آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے محنتی

شہر میں عدم توجہ سے تباہ ہونے والے پارکوں کوجلد بحال کیا جائے، جماعت اسلامی

شہر میں عدم توجہ سے تباہ ہونے والے پارکوں کوجلد بحال کیا جائے، جماعت اسلامی. فوٹو: فائل

امیر جماعت اسلامی کراچی محمد حسین محنتی نے کہاکہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی موجودہ وفاقی حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں گندم کے سرکاری نرخوں میں 182 فیصد ( فی کلو گرام 19.37 روپے ) کااضافہ کرکے آٹے کی مد میں 18 کروڑ صارفین پر سالانہ تقریباً 535 ارب روپے کا مستقل بوجھ بڑھا دیا۔

عوام جو پہلے ہی دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں اب ان پر آٹا مہنگا کرکے مزید مہنگائی کا بوجھ لاد دیا گیا ہے، آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے، انھوں نے کہاکہ وافرمقدار میں گندم ہونے کے باوجودآٹے کا بحران سمجھ سے بالاتر ہے، آٹے کی قیمتوں میں کراچی میں من مانے اضافے پر اپنے شدید ردعمل کااظہار کرتے ہوئے محمد حسین محنتی نے کہا کہ اس شہر کے باسیوں کا کوئی پرسان حال نہیں، انھوں نے متنبہ کیا کہ آٹے کے مصنوعی بحران کو کنٹرول کرنا ناگزیر ہے۔




علاوہ ازیں جماعت اسلامی کے سابق اراکین اسمبلی مظفرہاشمی، لئیق احمد خان، نصراللہ خان شجیع، حمید اللہ خان ایڈووکیٹ اوریونس بارائی نے کراچی میں پارکوں پر قبضے اور بلدیہ عظمی کراچی کی جانب سے توجہ نہ دیے جانے پر پارکوں کی تباہی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، انھوں نے مطالبہ کیا کہ شہر میں عدم توجہ سے تباہ ہونے والے پارکوں کوجلد بحال کیا جائے۔
Load Next Story