے جانیوالے اقدامات سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی پیش کرنیکا حکم دیاہے، جمعہ کو سماعت کے موقع پر تفتیشی افسر انسپکٹر جہانزیب نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے انتہائی کوشش کی لیکن عدالتی حکم سے آگاہ کیے جانے کے باوجود ڈائریکٹر این ایف ایس اے عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی انھوں نے کسی کو نامزد کیا،تفتیشی افسر نے بتایا کہ ڈائریکٹر این ایف ایس اے کو متعلقہ حکام کی جانب سے کراچی آنے کی اجازت نہیں ملی، فاضل بینچ نے ہدایت کی کہ ڈائریکٹر این ایف ایس اے کراچی آمد کیلیے متعلقہ سیکریٹری کو دی گئی درخواست کی تفصیلات سے عدالت کوآگاہ کریں۔
خرم احمد سمیت 20سے زائد درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ 11ستمبر2012کو علی انٹر پرائزز میں آتشزدگی کے باعث ان کے پیارے جاں بحق ہوگئے تھے مگر ان کے پیاروں کی لاشیں تاحال ان کے حوالے نہیں کی گئیں،کئی لاشیںناقابل شناخت ہیں مگر6ماہ گزرنے کے باوجود ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ نہیں آئی، درخواست گزار ہلاک ہونیوالے اپنے پیاروں کی نماز جنازہ اور تدفین سے بھی محروم ہیں جو کہ ایک دینی فریضہ ہے، درخواست گزاروں کو اپنے پیاروں کی اجتماعی نمازجنازہ ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔
علی انٹرپرائززکے مالکان کے وکیل رضا نقوی نے عدالت کو بتایا کہ ناقابل شناخت لاشوں کے لواحقین کے دکھ کو مدنظررکھتے ہوئے 13سے15خاندانوں کو فی خاندان 50ہزار روپے اداکیے جا چکے ہیں،پائلر سمیت دیگر تنظیموں کے وکلاء فیصل صدیقی اور وسیم اقبال ایڈووکیٹس کی جانب سے دائر کردہ متفرق درخواست میں کہا گیا ہے کہ سانحہ بلدیہ میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد سے متعلق مختلف سرکاری حکام کے بیانات میں تضاد ہے اس لیے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کی جائے۔
عدالت نے لاشوں کے ڈی این اے کے حوالے سے بھی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے اور عدالتی حکم پر عمل درآمد کیلیے کیے جانیوالے اقدامات سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی پیش کرنیکا حکم دیاہے، جمعہ کو سماعت کے موقع پر تفتیشی افسر انسپکٹر جہانزیب نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے انتہائی کوشش کی لیکن عدالتی حکم سے آگاہ کیے جانے کے باوجود ڈائریکٹر این ایف ایس اے عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی انھوں نے کسی کو نامزد کیا،تفتیشی افسر نے بتایا کہ ڈائریکٹر این ایف ایس اے کو متعلقہ حکام کی جانب سے کراچی آنے کی اجازت نہیں ملی، فاضل بینچ نے ہدایت کی کہ ڈائریکٹر این ایف ایس اے کراچی آمد کیلیے متعلقہ سیکریٹری کو دی گئی درخواست کی تفصیلات سے عدالت کوآگاہ کریں۔
خرم احمد سمیت 20سے زائد درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ 11ستمبر2012کو علی انٹر پرائزز میں آتشزدگی کے باعث ان کے پیارے جاں بحق ہوگئے تھے مگر ان کے پیاروں کی لاشیں تاحال ان کے حوالے نہیں کی گئیں،کئی لاشیںناقابل شناخت ہیں مگر6ماہ گزرنے کے باوجود ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ نہیں آئی، درخواست گزار ہلاک ہونیوالے اپنے پیاروں کی نماز جنازہ اور تدفین سے بھی محروم ہیں جو کہ ایک دینی فریضہ ہے، درخواست گزاروں کو اپنے پیاروں کی اجتماعی نمازجنازہ ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔
علی انٹرپرائززکے مالکان کے وکیل رضا نقوی نے عدالت کو بتایا کہ ناقابل شناخت لاشوں کے لواحقین کے دکھ کو مدنظررکھتے ہوئے 13سے15خاندانوں کو فی خاندان 50ہزار روپے اداکیے جا چکے ہیں،پائلر سمیت دیگر تنظیموں کے وکلاء فیصل صدیقی اور وسیم اقبال ایڈووکیٹس کی جانب سے دائر کردہ متفرق درخواست میں کہا گیا ہے کہ سانحہ بلدیہ میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد سے متعلق مختلف سرکاری حکام کے بیانات میں تضاد ہے اس لیے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کی جائے۔